رمضان کی آمد یا مہنگائی کے طوفان کی آمد؟

(Anwar Baig, Islamabad)
رمضان کے تمام فوائید بڑے لوگوں کو حاصل ہیں اور عام آدمی کا انتہائی چالاکی سے اقتصادی قتل عام کیا جاتا ہے تاہم کوئی بھی شرمندہ نہیں؟

مسلمان اس ماہ مقدس میں ایک دوسرے کا بد ترین استحصال کرتے ہیں،صرف راولپنڈی کے عوام کو اس ما ہ مقدس میں سبزیوں اور پھلوں پر چھ کرو ڑ سے زائید روزانہ اضافی رقوم ادا کرنی ہوں گی ، اور یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔

ماہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی عوام کو لوٹنے کی منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے اور سبزیوں اور پھلوں کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں جبکہ سرکاری اداروں کی حسب سابق وہی پرانی رٹ ہے کہ مہنگائی کو ہر صورت قبول نہ کیا جائے گا ، عوام کے لئے سستے بازار لگائے جائیں گے،مہنگی اور غیر معیاری اشیا بیچنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

ایک سروے کے مطابق روز مرہ استعمال کی سبزیوں اور پھلوں کے نرخ سو فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ سروے کے مطابق چند سبریوں کی قیمتیں درج ذیل ہیں جن کے بھاؤ میں تیز رفتار اضافے نے غریب کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظا میہ ان تمام حالات سے بے خبر دکھائی دیتی ہے۔گو کہ لوگوں کو فریب دینے کے لیے سستے بازاروں کا ڈھونگ بھی رچایا گیا ہے جہاں خادم اعلی کی بلند و بالا تصویریں آویزاں کی گئی ہیں تاہم ان بازاروں میں بھی اشیائے خورو نوش کے نرخ ملک کی چالیس فیصد آبادی کی دسترس سے بالا ہیں اور یہاں بھی لوگوں کو غیر معیاری اور مہنگی اشیا دی جا رہی ہیں جو انکی شرح آمدنی سے کہیں بالا ہیں۔درج زیل نرخوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے حکران ہمارے بارے میں کس قدر پریشان ہیں اور وہ ہمارے اقتصادی مسائل کے حل کے لئے ناقابل یقین جدوجہد کر رہے ہیں
۱۔آلو،
۲۔پیاز،
۳۔ٹماٹر،
۴۔مٹر ،
۵۔گوبھی،شلغم،
۶۔ٹینڈے ،
۷۔بھنڈی،
%۸۔مولی،تربوز،۲۵،۴۰
۹۔کریلے ،
سیب،خوبانی،۱۵۰
%ناشپاتی،خربوزہ،۱۰۰
-کیلا،لیموں،۳۰۰،۱۶۰،۳۲۰
'کھجور،انگور،۲۰۰،۳۰۰
!آم،آڑو،۲۵۰،۲۴۰
3فیکس آمدنی ۔۲ ڈالر یومیہ
Wکرائے کے مکان پر رہنے والے۔۶۰ فیصد سے زائید
9اوسط کھرانہ تعداد۔۶،۷ افراد
-ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان کی آمد سے تقریبا ایک ماہ قبل یہ ساری منصوبہ بندی کر لی جاتی ہے اور رمضان کی آمد پر تمام اشیا کے نرخ ایک سو سے لے کر تین سو روپے تک بڑ ہا دئے جاتے ہیں اس طرح صرف راولپنڈی کے شہریوں کو روزانہ سبزیوں اور پھلوں پر چھ کروڑ سے زائید رقوم ادا کرنی پرتی ہیں جبکہ لوٹ مار کے اس غیر قانونی دھندے میں ضلعی انتظامیہ برابر کی شریک ہوتی ہے تاہم لوگوں لو جل دینے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نام نہاد چھاپے بھی مارے جاتے ہیں جو کل چور بازاری کا ایک فیصد بھی قابو نہیں کر پاتے بلکہ مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بنتے ہیں۔اس کے علاوہ لوگو ں کو سر عام غیر معیاری دودھ اور دہی فروخت کیا جا رہا ہے جو انسانی زندگیوں کے لئے انتہائی مضر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مسلمان ماہ رمضان میں ایک دوسرے کا باقائیدہ منصوبہ بندی کے ساتھ استحصال کرتے ہیں ۔جبکہ دنیا بھر میں ماہ رمضان میں تمام اشیا کی قیمتں کم کی جاتی ہیں اور ان کے معیار کا خاص خیال بھی رکھا جاتا ہے۔

سال ۲۰۱۶ کے اعدادوشمار کے مطابق بھی عوام پر اسی طرح کے مظالم جاری رہے اور ان کا اقتصادی استحصال انتہائی جوش و جذ بے کے ساتھ جاری رہا جو آج بھی اسی شدو مد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔قانون کی حکمرانی کی باتیں اور ہمارے حکمرانوں کے اصل چلن اور عوام کے ووٹ کی عزت کی باتیں کرنے والوں کے لئے اس میں کوئی سبق نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anwar Baig

Read More Articles by Anwar Baig: 19 Articles with 8901 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 May, 2018 Views: 244

Comments

آپ کی رائے