دیوانگی کے رنگ : ناولٹ : قسط نمبر ۔۱

(Atiya Adil, Islamabad)
ایک ایسی لڑکی کی کہانی جو خوابوں کے تانے بانے بنتی رہتی تھی ۔

اس روز مسز ارسلان کو میو ہسپتال کے لیبر روم کے باہر بیٹھا دیکھ کر میرے قدم خود بخود سست پڑنے لگے۔ وہ بے حد مضمحل اور اداس نظر آ رہی تھیں ۔جی چاہا کہاآگے بڑھ کر ان سے حال احوال دریافت کروں ۔
”اب آ بھی جاؤ افشی کی بچی ! پہلے ہی دیر ہو رہی ہے ۔”
سیما کی تیز آواز میری سماعت سے ٹکرائی تو میں گھبرا کر اس کی طرف دوڑی معاملہ ہی کچھ ایسا تھا۔ پھپھو جان کے پّتے کا آپریشن ہونے میں آدھ گھنٹہ رہ گیا تھا۔ میں اور سیما بمشکل دوائیں اور ڈرپ وغیرہ کا بندوبست کر کے بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچے تھے۔ سیما میری پھپھو ڑاد تھی اور تقریباً میری ہی ھم عمر بھی ۔ ھم دونوں بی اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تو سیما نے ایک پرائیوٹ سکول میں بطور ٹیچر ملازمت اختیار کر لی ۔ جبکہ مجھے اس نے کراچی سے لگاتار فون کالز کر کے لاہور بلا لیا۔ اچھا بھلا وقت ہنستے کھیلتے گزر رہا تھا کہ اچانک پھپھو جان درد سے بے حال ہو کر بے ہوش ہو گئیں ۔
اس وقت رات کا کوئی ایک بجا تھا ۔ گھر میں کوئی مرد بھی نہ تھا ۔ پھپھپا جان کا تو برسوں پہلے انتقال ہو چکا تھا ۔ ان کے دو ہی بچے تھے، جنید اور سیما ۔ جنید بسلسلہ روزگار کینڈا میں مقیم تھے ۔ وہ تو خدا کا شکر تھاکہ سیما نے بھلے وقتوں میں جنید سے گاڑی چلانا سیکھ لی تھی ۔ ہم دونوں نے جیسے تیسے پھپھو جان کو گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال پہنچا دیا ۔ بعد میں ایمبولینس نہ بلا نے پر جنید سے خوب ڈانٹ پڑی ۔
ڈاکٹروں نے فوری طور پر پتّے کو نکالنا تجویز کیا۔ سیما بیچاری بوکھلا کر رہ گئی ۔ فوری طور پر جنید کو کال ملا کر اطلاع دی گئی ۔ بہرحال انہوں نے ہمیں تاکید کی کہ آپریشن کرانے میں تاخیر نہ ہو ۔ ان کے تسلّی کے دو بولوں نے ہماری ہمت بندھادی ۔
خدا خدا کر کے پھپھو آپریشن سے فارغ ہو کر گھر واپس آئیں ۔ ملنے جلنے والوں کا تانتا سا بندھ گیا ۔
ایک شام کال بیل بجی ۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے مسز ارسلان کو کھڑے پایا ۔ بےحدنکھری نکھری اور تروتازہ لگ رہی تھیں ۔ آگے بڑھ کر انہوں نے میرا ماتھا چوم لیا۔
”کیسی ہے میری پیاری بیٹی ؟ تمہیں دیکھنے کو تو آنکھیں ترس گئی تھیں ۔ دراصل میں سیلکوٹ گئی ہوئی تھی ۔ واپس آکر پتا چلا کہ تمہاری پھو پھو کی طبیت خراب ہے ۔ اب کیا حال ہے؟ “
اور میں دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ ابھی کچھ دن پہلے میں نے انہیں ہسپتال میں دیکھا تھا ۔ یہ سیالکوٹ کب گئٰیں ؟ (جاری ہے !)


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atiya Adil

Read More Articles by Atiya Adil: 17 Articles with 11810 views »
Pursing just a passion of reading and writing ... View More
25 May, 2018 Views: 490

Comments

آپ کی رائے