تنہائی یا شناسائی

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

زندگی میں کچھ وقت ایسے ضرور آتے ہیں جب آپ تنہا محسوس کرتے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ آپ جسمانی بطور پر ہی اکیلے ہوں بلکہ یہ اکیلا پن جسمانی نفسیاتی یا بے یارو مددگار ہونے کا احساس بھی ہو سکتا ہے اور آپ اپنوں دوستوں کی محفل میں بھی تنہائ کا شکار ہو سکتے ہیں

میرا زاتی تجربہ بھی رہا ہے کہ اگر میں اندر سے مطمئن ہوں تو میرے لیے محفل بھی کشش کا باعث ہوتی ہے اور اکیلے میں بھی رونق اور دلچسپیاں موجود ہوتی ہیں اور اگر افسردگی ہو تو تنہا بھی تنہا اور محفل میں بھی تنہا

بات ہو رہی تھی تنہائ محسوس کرنے کی تو یہ بھی میرے خیال میں کچھ مقصد لیے ہوتی ہے جسے ہم سمجھ نہیں پا رہے ہوتے ہیں۔
یہ ہمیں سوچنے کا موقع فراہم کر رہی ہوتی ہے کہ ہم ایک بار دوبارہ سوچیں کہ زندگی کے مقاصد میں کوئ تبدیلی کی ضرورت تو نہیں ؟
خود پر انحصار اور در حقیقت خدا پر بھروسہ کا احساس یا اس دنیا میں کسی نۓ رستہ کا اشارہ اور کوئ نیا در کُھلنا بھی ہو سکتا ہے ۔

اکیلا پن ہمیں اپنے آپ سے قربت مادّی وسائل سے فُرقت روح پر توجہ کی فُرصت اور خُدا کی نصرت کا پتہ بھی دیتا ہے بشرط یہ کہ وہ کوئ نفسیاتی بیماری یا اپنے نا مناسب رویہ کی وجہ سے نتیجتاً خلق سے دوری نہ ہو

سب کے ہوتے اور سب کچھ ہوتے بھی تنہائ اس بات کا بھی پتہ دیتی ہے کہ دُنیا صرف یہ دنیا نہیں ، کوی اور دُنیا بھی ہے جو ہماری مُنتظر ہے ۔ یہ انا کے ٹوٹنے کا وقت بھی ہوسکتا ہے جو بڑا قیمتی وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی بھی ہوسکتی ہے

اکیلا پن آپ کو اپنی چُھپی ہوی صلاحیتوں کو کھوجنے کا موقع اور نۓ خوشگوار رشتوں کی آمد کی خوشخبری بھی ہو سکتا ہے پرانے رشتوں میں پڑی دراڑوں کی مرمت کا سامان اور دُرستگی یا پھر خوشگوار لا تعلقی کی طرف قدم ، ترجیحات کے تعیّن کے لیے وقفہ اور سمت کی درستگی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے

زندگی میں کوئ اہم تبدیلی یا نیا باب شروع ہونے سے پہلے میں ہمیشہ ایک عجیب صورت حال ، تنہائ اور اُداسی سے گُزارا گیا اور پھر نۓ باب کی شروعات خوشی اعتماد اور سکون کے ساتھ قدرت کی طرف سے عطا کی گئیں

یاد رہے کہ یہ وہ تنہائ کی صورت ہے کہ مصروفیت ہوتے رونق کو پسند کرتے اور ان کی افادیت محسوس کرتے اگر ایسی کیفیت سے واسطہ پڑ جاۓ یا تجرباتی طور پر خود اختیار کی جاۓ کہ کسی تخلیقی کام کو انجام دینا ہو جو خود ایک رونق اور محفل سجاۓ بیٹھا ہوتا ہے ۔
آج کل ایک ایسا اون لائن سلسلہ جو اکیلا ہو کر بھی مجمع سجاۓ اور تعلق بناۓ جلوہ افروز ہوتا ہے
ایک شکل اپنا احتساب کرنا بھی ہو سکتا ہے

تنہائ میں اپنے ساتھ بیٹھ کر ہی اپنے آپ سے واقفیت غلطیوں کی نشاندہی اور روح سے شناسائ حاصل کی جا سکتی ہے اور اس مُراقبہ سے یہ بات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگتی ہے

"جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اُس نے خُدا کو پہچان لیا "

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 90877 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2018 Views: 325

Comments

آپ کی رائے