عمرانی علوم کی اہمیت اور ضرورت

(Muhammad Abu Sufyan Awan, Lahore)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج کا دور سائنس کا دور ہے ۔ نت نئی ایجادات اور اختراعات وانکشافات نے انسانی زندگی کو سہل اور رنگین بنادیا ہے۔ ماضی قریب میں جو کام ناممکن اور مشکل سمجھے جاتے تھے آج سائنس کی بدولت بازیچہ اطفال معلوم ہوتے ہیں۔ سائنس نے اقوامِ عالم کے درمیان دوریوں کی خلیج کو پاٹ کر رکھ دیا ہے آج دنیا گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ آج "ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں" کے مقولے کو عملی شکل مل چکی ہے جدید راکٹ سائنس اور سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت آج بندہِ خاکی خلا میں اپنی حاکمیت قائم کرچکا ہے۔ سائنسی ترقی اور ترویج کے اس دور میں لوگ نت نئی کارناموں کو انجام دینے کی فکر میں اپنی اصل اور بنیاد سے ہٹتے چلے جا رہے ہیں روشنیوں کی چمک اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ انہیں صراط مستقیم سے دور لے جارہی ہے۔

کلاس اول سے لے کر میٹرک تک کا نصاب ادارے یا پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا تجویز کردہ ہوتا ہے اس میں طلباء کو تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہوتا- انہیں اسی نصاب کے مطابق اپنی تعلیم کو جاری رکھنا ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس میٹرک کے بعد طلباء کو اپنے شوق اور رغبت کے پیشِ نظر اپنی پسند اور علم و عقلی استعداد کے مطابق مضامین کے چناؤ کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ مرحلہ طلباء کے لئے بڑا کھٹن ہوتا ہے ۔ اساتذہ،والدین اور دوستوں کے ترغیب دلانے پر طالبعلم مضامین اختیار کر لیتا ہے جو کہ بعد میں اس کے عقل و شعور سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں دیکھا دیکھی کا رجحان عام ہے اسی وجہ سے موجودہ دور میں طلباء میں عمرانی مضامین کے مقابلے میں سائنسی مضامین اختیار کرنے کا رجحان بتدریج بڑھتا چلا جارہا ہے۔

طلباء سائنسی مضامین کے مقابلے میں عمرانی مضامین کو کمتر اور فرسودہ خیال کرتے ہیں اور دور حاضر میں ان سے کنارہ کش نظر آتے ہیں۔

کیا عمرانی علوم کی اہمیت سائنسی علوم کے مقابلے میں کم ہے؟

یا

آج کے جدید دور میں نونہالان وطن کی تعلیم و تربیت ان کے بغیر ممکن ہے؟

عمرانی علوم ہمارے طلباء میں انسانیت سے محبت٬ ان کی سوچ و فکر کو مثبت انداز میں پروان چڑھانے،ان کے اندر حب الوطنی اور مقصد حیات سے روشنائی پیدا کروانے میں کیسے کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عصر حاضر میں سائنسی علوم کا حصول اور ان میں تحقیق وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے

لیکن ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ عمرانی علوم کسی بھی قوم کی اساس ہوتا ہے جو صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

عمرانی علوم نسل نو میں خوداری،خوداعتمادی، آبا واجداد سے محبت،انسانیت سے پیار،ظلم سے نفرت اور مقصد حیات سے روشناس کرواتے ہیں

عمرانی علوم ہی علامہ اقبال رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کے خواب

"خودی میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی"

کو عملی جامہ پہنانے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔

عمرانی علوم ہی انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں اور اور دوسرں سے محبت اور اقوام عالم سے بہتر اور برابری کے تعلقات کو فروغ دینے میں مدد دیتے ہیں ۔عمرانی علوم تہذیبی اور ثقافتی ورثے تاریخی انسانی کے محافظ ہوتے ہیں اور دنیا کی دوسری اقوام اور ممالک کے لوگوں کے تہذیب و تمدن،آداب معاشرت اور اقدار و روایات سے آگاہ کرتے ہیں

عمرانی علوم لوگوں کے کردار اور اخلاق کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس سائنسی مضامین اور سائنسی ایجادات لوگوں میں مقابلے کے رجحان کو فروغ دیتی ہیں۔

عمراﻧﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ،ﺳﻮﺷﯿﺎﻟﻮﺟﯽ ،ﻣﻌﺎﺷﯿﺎﺕ،
سیاسیات،سوشل سائنس،فنون لطیفہ، ﻟﭩﺮﯾﭽﺮ،ﻋﻠﻢ ﺍﻟﺘﻌﻠﯿﻢ ،ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﻓﺖ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ﺍِﻥ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭّﻝ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ-اور انہیں فرسودہ اور متروک خیال کیا جاتا ہے۔ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺤﺾ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻃﻠﺒﮧ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﮞ، ﺍُﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮧ ﮨﻮ ،ﻭﮦ ﻋﻤﺮﺍﻧﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻤﺖ ﺁﺯﻣﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ عمرانی مضامین اختیار کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انکو کم علم گردانا جاتا ہے۔

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻤﺮﺍﻧﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮈﮔﺮﯾﺎﮞ ﻟﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ ،ﺍُﻥ ﮐﻮﺍُﻥ ﮐﮯ ﺭُﺗﺒﮯ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ’’ ﻋﺰﺕ ‘‘ ﻧﮩﯿﮟ ﺩِﯼ ﺟﺎﺗﯽ۔ﺟﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﻣﻀﺎ ﻣﯿﻦ ﭘﮍﮬﻨﺎ ’’ ﻓﯿﺸﻦ ‘‘ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﺭُﺟﺤﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮯ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺟﻦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﺍﯾﮏ ﺩِﮨﺎﺋﯽ ﻗﺒﻞ ﺟﺐ ’’ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮﺳﺎﺋﻨﺲ ‘‘ ﮐﮯ ﻓﺎﺿﻞ ﺍ ﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ۔ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍﺳﻤﺎﺝ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﻓﺎﺿﻞ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﻑ ﻧﺎﮎ ’’ ﮨﺠﻮ ﻡ ‘‘ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﻮ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺎ ۔ﺍِﺱ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻼ ﮐﮧ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺍِﺗﻨﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﻮ ﻧﻮﮐﺮﯾﺎں ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮ ﻧﮯ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺍُﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ،ﺍِﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ۔

ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺏ ﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺗﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍِﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﻤﺴﭩﺮﯼ،ﻓﺰﮐﺲ ﺍُﻭﺭ ﺑﯿﺎﻟﻮﺟﯽ ﮔﻮﯾﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭِﯾﺎﺳﺖ ﺍُﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ﻧﻮﮐﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ۔ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍِﻥ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﺍﻟﺘﺤﺼﯿﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﮐﺮﯾﺎﮞ ﺍِﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ حکمران طبقہ یہ چاہتا ہے کہ لوگو ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺷﻌﻮﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔ﻟﯿﮑﻦ ’ ﺍﻃﻼﻗﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ‘ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮈﮔﺮﯾﺎﮞ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ’ ’ ﺍﭘﻼﺋﯽ ‘‘ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍَﺏ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧِﺸﺎﻥ ﮨﮯ ‘‘! ۔

ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﻃﻼﻗﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻣﯿﮟ ﮈﮔﺮﯾﺎﮞ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺭُﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺭُﺟﺤﺎﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ؟۔ﺍُﻭﺭ ﺟﺐ ’’ ﮨﺠﻮﻡ ‘‘ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻃﺮﻑ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ -

یہ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺭﭨﺲ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ’’ ﺳﯿﺎﺳﯿﺎﺕ ‘‘ ﮐﺎ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺍُﻭﺭ ﭘﮭﺮ ’’ ﺳﯿﺎﺳﺖ ‘‘ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﺒﻀﮧ ﮨﮯاس لئے وہ ان علوم کے فروغ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ ﻋﻤﺮﺍﻧﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻧﮯ ﺳﮯ انسان میں ظلم واستبداد کے نظام کے خلاف اور پستیوں میں گرتی ہوئی انسانیت کو سہارا دینے کے لیے ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺗﺎ ﮨﮯ جو کہ پاکستان میں اقتدار کے مالکان کو گوارہ نہیں ہے

معاشرہ اس وقت تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے ، اس کڑے وقت میں سماجی و عمرانی علوم کے سنہری اصولوں کی معاشرے میں تبلیغ وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے

امیر اور حکمران طبقات چاہتے ہیں کہ استحصالی نظام قائم رکھا جائے اورجاگیردار، سرمایہ دار طبقہ کےسامراجی مقاصد پورے ہوتے رہیں اور نوجوانوں کے اندر قومی ترقی کے لئے اجتماعی فکر بیدار نہ ہوسکے۔

آج ہمیں اپنے نظام تعلیم کا مکمل جائزہ لینا ہو گا۔ کہ کیا یہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے مطابق ہے؟ اس کا نظریہ آزاد قوم کا ہے یا غلام قوم کا ہے؟ کیونکہ زوال شدہ معاشرے میں فرسودہ نظام تعلیم کی پہچان جذباتیت، انفرادیت، سرمایہ وشخصیت پرستی اور تاریخ سے لا علمی ہوتی ہے۔ اور اسی نظام کے تحت انفرادی ترقی، خود غرضی اور انفرادی اصلاح کے تصورات غالب آ جاتے ہیں۔ اور قومی اداروں کی تشکیل، اہمیت اور اثرات کا تصور موہوم اور ناپید ہو جاتا ہے۔ تاریخ سے لاعلمی اور یاد داشت کی کمزوری جیسے امراض کی وجہ سے ہر بار ایک نئے دھوکے کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ ایسے میں سب سے اولین اور بنیادی کام نوجوانوں کوجذباتیت، انفرادیت اور شخصیت پرستی سے نکال کر علم، عقل و شعور، اجتماعی جد و جہداور تاریخی تسلسل کی طرف لے کر جاناہے۔ پھر ہی ایک بہتر اور خوشحال معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔

جدید سائنسی تعلیمی انسان کو معاشرتی اقدار سے دور کرتی ہے اور انسان میں الحادی فکروں کو پروان چڑھاتی ہے ۔ انسان کو اجتماعیت اور حقیقت پسندی جیسی عادات سے کنارہ کش کردیتی ہیں۔ خود غرض اور نفس کی پیروی پر آمادہ و تیار کرتی ہیں۔مذہب سے دوری اور اخلاقی دیوالیہ پن جدید سائنسی تعلیمات کے اثرات ہیں۔

جبکہ

آرٹس یا عمرانی علوم انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تہذیبی اور ثقافتی ورثے اور تاریخی روایات کو زندہ رکھنے اور معاشرے میں رواج دینے میں زینے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان رشتے کو مضبوط کرتے ہیں۔ ایثار،قربانی،رواداری اور وطن پرستی جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں اور انسان کو اس کے اصل سے روشناس کرواتے ہیں۔

انہی علوم اور مضامین کی بدولت انسان میں آگاہی اور خودشناسی پیدا ہوتی ہے۔ انسان خودار ہوجاتا ہے اور یہی خودداری اس کے لیے کامیابی و کامرانی کا باعث بنتی ہے۔

جبکہ جدید سائنسی تحقیقات اور علوم قوموں اور ملکوں کے درمیان دوریوں اور نقصان دہ مقابلے کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ ہر شخص اور ملک دوسرے پر حکمرانی اور قبضے کے خواب دیکھتا ہے اور اپنے مخالف کو اندرونی اور بیرونی طور پر کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔مفاد پرستی اور دوسروں کا استحصال عام ہوجاتا ہے۔

علامہ اقبال نے جدید سائنسی علوم کے متعلق ہی کہا تھا کہ !!

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا اِلحاد بھی ساتھ

اور

کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

اور

شکایت ہے یا ربّ مجھے خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ دور جدید کے تقاضوں اور رفتار زمانہ کا ساتھ دینے کے لیے سائنسی علوم میں مہارت ازحد ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی اقدار و روایات کے امین اور اخلاقی و معاشرتی نظریات و تصورات کے محافظ عمرانی مضامین کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی ہوگی تب ہی ہم حقیقی معنوں میں ترقی اور اوج کمال حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے آباء کے وارث بن سکت ہیں

وگرنہ

بقول شاعر مشرق!

گنوادی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abu Sufyan Awan

Read More Articles by Muhammad Abu Sufyan Awan: 18 Articles with 11906 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jun, 2018 Views: 3097

Comments

آپ کی رائے