ڈاکٹرمہاتیر محمد، ملائیشیا اور پاکستان

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

بانوے سالہ عظیم راہنما ڈاکٹر مہا تیر محمد ایک بار پھر ملائیشا کے انتخابات میں کامیاب ہو چکے ہیں انھوں نے موجودہ وزیر اعظم نجیب رزاق کے خلاف الیکشن لڑا اور کامیابی سے جیتنے میں کامیاب ہو گئے کیوں نہ ہوتے ملائیشیا آج جس مقام پر کھڑا ہے اس کا سہرا بھی مہاتیر محمد کو ہی جاتا ہے ملائیشیا کو ترقی کی طرف گامزن کرنے والے ملائیشیا کے معمار مہاتیر محمد ہی ہیں مہاتیر محمد اس سے پہلے 1981سے 2003 تک ملائیشیا کے وزیر اعظم رہے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ملائیشیا کو ایک جدید ترین اور ترقی یافتہ ملک بنا دیا جس میں آج جمہوریت بھی ہے اسلامی اقدار بھی ہیں اور ترقی بھی ہو رہی ہے مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین حکمران ہیں اگر دل میں حب الوطنی کا جذبہ ہو اور ملک کو مزید ترقی دینے کی جستجو ہو تو پھر عمر آڑے نہیں آتی اﷲ تعالیٰ پاکستان کو بھی مہاتیر محمد جیسا لیڈر دے تا کہ پاکستان بھی ترقی کی طرف گامزن ہو سکے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس ملائیشیا سے زیادہ وسائل ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں کی عوام برتری کی زندگی گذار رہے ہیں جب تک ملک سے کرپشن،رشوت ستانی اور ناانصافی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک ملک ترقی نہیں کر سکتا ہمیں ایک نڈر ،ایماندار اور جزبہ حب الوطنی سے سرشار لیڈر کی ضرورت ہے خدا کرے کہ ایسا لیڈر ہمیں جلد مل جائے تا کہ ہم بھی خوشحالی کی جانب رواں دواں ہو سکیں مہاتیر محمد ہونہار لیڈر تو ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ آپ بچپن سے ہی ذہین و فطین بچے تھے آپ کی تعلیمی کارکردگی بہترین رہی آپ نے شعبہ طب میں تعلیم حاصل کی اور کامیاب معالج کہلائے ۔

مہاتیر محمد سمجھتے تھے کہ جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کر سکتا لہذا انہوں نے سب سے زیادہ تعلیم پر توجہ دی وہ جان چکے تھے کہ انگریزی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہے لہذا انہوں نے تمام تعلیم ملایا زبان میں کر دی کاش پاکستان میں بھی اس انگریزی کو ختم کر کے اردو زبان کو ترجیح دی جائے تا کہ ہمارا ملک بھی ترقی کی منزیلیں طے کر سکے ہمارے اکثر نوجوان انگریزی تعلیم کی وجہ سے ناکامہو جاتے ہیں اور کئی کا تعلیمی کیریئر انگریزی کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے انگریزی کی وجہ سے ہی نقل کا رحجان بڑھتا ہے یوں اس کا نقصان ایک طالب علم کو ہوتا ہے تمام دنیا کے ممالک جنہوں نے ترقی کی ہے ان کا ذریعہ تعلیم اپنی زبانوں میں ہے لیکن ایک ہم ہیں کہ ابھی تک غلامانہ سوچ کے ساتھ انگریزی کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں انگریزی ضرور ہو لیکن اس کو اختیاری مضمون کی حیثیت ہو جو پڑھنا چاہے وہ اس مضمون کو رکھے اور جو ارسو میں پڑھنا چاہتے ہیں ان کی تمام سائینسی ،فنی اور ہر طرح کی تعلیم صرف اور صرف اردو میں ہو اگر ایسا ہو جائے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا ہر شہری تعلیم یافتہ ہو سکتا ہے ۔

مہاتیر محمد نے بھی خواتین کی تعلیم کو ترجیح دی جس کی وجہ سے آج ملائیشیا میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں مہاتیر محمد کے دور میں یونیورسٹیوں میں نصف تعداد خواتین کی تھی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کی تعلیم پر کتنی توجہ دی گئی ہے ہمارے ہاں اس کے بالکل الٹ ہے اگر کوئی خاتون پڑھ بھی جائے تو اس کے لئے روز گار کا مسئلہ بن جاتا ہے اسی طرح ہمارے نوجوانوں کو بھی بے روزگاری کا مسئلہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ملک کو اقتصادی طور پر بھی مظبوط بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوکریاں پیدا ہوں اور ہم اپنے نوجوانوں کو جو ملک کا ایک بڑا سرمایہ ہیں ملازمتیں فراہم کر سکیں ۔

ملائیشیا میں ہر سال سیاح بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں آپ یقین کریں کہ ہمارے ملک میں سیاحت کے اتنے مقام ہیں اور وہ سوئٹرزلینڈ سے بھی خوبصورت ہیں لیکن حکومت کی عدم توجہ اور دہشت گردی کی وجہ سے سیاحوں نے ادھر کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے اب ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ہی سیاح کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے تا کہ ملک کو سیاحت سے بھی اچھا خاصا ریونیو حاصل ہو جو ملک کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے پاکستان میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے یہاں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے ہم ملائیشیا سے زیادہ بہترہیں ہمارے پاس ملائیشیا سے زیادہ وسائل ہیں لیکن ہم ابھی تک اپنے ملک کو وہ مقام نہیں دے سکے جو اس ملک کا حق تھا اب ہر پاکستانی کو اپنی جگہ اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اس ملک کی خاطر بھائی چارے کو فروغ دینا ہو گا نفرتوں کی سیاست کو ختم کر کے ملک کی فلاح اور ترقی کے لئے مل جل کر کام کرنا ہوگا اگر اب بھی ہم اسی ڈگر پر رہے تو شاید آنے والے سو سالوں میں بھی ترقی نہ کر سکیں ملائیشیا ربڑ،ٹن اور پام آئل پیدا کرنے والا دیا کا سب سے بڑا ملک ہے مہاتیر محمد نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا اور انہیں جدید صنعت میں تبدیل کر کے ملک کو ترقی کی طرف گامزن کر دیا پاکستان ایک زرعی ملک ہے اگر ہم اس پر توجہ دیں تو ہم بھی ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1340711 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
03 Jun, 2018 Views: 287

Comments

آپ کی رائے