میں جعلی صحافی ہوں

(Shahid Mehmood, bhara kahu, islamabad)

مسلم لیگ نون کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کر کے رخصت ہوئی اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے پانچ سال پورے کیے اور جمہوریت نے پہلی بار دس سال مکملکیے ،اب تو عام انتخابات کا دنگل سج چکا ہے ،اور انتخابات کی کوریج کے لیے اصلی اور جعلی صحافی سب ہی متحرک ہو چکے ہیں اس لیے میں نے بھی سوچا کہ قارئین کو جعلی صحافیوں کی کچھ خاص نشانیاں بتا دوں تا کہ لوگ ان سے ہوشیار ہیں اور ان سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر چلیں۔ مندرجہ ذیل کہانی میری ذاتی کہانی نہیں ہے ہر اس صحافی کی ہے جو جعلی ہے اور بجائے شارٹ کٹ کے محنت کر کے اس شعبے میں رینگ رینگ کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ قارئین کرام! مجھے تو آج تک کسی نے جعلی صحافی نہیں کہا لیکن میں خود اقرار کرتا ہوں کہ میں جعلی صحافی ہوں کیونکہ مجھ میں جعلی صحافیوں والی وہ ساری نشانیاں موجود ہیں جو’’ اصلی ‘‘صحافی بتاتے ہیں میرے اندر یہ نشانیاں بہت بہت پہلے سے موجود تھیں لیکن مجھے پہلے پتا نہیں تھا کہ یہ جعلی صحافیوں کی نشانیاں ہیں لیکن اب مجھے پتا چل گیا تو میرے ضمیر نے مجھے ملامت کی کہ اب اپنے گناہوں کا اقرار کر لینا چاہیے کیونکہ پاکستان میں رہتے ہوئے ضمیر کا کسی وقت بھی جاگ جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے(جیسے الیکشن کے دنوں میں سیاستدانوں کے جاگ جاتے ہیں )پھر میں نے سوچا کہ ضمیر اپنی نیند پھر کبھی پوری کر لے گا لیکن اب اس کو اس وقت تک نہیں سونے دینا جب تک یہ مکمل اقرار جرم نہیں کر لیتا، اب آپ کو بھی وہ نشانیاں بتاتا ہوں اگر یہ نشانیاں کسی اور صحافی دوست کے اندر بھی وہ موجود ہیں تو وہ بھی اپنے آپ کو جعلی صحافی ہی سمجھے، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میرا تعلق بھی کسی نا کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہوتا ہے لیکن جب وہ پارٹی اقتدار میں آ جائے تو کچھ عرصے میں اس کے اقدامات دیکھ کر میں اپنی اس پارٹی سے قطع تعلق ہو جاتا ہوں ،کیونکہ میں چڑھتے سورج کا پجاری نہیں ہوں اس لیے میں جعلی صحافی ہوں ایک جعلی صحافی کا اصل کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے دوران اپوزیشن کا کام کرتا ہے، اصل صحافی وہ ہوتا ہے جو کسی پروگرام میں جائے تو اپنی چمچماتی پریس نمبر پلیٹ والی گاڑی میں جائے اور ادھر پہنچ آرام دہ کرسی پر بیٹھ جائے اور بعد میں ٹی وی سے دیکھ کر خبر بنا لے جبکہ میں پروگرام میں جاؤں تو پبلک سروس گاڑی میں کرایہ پر لڑتا جھگڑتا پہنچتا ہوں پھر پروگرام شروع ہوتا ہے تو کاغذ پنسل نکال کر پوائنٹ نوٹ کرتا ہوں پھر خود ہی فوٹو بناتا ہوں، اور پھر گھر پہنچ کر خبر کمپوز کرتا ہوں اس کی نوک پلک سنوارتا ہوں اور ای۔میل کر دیتا ہوں کیونکہ میں جعلی صحافی ہوں، میں صحافی بننے کے بعد بھی اس پیشے کی وجہ سے کوئی گاڑی نہ خرید سکا نہ کوئی گاڑی گفٹ لے سکا اس لیے میں جعلی صحافی ہوں، اصلی صحافی جب کسی سرکاری تقریب میں جاتے ہیں تو وزیروں ،مشیروں اور سرکاری افسران کے ارد گرد رہنے کی کوشش کرتے ہیں یہ کام بھی میں اپنی نالائقی کی وجہ سے نہ کر سکا اس لیے میں جعلی صحافی ہوں ،اصل صحافی وہ ہوتا ہے جو کہیں سے دھتکارہ جائے یا اس کا کوئی کام تھوڑا سا لیٹ ہو جائے تو اس کے خلاف فوراََ خبر لگا دی جائے یہ کام بھی میں نے کبھی نہیں کیا اس لیے میں جعلی صحافی ہوں، اصلی صحافی کا یہ کام ہوتا ہے کہ کسی نا کسی سیاسی پارٹی سے اندرون خانہ وابستگی رکھ کر ان سے مالی فوائد حاصل کرتا رہتا ہے لیکن مجھ سے اتنا بھی نہیں ہو سکا اور میں اپنی تمام سیاسی اور مذہبی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر ساری خبریں اخبار میں چھپواتا رہا اور کالم لکھتا رہا جس کی وجہ سے میں کسی بھی پارٹی کا منظور نظر نہ بن سکا اس لیے میں جعلی صحافی ہوں،اصل صحافی تو پیسے بنانے کے ہر فن سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں مثال کے طور پر کسی بندے کی کمزور ی پکڑ کر اس کے خلاف خبرلگانے کی دھمکی دے کر خبر دبا کر پیسے لینا،کسی سکول میں اپنے بچے کو مفت داخلہ نہ ملنے کی صورت میں دوسرے سکول سے پیسے لے کر اس کی کردار کشی کرنا وغیرہ وغیرہ ،سو میں یہ کام بھی نہیں کر سکا اس لیے میں جعلی صحافی ہوں، سب سے بڑی بات یہ کہ میں کسی پریس کلب کا ممبر بھی نہیں اور اصلی صحافیوں کی بتائی ہوئی غلط ہدایات پر عمل بھی نہیں کرتا اس لیے بھی میں جعلی صحافی ہوں، اصل صحافی جب پروگرام پر جاتے ہیں تو گروپ بنا کر اکٹھے جاتے ہیں تا کہ ان کی پاور شو ہو لیکن جب کوئی ایسا پروگرام ہو تو مجھ سے اس لیے رابطہ نہیں کرتے کہ یہ اپنی مرضی کی خبر لگا دے گا اور وہ بھی بالکل مفت ،شاید وہ اصلی ہیں اس لیے ہوشیاری سے کام لیتے ہیں، جبکہ میں تو ایک جعلی صحافی ہوں پروگرام کی کوریج اوپر کی ہدایات سے نہیں اپنی مرضی سے کرتا ہوں آگے ادارے کی مرضی ہے کہ وہ خبر لگائیں یا روک لیں اس لیے میں جعلی صحافی ہوں۔ محترم قارئین! کالم لمبا ہو رہا ہے اور ضمیر کو بھی نیند آ گئی ہے اس لیے جعلی صحافی کی یعنی اپنی آخری نشانیاں بتا کر بات ختم کرتا ہوں، میں جعلی صحافی اس لیے بھی ہوں کہ میرے پاس صحافت کی ڈگری نہیں ،اس کے باوجود میں ہر عوامی مسئلے پر خبر لگواتا ہوں اور آج تک مجھے اپنی خبر کی تردید کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی صفائیاں دینے کی، راز کی ایک بات بھی بتاتا چلوں کہ اصلی صحافیوں کو پنسل سے اردو لکھنی بھی نہیں آتی اور وہ اپنی خبر بھی کسی اور خاص بندے سے لکھوا لیتے ہیں وہ بھی ہجے پوچھ پوچھ کر لیکن جعلی صحافی میں ہوں۔ باتیں ادھوری ہیں لیکن میرے جیسے بہت سے جعلی صحافی سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں جو پروگرام کی کوریج کے لیے پیدل جاتے ہیں ، اعلیٰ افسران کی جی حضوری نہیں کرتے،اپنے قلم کو کرائے پر نہیں دیتے اور ان کو کوئی اعزازیہ بھی نہیں ملتا پھر بھی وہ بلیک میلر نہیں ہیں اور وہ اس پیشے کو جہاد سمجھ کر جاری رکھے ہوئے ہیں وہ اپنی جد جہد جاری رکھیں کیونکہ اس مقدس پیشے کی جو تھوڑی بہت عزت باقی ہے وہ آپ کے دم سے ہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Mehmood

Read More Articles by Shahid Mehmood: 23 Articles with 10491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2018 Views: 267

Comments

آپ کی رائے