قوموں کے اخلاقی معیار

(Tanvir Sadiq, Lahore)

ہمارے علما اسلامی تعلیم کے نفاد کانعرہ تو بہت لگاتے ہیں مگر عملی طور پر یہ نہیں بتاتے کہ اسلامی نظام تعلیم کیا ہے۔انہیں یہ نہیں پتہ کہ آج کی آکسفورڈ یونیورسٹی دسویں صدی میں چرچ کے تحت چلنے والا ایک مدرسہ تھا۔ فرانس اور انگلینڈ کی لڑائی کی وجہ سے حالات نے پلٹا کھایا اور انگلینڈ کے طلبا پر فرانس کی یونیورسٹیوں میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا تو چرچ نے فوری اپنے اس مدرسے کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔آج آکسفورڈ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں اسلامی تعلیم کے حوالے سے ہزاروں مدرسے کام کر رہے ہیں اور ہر مذہبی جماعت اپنا ایک سکول سسٹم چلا رہی ہے۔کیا کوئی ایسا مدرسہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو ایک بین الاقوامی درسگاہ کی شکل اختیار کر سکے ، جسے دنیا میں ہم آئیڈیل کی صورت پیش کر سکیں۔ یقیناً نہیں۔ہمارے نعرے بازوں کے لئے بہتر تو یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے بنائے ہوئے سکول سسٹم کو ماڈل کے طور پر پیش کریں ۔ اس سسٹم میں ایسے نوجوان مردان کار تیار کریں جو میدان عمل میں ثابت کریں کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کی نسبت بہتر ہی نہیں بہترین ہیں۔ ان کے ادارے سے پڑھے ہوئے نوجوان جدید رحجانات کو اسلامی نقطہ نظر کے حوالے سے جانتے اور سمجھتے ہوں۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ معذرت کے ساتھ کہوں کہ عام لوگوں میں ہمارے اسلامی مدرسوں کی نسبت چرچ کے تحت چلنے والے سکول زیادہ بہتر سمجھے جاتے ہیں۔وہاں پڑھنے والے بچے عام معاشرے میں زیادہ فعال، موجودہ حالات میں بہتر مردان کاراور اخلاقی تربیت میں بھی بہتر نظر آتے ہیں۔

ہمارے مذہبی لیڈر عملی طور پر رجعت کاشکار ہیں۔ترقی شعور میں بہتری اور علم میں اضافے کا نام ہے۔ معاشرہ ترقی اس وقت کرتا ہے جب معاشرے میں موجود دانش ور اور سائنسدا ن پوری آزادی اور دل جمعی سے کام کریں۔دانش ور پہلے سے حاصل علم کو اکھٹا کرکے واضع انداز میں سائنس دانوں کے سامنے رکھتے ہیں اور سائنس دان اس علم میں اپنے تجربات کی مدد سے اضافہ کرتے ہیں۔جس معاشرے میں یہ چیز فروغ پائے وہ ترقی پذیر معاشرہ ہے ۔ جس معاشرے میں یہ چیزیں انحطاط پذیر ہوں وہ معاشرہ رجعت کا شکار ہے۔ہمارے نظام تعلیم میں اصلاح کے نام پر ہماری سوچ اور ہمارے فکر پر پابندیاں لگانے کے سوا ہمارے مہربان نعرے باز کچھ نہیں کرتے ۔ہمارے دانشوروں اور سائنس دانوں کی سوچ پر ڈر اور خوف کے سائے ہیں۔وہ کھل کر کام نہیں کر سکتے۔ اسی لئے ہمارا معاشرہ رجعت کا شکار ہے۔علما کے نزدیک سلیبس میں اسلام کے نام پر تبدیلی کے لئے چند آیتوں اور چند حدیثوں کا اضافہ کافی ہوتا ہے۔پھر انہیں جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں طلبا سب سے کم اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اسلام میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ اخلاق ہے۔ قران حکیم اسی فیصد(80%) سے زیادہ علم الاخلاق ہے۔ افسوس تعلیم میں ہم اخلاق کی بات ہی نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری پوری قوم اخلاقی انحطاط کا بری طرح شکار ہے۔ہمیں احساس ہی نہیں کہ اچھے اخلاق کے بغیر ترقی کی ابتدا ہی ممکن نہیں۔

جاپان ایک ترقی یافتہ قوم ہے۔اگر کبھی آپ کو واسطہ پڑے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اخلاقی لحاظ سے اس کے باشندے کس قدر قابل ستائش اور قابل تعریف ہیں۔ میرے ایک دوست جاپان میں ایک یونیورسٹی میں پڑھنے گئے ہوئے تھے۔ایک دن یونیورسٹی ہوسٹل سے باہر سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک پرس گرا ہوا ملا۔ارد گرد کوئی دعوے دار موجود نہ ہونے کے سبب وہ پرس لے کر اپنے ہوسٹل کے وارڈن کے پاس چلے گئے۔ وارڈن نے انہیں اپنے سامنے میز پر بٹھا لیا اور پھر ایک ایک کرکے سب چیزیں پرس سے نکالیں ۔ ایک کاغذ پر ان تمام چیزوں اور پرس میں موجود کرنسی کا اندراج کیا ۔ اس کاغذ پر دونوں نے دستخط کئے اور اس دستخط شدہ کاغذ کی کاپی وارڈن نے انہیں دے کر کہا کہ پولیس کو اطلاع دیتا ہوں کہ اس پرس کے مالک کو تلاش کرے۔تمہارا اتنا کام کرنے کا شکریہ۔چیزیں وارڈن کے حوالے کرنے اور رسید کے طور پر وہ کاغذ وصول کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گئے۔

چار پانچ دن بعد ایک دن وارڈن صاحب نے انہیں پھر بلا لیا۔ وہ گئے تو وارڈن صاحب کے پاس ایک خاتون بیٹھی تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ احترام سے کھڑی ہو گئی ۔ اپنی زبان میں کچھ کہا اور کچھ رقم انہیں پیش کی ۔میرے دوست نے حیران ہو کر کہا ، ’’یہ کیا‘‘۔ وارڈن صاحب بتانے لگے کہ پہلے تو یہ آپ کا شکریہ ادا کر رہی ہے۔ دوسرا جاپان میں ایک روایت ہے کہ اگر آپ کی کوئی کھوئی ہوئی چیز مل جائے تو جو شخص اس کی تلاش میں آپ کی مدد کرتا ہے آپ اس کو کھوئی ہوئی چیز کی کل مالیت کا دس فیصد (10%) شکریے کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ یہ وہی دس فیصد آپ کو دے رہی ہے۔میرے دوست نے کہا کہ میں ایک مسلمان ہوں اور میرے مسلک میں اس طرح کادس فیصد لینا جائز نہیں اس لئے میں معذرت چاہتا ہوں۔ خاتون نے رقم دینے کے لئے کافی ضد کی مگر میرے دوست کے مسلسل انکار پر آخر چلی گئی۔

دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ وہ خاتون پھر موجود تھی ۔ اس دفعہ اس کے ہاتھ میں ایک بنڈل تھا۔میرے دوست کو وارڈن نے بلایا اور کہا کہ یہ خاتون کسی اسلامی ادارے کے لوگوں کے پاس گئی تھی اور انہیں پوری صورت حال کا بتایا اور کہا کہ آپ کا ایک مسلمان بھائی مجھ سے دس فیصد رقم لینے کو تیار نہیں جبکہوہ اس کا حق ہے اور میں ہر صورت دینا چاہتی ہوں ،اس کا حل بتائیں۔ انہوں نے اسے بتایا ہے کہ اسلام میں آپس میں تحائف دینے پر کوئی پابندی نہیں ۔اب یہ تمہارے لئے کچھ گھریلو استعمال کی چیزیں خرید کر لائی ہے جن کی مالیت دس فیصد سے کچھ زیادہ ہی ہو گی۔ یہ ساری چیزیں تمہیں تحفے کے طور پر دینا چاہتی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اس کے دئیے ہوئے تحائف قبول کر لو ورنہ یہ بیچاری ذہنی طور پر پھنسی رہے گی ۔ میرے دوست نے مجبوری میں وہ تحائف وصول کر لئے۔ تحائف وصول کرنے کے بعد میرے دوست کو توکیا خوشی ہوتی مگر تحائف دینے والی اس خاتون کی خوشی دیدنی تھی۔وہ اس قدر خوش تھی جیسے بڑی نایاب چیز مل گئی ہو۔ یہ تھا فرض کی ادائیگی کا احساس۔ اس پر کوئی پابندی نہیں تھی کہ وہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے یا کوئی اس طرح کا ڈر تھا کہ کوئی مذہبی انتہا پسند اس کو برا بھلا کہے گا۔اس نے جو کیا دل سے کیا۔ یہ تھا اخلاق کا اعلیٰ معیار۔یہ تھی ان کی بنیادی تربیت۔ اسلام ہمیں اس سے بہتر اخلاقی تعلیم دیتا ہے اور ہم سے اس سے بہتر اخلاق کا تقاضا کرتا ہے مگر اس سارے واقعے کو چشم تصور میں لائیں اور اپنے ملک کے زمینی حقائق کے حوالے سے سوچیں تو ذہن میں کچھ تلخ باتوں کے سواکچھ نہیں آئے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 220899 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
14 Jun, 2018 Views: 355

Comments

آپ کی رائے