" خیبر سے قبر تک "

(ام بلال, ریاض)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر ایک خبر چل رہی ھے جسکی ایک تصویر میں چند یہود نوجوان ٹورنٹو شہر میں مظاہرہ کر رھے ھیں اور جو پلے کارڈ اٹھائے ھوئے ھیں اسمیں واضح طور پر لکھا ھے۔
" Khyber Was your last chance "
" خیبر تمھارا آخری موقع تھا "

دراصل یہ یہود کی وہ تلملاھٹ اور وہ طمانچہ تھا جو مسلمان نے 1432 سال پہلے ان کے منہ پر مارا تھا اور انھیں خیبر مدینہ سے بے دخل کر دیا تھا۔ جسکو اپنے اندازے کے مطابق وہ اپنی جاگیر سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کا وہ طمانچہ آج تک انکے لیئے اذیت کا باعث بنا ھوا ھے۔

خیبر کے بعد بھی مسلمانوں کی لاتعداد فتوحات پوری دنیا جانتی ھے۔مگر آگے جاکر ان مکار اور سازشی ذھن کے یہود نے مسلمان منافقوں کی ٹولی کو استعمال کر کے اپنے طور پر اسلام کو نقصان پہنچایا۔ اور ھم اس بات کو مانتے ھیں کے اسکی وجہ ھماری اسلام سے دوری اور ایمان کی کمزوریاں ھیں اور یہ کمزوریاں آج تیزی سے بڑھ رھی ھیں۔جسکا خمیازہ آج پوری امتِ مسلماں بھگت رھی ھے۔کیونکہ آج کے مسلمانوں کی کیفیت بلکل یہودی ذھنیت کی عکاسی کر رھی ھے۔انہیں بھی یہودیوں کی طرح دنیا چاہیئے بھلے ذلیل وخوار ھو کر۔

مگر یہود جان لیں کہ ان کثیر تعداد بےحمیت اور بے غیرت مسلمانوں کے درمیان آج بھی مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ھے جنکے دل ایمان سے روشن ھیں اور وہ مٹھی بھر مسلمان انکے لیے کافی ھیں اور وہ انکے منہ پر ایسے کئی طمانچے ماریں گے انشاء اللہ۔
اتنی دیرآخر ان کو کیوں لگی بتانے میں کہ خیبر تمھاری آخری فتح تھی؟
دراصل اسکی وجہ یہ ھے کہ انکی نظر میں آج بھی مسلمان انکا سخت ترین حریف ھے
دراصل یہ اس طمانچے کی گونج ھے اور یہ خوفزدہ ھیں وہ طمانچہ آج بھی ان کے حلق میں پھندے کی طرح اٹکا ھوا ھے اس سے نکلنے میں ان کو 1432 سال لگے۔ جبکہ 100 سال بھی نہیں ھوئے کہ ھٹلر نے 6 لاکھ سے زیادہ یہودیوں کی لاشوں کا پورڈر بنا کر بہا دیا تھا۔ یہ بات انکے لیئے باعث شرم اور اذیت کا باعث کیوں نہیں بنی ھے؟ جبکہ خیبر میں مارے جانے والے اور بے دخل کیئے جانے والے یہودیوں کی تعداد صرف 14000 تھی۔
اصل میں یہودونصاری دونوں کافر ھیں اور باطل کو باطل سے کوئی خطرہ نہیں ھوتا۔
یہود جان چکے ھیں کہ عیسائی دنیا میں تعداد میں سب سے زیادہ ھونے کے باوجود ان کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلیوں سے زیادہ کچھ نہیں ھیں۔
اور یہود یہ بھی جانتے ھیں کہ سب مسلمان بے حمیت اور بے غیرت نہیں ھیں۔
تمھاری پوری قوم خود اپنے قدموں سے چل کر اپنی قبروں کی طرف جا رھی ھے۔ وہ گریٹر اسرائیل جسکا تم خواب دیکھ رھےھو وھی تمھارا "گریٹر قبرستان" بنے گا۔
تم ایک بات پر رو رھے ھو تمھارے جرائم کی فہرست بہت لمبی ھےتم پر بہت مقدمات ھیں اللّٰہ کی طرف سے، انسانوں کی طرف سے تمھیں زمین پر ھی انکا حساب دینا ھے اور جھنم تو تمھارا ھے ھی ٹھکانا۔
تم کہتے ھو ھم اللّٰہ کے چنے ھوئے Chosen Peoples ھو. تم صحیح کہتے ھو تم اللّٰہ کے چنے ھوے ھو اسکے عزاب اور غزب کیلئے۔ تم " مغضؤب عليهم" ھو۔
تم نیند سے بڑی دیر میں جاگے ھو۔ یاد رکھو اب جلد ھی سو جاؤ گے ھمیشہ کیلئے تم نے جتنے عیش دنیا کی زندگی میں کرنا تھے کرلیئے اللّٰہ نے تمھیں خوب ڈھیل دی تھی کہ اور گناہ کرو۔ تمھاری کیفیت اس شمع کی مانند ھے جو بجھنے سے پہلے بھڑکتی ھے اور ان شاءاللہ وہ وقت اب قریب ھی ھے ۔ مٹھی بھر مسلمان ھی تمھارے لیئے کافی ھیں آج فلسطین کا بچہ بچہ تمھیں پتھروں سے مارتا ھے تم اسی کے مستحق ھو تم " شيطان الرجيم " ھو مگر تمھیں سمجھ میں نہیں آرھا ھےتو کیا کہہ سکتے ھیں
جان لو کہ تمھارے ساتھ وہ مسلمان بھی ذلیل وخوار ھوکر مریں گے جو تمھارے نقش وقدم پر چل رھے ھیں۔ان بے حمیت مسلمانوں کے علاوہ ایسے مسلمان بھی ھیں جو تم سے شدید نفرت کرتے ھیں اور وھی تمھارے لیئے کافی ھیں۔یہ خوشی تمھاری آخری خوشی ھے اللہ ان مسلمانوں کا حامی و ناصر ھے جو تمھیں عنقریب ایسا طمانچہ ماریں گے جو تمھیں زمین میں دفن کرنے کے لیئے کافی ھوگا ان شاءاللہ۔

قرآن محض اسلیئے نہیں اترا ھے کہ اسکو پڑھکر سجا دیا جائے بلکہ یہ عمل کرنے کے لئے ھے۔جب تک ھم اسپر عمل کرتے رھے پوری دنیا پر چھائے رھے۔آج ھم ذلیل اسلیئے ھیں کہ قرآن پر عمل کرنا چھوڑ دیا ھے۔
اے اللّٰہ ھمیں صحیح بات سمجھنے اور اسپر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ھم سب مسلمانوں کو اسطرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرما جسطرح عمل کرنا چاھیئے۔اے اللّٰہ ھمیں باعمل مسلمان بنا ھمارے گھروں سے جو مسلمان نکلیں ان کے دل ایمان سےجگمگ کر رھے ھوں۔ یا اللّٰہ تو سن لے ھم تیری مدد کے طالب ھیں۔
" یااللّٰہ فاسد لوگوں کے مقابلے میں ھماری مدد فرما "

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ام بلال

Read More Articles by ام بلال: 15 Articles with 16381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jun, 2018 Views: 456

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ