علم دوست شخصیت

(Shoukat Ullah, Banu)

عید کا دوسرا دن تھا۔ دوستوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ مشورے شروع ہوئے کہ بقیہ دن کیسے اور کہاں گزارا جائے۔ مختلف آرائیں سامنے آئیں ۔ اتفاق اس بات پر ہوا کہ بقیہ دن ایک علمی شخصیت کے ساتھ گزاریں گے۔ایک فہرست مرتب ہوئی اور قرعہ فال پروفیسر ہدایت اﷲ کے نام نکلا۔

رختِ سفر باندھا اور منزل ،مقصود کی جانب رواں دواں ہوئے۔ جب پروفیسر ہدایت اﷲ کے گاؤں لتمبر (ضلع کرک) پہنچے تو انہوں نے نہایت خوش مزاجی کے ساتھ خیر مقدم کیا۔نماز ظہر کا وقت تھا تو پہلے فرض کی ادائیگی کی۔ پھر پروفیسر ہدایت اﷲ کے ساتھ ان کے مہمان خانے میں بیٹھ گئے۔گفتگو کا سلسلہ چل پڑا تو وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ کیوں کہ علمی اور انتظامی گفتگو کے ماہر کے ساتھ ہماری پیاس بجھنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ کیوں کہ علم کے پیاسوں کو علم کا کنواں (خزانہ) ہاتھ لگ گیا تھا۔ اور پروفیسر ہدایت اﷲ عصری اور قدیم علوم پر سیر حاصل بحث کررہے تھے۔ان کی علمی گفتگو میں ہماری دل چسپی کی انتہا نہ تھی۔

انہوں نے موجودہ تعلیم اور مدرسوں کی حالت زار پر نہایت افسردگی سے کہا ۔ ’’ آج ہمارے مدرسوں میں دو چیزوں کی کمی ہے۔ روحانیت اور وجدانیت۔جن کا حصول صرف اﷲ والوں کی بیٹھک سے ممکن ہے اور موجودہ تعلیم ان دونوں خصوصیات سے محروم ہے۔کیوں کہ موجودہ تعلیم کا انحصار مادیت پر ہے‘‘۔
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدائے لا الٰہ الا اﷲ

’’اگر جدید تعلیم کے ساتھ روحانی اقدار کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا گیا تو یہ سراسر گمراہی کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اور ترقی کا راز جدید تعلیم اور روحانی اقدار کے امتزاج میں مضمر ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا۔’ ’حصول علم کے لئے انسان کے پاس ایک بلند نصب العین ہونا چاہیئے۔ کیوں کہ بے مقصد تعلیم ٖصرف اور صرف عمر کا زیاں ہے‘‘۔
آگہی از علم و فن مقصود نیست
غنچہ و گل از چمن مقصود نیست
از تخلیق مقاصد زندہ ایم
از شعاع آرزو تابندہ ایم

جب ہم نے پروفیسر ہدایت اﷲ سے انتظامی امور کے بارے میں پوچھا ۔ ’’ آپ ایک اچھے منتظم کیوں تصور کیے جاتے ہیں؟‘‘۔ تو انہوں نے عجز و انکساری سے جواب دیا۔ ’’میرے رفقاہائے کار بہت اچھے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید تفصیل سے بتایا ۔’’ انتظامی امور کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے منتظم کی اکیلی ذات کوئی خاص کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتی۔ چاہے اس میں کتنی ہی اعلیٰ درجے کی صلاحیتیں موجود کیوں نہ ہوں۔ یہ سب ٹیم ورک سے ممکن ہوتا ہے‘‘۔

ہماری ملاقات کوئی گھنٹہ بھر رہی مگر تشنگی برقرار۔۔۔۔۔۔تمام قارئین سے گزارش ہے کہ اپنا فارغ وقت علم دوست لوگوں کے ساتھ گزاریں کیوں کہ انسان تمام عمر ایک طالب علم ہی رہتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125130 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2018 Views: 505

Comments

آپ کی رائے