گورنمنٹ کالج سرگودہا کی بحالی کا معاملہ۔۔۔۔۔

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

گورنمنٹ کالج سرگودہا کی بحالی کا معاملہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر حسن عسکری وزیر اعلیٰ پنجاب کی توجہ کا طالب

گزارشات کرنے سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کہ یہ کالم اِس امید پہ لکھ رہا ہوں کہ اِس وقت کوئی سیاسی مصلحت راستے کی دیوار نہ ہے اور ایک ممتاز ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر حسن عسکری صاحب جیسی شخصیت صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ امید واثق ہے کہ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب گورنمنٹ کالج سرگودہا کا معاملہ حل فرمائیں گے۔سر زمین سرگودہا کو اﷲ پا ک نے ایک ایسی عظیم درسگاہ عطا کی جس نے کئی دہائیوں تک سرگودہا ڈویژن کے تشنگان ِ علم کو سیراب کیا۔ ایکڑوں زمین پر پھیلے ہوئے اِس کالج کی شان و شوکت اپنی مثال تھی۔ عظیم اساتذہ نے اِس کالج کو حقیقی معنوں میں کامیابیوں سے ہمکنار کیا اور اِس کالج کے سٹوڈنٹس پاکستان سمیت دُنیا بھر میں ہر شعبہِ زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کالج میں عبدالعلی خان غلام جیلانی اصغر ، صاحبزادہ عبدالرسول جیسی نابغہ رُ وزگار ہستیاں پرنسپل رہیں۔اِس کالج کو دوسری کالجوں کی طرح یونیورسٹی کادرجہ دینے کی بات کی گئی۔ لیکن اِس کالج کا تشخص مکمل طور پر ختم کردیا گیا اور صرف یونیورسٹی آف سرگودہا کا قیام عمل میں لے آگیا۔ سرگودہاکے لیے یونیورسٹی ناگزیر تھی۔ لیکن گورنمنٹ کالج سرگودہا کو قتل کرکے انتہائی ظلم کیا گیا۔ لاہور کے گورنمنٹ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن اِسکا کالج کا سٹیٹس بھی برقرار رہا۔ اِسی طرح فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن اُس کا کالج کا سٹیٹس بھی برقرار رکھا گیا۔ لیکن صد افسوس سرگودہا کے گورنمنٹ کالج کا سٹیٹس ختم کردیا گیا یوں انتہائی درخشندہ روایات کا حامل تعلیمی ادارہ ختم کر دیا گیا۔ سرگودہا کے ساتھ اُنسیت کی کئی وجوہات ہیں ایک تو میرا بچپن اپنے ماموں جان حضرت حکیم میاں محمد عنائت خان قادری نوشاہی ؒ کے ہاں گزرا۔ یوپی چرچ سکول میں پہلی جماعت میں 1974 میں داخلہ لیا۔ گورنمنٹ کمپرہینسیو ہائی سکول سرگودہا میں جماعت ششم سے میٹرک تک طالب علم رہا۔ اِس سکول میں جناب حسین احمد بھٹیؒ شا ہ محمد ؒ، صوفی غلام حسینؒ، ملک انورؒ، چوہدری محمد اسلم ، مہر محمد بخش ، جیسے عظیم اساتذہ سے اکتساب فیض کیا۔اِسی سکو ل میں جاوید مصطفائی ڈائریکٹر الزہرہ گروپ آف کالجز اور ڈاکٹر عرفان ظفر میرئے کلا س فیلو رہے۔ فرسٹ ائیر میں گورنمنٹ کاج آف کامرس میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں سال سوئم میں گورنمنٹ کالج سرگوہا کاطالب علم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ تین ماہ تک اسِ کالج کا طالب علم رہا،یوں میری قلبی وابستگی گورنمنٹ کالج سرگودہا کے ساتھ ہمیشہ رہی۔ میرے پاس اب بھی گورنمنٹ کالج سرگوہا کا سٹوڈنٹ کارڈ جس کا رنگ سفید ہے موجود ہے۔ میرئے بہت سے دوست جن میں رائے علی اشرف بھٹی، صاحبزادہ ڈاکٹراحمد ندیم رانجھا، پروفیسر ڈاکٹر رانا محمود انور، ڈاکڑ عرفان علی ظفر، ظفر اقبال ظفر، ملک امتیاز،راحیل حق، صاحبزادہ شمیم الرسول، ایک لمبی فہرست ہے اُن لوگوں کی جو اِس وقت ہمارئے معاشرئے کے درخشندہ ستارئے ہیں۔ اُنھوں نے گورنمنٹ کالج سرگودہا سے اکتساب ِ فیض کیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئی جگہ پر یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جاتا سرگودہا شہر کے آس پاس بے شمار سرکاری اراضی پڑی ہے۔لیکن گورنمنٹ کالج کو ختم کرنا کسی طور بھی مناسب نہ تھا۔ اگر یونیورسٹی اِس کیمپس میں بنادی گئی تھی تو بلڈنگ کے کچھ حصے میں گورنمنٹ کالج کا سٹیٹس برقرار رکھا جاسکتا تھا۔ لیکن نہ جانے یونیورسٹی کے قیام کی خوشی میں عظیم تعلیمی درسگاہ کا نام تک ختم کردیا گیا۔ پورئے سرگودہا ڈویژن کے لیے بے مثال تعلیمی خدمات دینا والا اب کوئی بھی کالج نہ رہا ہے۔ پرائیوٹ کالجوں کی بھرمار نے تعلیم کو مکمل طور پر تاجرانہ وصف بنا دیا ہے۔ اب طالب علم تعلیمی ادارے کا چناؤ فیس کے حساب سے کرتے ہیں کہ فلاں کالج یا فلاں کالج اور چند مرلے کے اِن کالجوں نے سرگودہا کے شاہنوں سے وہ آن شان چھین لی ہے جو گورنمنٹ کالج کے ہوتے ہوئے ہر امیر غریب کو حاصل تھی۔اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ سرگودہا کی میں بلڈنگ میں فرسٹ ایئر کی کلاسز کا اجراء کردیا جائے اور گورنمنٹ کالج کی حیثت بحال کردی جائے۔ اگر حکومت دردمندانہ درخواست مان لے تو یونیورسٹی کے لیے علحیدہ کیمپس بنا کر یونیورسٹی کو بتددریج منتقل کرئے اور گورنمنٹ کالج کا مقام و مرتبہ بحال کیا جائے۔ سوشل میڈیا کی وساطت سے معلوم ہو ا کہ انتہائی فعال دوست سرگودہا کے اِس عظیم ایشان تعلیمی ادارئے کی بحالی کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہیں یقینی طور پر اپنی مادر علمی کے ساتھ محبت کا ایک خاص انداز ہے۔ گورنمنٹ کالج سرگودہا کی بحالی کی تحریک کے روح رواں جناب ارشد شاہد سے کافی تفصیلی گفتگو ہوئی اُن کی زبردست کوششوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور دیگر احباب جن کا تعلق کسی بھی حوالے سے گورنمنٹ کالج سر گو دہا سے رہا ہے وہ اِس مشن میں ارشد شاہد کے دست بازو بن جائیں۔ پنجاب حکومت لاہور کے تاریخی ورثے کو خوب سنبھال رہی ہے اور اس کو دوبارہ زندہ کررہی ہے۔ اس قومی ورثے کو سنبھالنا اچھی بات ہے۔ یہ تاریخی ورثہ شاہی محلات، باغ اور پتھر کی دیواروں وغیرہ پر مشتمل ہے۔ لیکن گورنمنٹ کالج سرگودھا جیسا سوبرس پرانا تاریخی ورثہ ایک لمحے میں ختم کردیا گیا جبکہ یہ تاریخی ورثہ سوبرس کی بیشمار نامور شخصیات کو جنم دے چکا تھا اور مستقبل میں نہ جانے کتنے نامور نام یہاں سے پیدا ہونے والے تھے۔ سابق گورنمنٹ کالج سرگودھا سوال کرتا ہے کہ اینٹ، بجری، ریت اور سیمنٹ کے تاریخی ورثے کو سنبھالنا تو ضروری ہے لیکن کیا قدیم تعلیمی ورثے کو پاؤں تلے روند دیئے جانے کا ذرا سا نوٹس لینا بھی ضروری نہیں ہے ۔سابق گورنمنٹ کالج سرگودھا کے طالبعلموں کی الومینائی کے صدر ارشد شاہد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سابق گورنمنٹ کالج سرگودھا کو موجودہ گورنمنٹ کالج سرگودھا بنانے کے لئے سب دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اپنی پرانی تعلیمی درس گاہ سے عشق کرنے والے آخر کامیاب ہوں گے۔ گورنمنٹ کالج سرگودھا کے سابق طلبہء طالبات کا مطالبہ ہے کہ جناح بلاک، اقبال ہاسٹل، جناح ہال اور مولا بخش آڈیٹوریم کو گورنمنٹ کالج سرگودھا کے اصل نام اور اصل مونوگرام کے ساتھ بحال کیا جائے۔ حکومت اِس مطالبے پر کان دھرے اور گورنمنٹ کالج سرگودہا کو بحال کرئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 225527 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
20 Jun, 2018 Views: 370

Comments

آپ کی رائے