قومی اسمبلی کے حلقہ 131 پر ایک نظر

(Aslam Lodhi, Lahore)

کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ 131 کے امیدوار خواجہ سعد رفیق نے کہا ہم نے 2013ء میں جو وعدے کیے تھے وہ سب پورے کردیئے ‘ کراچی میں امن قائم ہوچکا ‘بجلی کے منصوبے اگر نہ لگتے تو آج 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہوتی ۔دہشت گردی کی لعنت پر بھی بڑی حد تک قابوپایا جاچکا ۔ موٹرویز بن رہی ہیں ۔نوجوانوں کو روزگار مل رہا ہے۔محکمہ ریلوے (جو تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا) اس کو نئی زندگی ملی چکی ۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ اگر ہمیں پھر اقتدار ملا تو عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے ۔ حسن اتفاق سے میں بھی اسی حلقے میں رہتا ہوں اور اس حلقے کے تمام امیدواروں کے بارے میں بہترمعلومات رکھتا ہوں ۔ سب سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعدرفیق کی بات کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے ریلوے کو نئی زندگی دی کیونکہ پیپلز پارٹی کے دور میں ریلوے بالکل ختم ہوچکی تھی ۔بے شمار ٹرینیں اورروٹس بند کردیئے گئے ۔صوبائی سطح پر شہباز شریف اور قومی سطح پر نواز شریف کی کارگردگی اگر قابل تعریف نہیں تو بری بھی نہیں ہے ۔ جہاں تک حلقے میں ان کارکردگی کاتعلق ہے چند اہم پراجیکٹس انہوں نے واقعی پایہ تکمیل کو پہنچائے۔ان میں ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ پچیس کلومیٹر طویل کنکریٹ کی بنی ہوئی دیوار کی تعمیر ہے ۔ ریلوے ٹریک کی دونوں اطراف انسانی آبادیاں قائم ہیں لائن کراسنگ کرتے ہوئے ہفتے ایک دو انسان ٹرین کے نیچے آکر ہلاک ہونا معمول بن چکا تھا ۔ خواجہ سعد رفیق کی بنائی ہوئی دیوار نے ہلاکتوں کا یہ سلسلہ بڑی حد تک روک دیا ہے ۔ دو تین مقامات پر اوور ہیڈ برج کی تعمیراور ریلوے کراسنگ کی وسعت سے دونوں اطراف کے لوگ باآسانی اور محفوظ طریقے سے آ جا سکتے ہیں ۔چند ایک بڑی سڑکوں کی تعمیر ‘ خواجہ رفیق شہید کالج کی تعمیر بھی انہی کے کریڈٹ میں شامل ہے ۔جہاں تک عوام سے رابطہ رکھنے کاتعلق ہے تو خواجہ صاحب الیکشن جیتنے کے بعد حلقے میں بہت کم دکھائی دیئے اوراسلام آباد کے ہی ہو کر رہ گئے ۔ مجھے اس حلقے میں رہائش اختیار کیے چار سال ہوچلے ہیں۔ رابطہ تو دور کی بات ہے میں نے خواجہ سعد رفیق اور ایم پی اے میاں نصیر کی شکل کبھی اپنے حلقے میں نہیں دیکھی ۔ جس طرح وہ اب عوام کی سنتے ہیں اور اپنی سنا رہے ہیں۔ وزیر بننے کے بعد کبھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا ۔ان کی کارکردگی کامنفی پہلو ہے ۔"باب پاکستان" پراجیکٹ کمیٹی کے چیئر مین خواجہ سعد رفیق تھے ۔بار بار افتتاح کے باوجود آج تک "باب پاکستان "کی تعمیر شروع نہیں ہوسکی ۔ اسے بھی ان کی نااہلی قرار دیا جاسکتا ہے ۔قبرستان اس علاقے کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے خواجہ صاحب چاہتے تو ریلوے کی زمین کا ایک ٹکڑا قبرستان کے لیے الاٹ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے کان ‘ناک اور آنکھیں بند کیے رکھیں اور لوگ اپنے پیاروں کی نعشیں اٹھا کر قبرکی جگہ حاصل کرنے کے لیے سفارشیں ڈھونڈتے رہے ۔ یہاں صاف پانی کہیں بھی دستیاب نہیں ‘ ٹریٹ منٹ پلانٹ کاپانی بھی معیاری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لوگ اسی پانی پر اکتفا کررہے ہیں۔ سرکاری ہسپتال کی عدم دستیابی بھی ان کے کھاتے میں آتی ہے ۔ چند ماہ پہلے اڑھائی ارب منظور بھی کروائے لیکن نالہ کی ری ماڈلنگ کا کام شروع نہ ہوسکا جو برسات کے موسم ایک عذاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ایم پی اے میاں نصیر عوام سے رابطہ رکھ کر مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کی جستجو کرتے تو شایدحالات اس سے مختلف ہوتے لیکن انہوں نے یہ زحمت گوارا ہی نہ کی ۔ اسی وجہ سے شاید ان کو دوبارہ ٹکٹ نہیں ملا۔ اب یاسین سوہل کو ایم پی اے کا ٹکٹ ملا ہے جو عوامی رابطوں کی بنا پر میاں نصیر کی نسبت کچھ بہتر دکھائی دیتے ہیں ۔ کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر میں ان کا حصہ بھی شامل ہے ۔این اے 131 سے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور ایم پی اے کا الیکشن علیم خان لڑرہے ہیں ۔عمران خان مقامی امیدوار نہیں ۔اس لیے سب کے ذہن میں یہ بات موجود ہے اگر وہ جیت بھی گئے تو ان تک پہنچنا اور رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوگا ۔ وہ علاقے کے مسائل کو جانتے ہیں اور نہ ہی عوام سے ان کا کوئی براہ راست رابطہ ہے ۔ ڈی ایچ اے سے انہیں کچھ ووٹ ملنے کی امید ہے لیکن ان ووٹوں سے کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ جہاں تک ممبر صوبائی اسمبلی 162 کے امیدوار علیم خا ن کا تعلق ہے ان کا حلقہ اثر و رسوخ اس حلقے میں موجود نہیں نہ ہی انہوں نے بھی کبھی اس علاقے میں آنے اور نٹ ورک قائم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ان کے پاس پیسہ تو بے حساب ہے جس کی جھلک ہزاروں کی تعداد میں لگے ہوئے رنگین بینرہیں لیکن عملی طور پر وہ تحریک انصاف کاایک کونسلر بھی یہاں سے منتخب نہیں کروا سکے ۔ قصہ مختصر اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا یہ علاقہ خالصتا مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے چاہنے والوں کا ہے ۔ وہ مسلم لیگ ن پر تنقید بھی کرتے ہیں اور گلہ شکوہ بھی لیکن ووٹ پھر بھی نواز شریف کو ہی دیتے ہیں ۔ میں نے ایک بزرگ سے پوچھا اس کی وجہ کیاہے۔ اس نے بتایا کہ پاکستان کے جتنے بھی میگا پراجیکٹس ہیں ان پر نواز شریف کی مہر لگی ہوئی ہے ‘ نواز شریف اگر ایٹمی دھماکے نہ کرتے تو شاید آج پاکستان کا وجود بھی نہ ہوتا ۔ اس نے کہا پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ عذاب بن چکی تھی اب خوبیس گھنٹوں میں ایک یا دو گھنٹے بجلی بند ہورہی ہے ‘ یہ نواز شریف کا کارنامہ ہے ۔میں نے کہا نواز شریف تو اب تاحیات نااہل ہوچکے ہیں کیا اب بھی آپ مسلم لیگ ن کو ہی ووٹ دیں گے۔ اس نے جواب دیا شہباز شریف ‘ ان سے بھی زیادہ بڑا لیڈر ہے ‘ پنجاب بالخصوص لاہور کا لتھڑا ہوا چہرہ نکھارنے اور اسے خوبصورت بنانے کا کارنامہ شہباز شریف نے ہی انجام دیا ‘آج اگر لاہور کو دیکھنے کے لیے پاکستان بھر سے لوگ چلے آتے ہیں تو اس کا کریڈٹ شہباز شریف کوجاتا ہے ۔ میں دعوی سے کہتا ہوں اگر شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے تو پاکستان کی یقینا تقدیر بدل جائے گی ۔ وہ باتیں کم ‘کام زیادہ کرتے ہیں ۔ اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں لیکن یہاں جیالوں کا کہیں نام ونشان دکھائی نہیں دیتا ۔ ان حالات میں جب آصف علی زرداری کا بیان اخبار میں چھپتا ہے کہ مرکز اورپنجاب میں حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی تو بیان پڑھ کے ہنسی آتی ہے ۔شیخ چلی کانام تو سنا تھا لیکن آج اس کی شکل بھی دیکھ رہے ہیں۔ بہرکیف مقامی امیدوار ہونے اور مسلم لیگ ن کی قومی اور مقامی سطح پر اچھی کارکردگی کی بناپر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق ایم این اے اور یاسین سوہل ایم پی اے آسانی سے منتخب ہوجائیں گے ۔جماعت اسلامی ‘ جمعیت علمائے اسلام ( فضل الرحمن گروپ )کے امیدوار بھی الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن حلقے کی سطح پر عوام میں ان کا کوئی اثر و رسوخ موجود نہیں ۔ باقی اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کس کے سر پر ہما کا تاج سجے گا ؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280464 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jun, 2018 Views: 616

Comments

آپ کی رائے