ایم کیوایم کی سیاست اہل نظرکا امتحان

(Syed Mehboob Ahmed Chishty, )

ایم کیوایم کی طرز سیاست کو سمجھنے کے لئیے ٹھنڈے دماغ کی ضرورت ہے مختلف گروپس میں تقسیم کے عمل سے مہاجرووٹرز وقتی پریشان ضرور ہوا تھا اب صورتحال اس جانب جاتی نظرآرہی ہے جہاں حقیقت پہلے سے موجود ہے اعتراف کا عمل باقی ہےاب یہ تسلیم کرلینا چاہیئے کہ کراچی کی سیاست میں تبدیلی کبھی نہیں آسکتی کیونکہ جو تبدیلی آج سے 40 سال پہلے آگئی وہی تبدیلی اہل کراچی نے قبول کرلی اب اس نقطے پرکسی کو اختلاف بھی ہوسکتا ہے اور جو اختلاف نہیں کرتے وہ اس حقیقت کو دل میں رکھ اپنی اظہار محبت کو کسی وقت کے لیئے بچاکر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ بظاہر تومحبت کے اظہار کے لیئے وقت کھبی آتا نہیں ہے بلکہ وقت کو لایا جاتا ہے اور اس مرتبہ اگر اظہار محبت وعقیدت میں کچھ وقت لگ رہا ہے تو اس میں قصور دونوں فریقوں کا ہے۔جو مناسب وقت میں ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکے اور اپنی محبت کی تلخیوں کو غیروں کے سامنے رکھ کر اسکا حل بھی طلب کرلیا اب حل بتانے والوں نے اپنی عقل وشعور کے مطابق جب ان تلخیوں کو حل کرنا شروع کیا تو دونوں فریقوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا تو یہ ادراک ہوا کہ دل کے معاملات پر کسی اجنبی کو شریک نہیں کرنا چاہیئے تھا۔

اب اگر بات بھروسے اور اعتماد کی جائے تو ان اسباب اور حالات کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے جو اس محبت کے سفر میں کس کس سے اور کس کس موقعے پر غلطیاں ہوئیں ان تمام باتوں کا نئے سرے سے جائزہ لینے کے بعد نئے سفر کی شروعات کی جائے تو مستقبل میں اسکے ثمرات محبت کرنے والوں کو مل جائیں گے ورنہ سمندر تو ہے یہ دل کی باتیں سامنے رکھ کر کراچی کی سیاست پر غور وفکر کیا جائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اڑان بھرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے جو پہلے سے محو پرواز ہیں اپنی حدود وقیود سے باہر اپنی پرواز کو زمینی حقائق کے مطابق اڑان کے لیئے تیار ی کریں تو سیاسی اڑان میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔خیال رکھنا ہوگا کہ دوران پرواز جب اڑان پر قدعن لگائی گئی تو شریک سفر کون تھا اور کون مصلحت کا شکار تھا کون سونے کی نگری کا دلدادہ تھا کون جبر کا شکار تھاشہر کراچی میں سیاست تو سب نے کی لیکن سیاست کوئی کوئی کرسکا کراچی کی سیاست میں جگہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن کراچی کی سیاست میں اپنی جگہ بنانا اسوقت ممکن ہے جب اہلیان کراچی پر اپنی خواہشات کو جبر کے رنگ کے ذریعے مسلط نہیں کیا جائے وسیع قلبی اہلیان کراچی کی ہمیشہ سے ایک بڑی کمزوری رہی ہے اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ اس وسیع قلبی کو کھبی خوشی کھبی غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے مہاجر قوم کی آواز یوں تو کوئی بنتا نہیں اور جو چالیس سال پہلے بنا تھا فی الحال اسکی کوئی سنتا نہیں ہے پاکستانی سیاسی جماعتوں کا اگر ایک جائزہ لیا جائے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سب کے دامن پر داغ ہیں اور پھر یہ کہہ کربھی اپنی صفائی دی جاتی ہے کہ ہرداغ کے پیچھے کوئی (کہانی ہوتی ہے)۔

ایم کیوایم کاداغ تو بدنما اور باقی سب کے داغ خوبصورت ہیں سیاسی گناہوں سے مبرا کوئی سیاسی ومذہبی جماعت نہیں ہے ایم کیوایم کو باہر سے زیادہ اندرونی مسائل کاسامنا ہمیشہ سے درپیش رہا ہے موجودہ سیاسی صورتحال میں ایم کیوایم بظاہر تو بکھری ہوئی نظر آرہی ہے لیکن اس تقسیم درتقسیم کے پیچھے اصل تصویر کسی کونظرنہیں آرہی ہے جنکو نظرآرہی ہے بلاشبہ انکو اہل نظر کہاجاسکتا ہے کراچی میں بسنے والوں میں اردو بولنے والے مہاجروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن اس بڑی تعداد کو مختلف گوشے عافیت میں بسانے کاسلسلہ جاری ہے لیکن اس طرز عمل میں وقتی عافیت تو ہے مستقل گوشہ عافیت میں کب آئیں گے اسکا انتظار ہے قیادت کے فقدان نے اہلیان کراچی کو وقتی خاموش ضرور کردیا ہے لیکن انکی خاموشی کے اسرارورموز کوسمجھنے کے لیے انتظار کی صلیب پر لٹکنا بہت صبرآزما ہے۔

ایم کیوایم کے ساتھ بہت برا ہورہا ہے یا انہوں نے خود اپنے ساتھ براکیا ہے یہ بہت اہم سوال ہے ظاہر ہے کچھ غلطیاں اپنی اور کچھ سامنے والوں کی مسلط کردہ گناہ اتنے آرام سے نہیں بخشیں جائیں گے افسوس تو اس بات کارہے گا کہ ایم کیوایم سے جو چار غلطیاں ہوئی ان غلطیوں میں زیادہ تر وہ غلطیاں ہیں جوان سے کروائی گئیں ہیں اور پھر وہ غلطیاں بڑے گناہوں کے روپ میں پیش کردی گئیں۔موجودہ صورتحال میں کراچی میں سیاسی لیڈرشب کا فقدان اپنی جگہ موجود ہے جوسیاسی جماعتیں یہ دعوی کررہی ہیں کہ وہ اہلیان کراچی میں ایم کیوایم کا نعم البدل ہیں یا ہوسکتی ہیں تو یہ زمینی حقائق کے منافی ہوگا اورحقیت سے زیادہ ذاتی خواہشات پرمشتمل پروگرام ترتیب دینے کایہ عمل ہرگز مستقل نہیں ہوگا پکڑڈھکرالیون سے لیکر دباؤ ڈر خوف کے نتیجے میں مسلط کردہ جماعتیں عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہوگا۔اور سب سے اہم بات یہ کہ الیکشن کا موسم ابھی سے دھندلا نہ جانے کیوں نظرآرہاہے..

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mehboob Ahmed Chishty

Read More Articles by Syed Mehboob Ahmed Chishty: 33 Articles with 11418 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jun, 2018 Views: 416

Comments

آپ کی رائے