سی پیک خوشحال پاکستان کی ضمانت

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان ہمیشہ سے ہی خوش قسمت ملک رہا ہے کہ اس کو جب کھبی مشکل حالات درپیش آتے ہیں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس پر ایسا انعام ہوجا تاہے کہ پھر سے حالات اچھے ہو جاتے ہیں یہ خدا کی قدرت ہے اور اس کی خاص کرم نوازی ہے کہ ملک پاکستان مشکل سے مشکل حالات سے بھی نکل آتا ہے نائن الیون کے بعد تمام دنیا پاکستان کو شک سے دیکھ رہی تھی مگر دوست ملک چین نے پاکستان کا ساتھ دے کر یہ مشکل وقت بھی کٹوا دیا پھر بات کی جائے پاکستانی معیشت کی تو جس وقت پاکستان کی معیشت مشکل حالات میں تھی ملک میں غیر ملکی سرمایہ اری نہ ہونے کے برابر تھی قرضوں کا بڑھتا بوجھ معیشت کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا تھا ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا تو دوست ملک چین نے ایک منصوبہ جسے سی پیک کے نام سے جانا جاتا ہے پاکستان کی جھولی میں ڈال کر پاکستان پر سچے دوست ہونے کا ثبوت دیا اب اس موقع کو پاکستان کیسے کیش کرتے ہیں یہ پاکستان کی صوابدید پر ہے۔ پاکستان میں اس چینی سرمایہ کاری سے جہاں ترقی کے بے شمار مواقع پید اہونگے وہیں پر پاکستان میں روز گار کے اتنے مواقع پید اہونگے کہ شاید ہمیں باہر کے ملکوں سے لوگوں کو بلانا پڑئے گا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بلا شبہ ااﷲ تعالیٰ کی طرف سے خاص انعام ہے پاکستان کے لئے سی پیک کی مجموعی سرمایہ کاری 46 ارب ڈالر سے بڑھ کر 54 ارب ڈالرتک ہونے کے واضح امکانات ہیں اس منصوبے میں ایسے ایسے پروجیکٹس کو بھی شامل کیاجا رہاہے جو تھے تو بہت ہی فائدہ مند مگر اپنوں کی نااہلیوں کی وجہ سے اور سرمایے کی کمی کی وجہ سے بند پڑے تھے ان کو بھی دوبارہ فعال کر کے پاکستانی معیشت کو مضبوط بنایا جائے گا اس سے قائم ہونے والا روٹ دنیا کے امیر ترین روٹوں میں ہو گا جہاں سرمایہ کار ی کرنے والے کو چند سالوں میں ہی اپنا منافع ڈبل ملنے کی امید ہے ا س منصوبے کو کس طرح سے شفاف اور قابل عمل بنانا ہے یہ ہمارے لئے ایک امتحان ہے اور اگر یہ منصوبہ اس کی اصل روح کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان چند سالوں میں ہی ایشاء کا ٹائیگر بن جائے گا۔ظاہری سی بات ہے جہاں اتنی بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہو جہاں ترقی کے بے پناہ مواقع بننے جا رہے ہوں اور دشمن کی اس پر نظر نہ ہو؟ ایسا ہو نہیں سکتا شاید یہی وجہ ہے کہ جوں سے اس منصوبے کا افتتاحی کام ہو ا ساتھ ہی دشمن قوتوں نے اپنا کام شروع کر دیاسب سے پہلے انھوں نے اس کو متنازعہ بنانے لئے اس پر نام نہاد الزامات کی بو چھاڑ کر دی اس کو متنازعہ بنانے کے لئے نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے سے پروپگنڈا کیا گیا کھبی اس کی پر بھاری شرح سود پر قرض بتایا گیا ،کھبی اس کو ملکی سالمیت کے خلاف قرار دیا گیا ،کھبی اسے بدنام زمانہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیح دی گئی کھبی اس پر سیکنڈ ہینڈ مشینری استعمال کرنے الزمات لگائے گے جب یہ سب حربے ناکام ہوئے تو دشمن قوتوں نے اس پر لگائے جانے والے سرمائے پر سوالات اٹھا دیے جب وہاں بھی بات نہ بنی تو علاقائی قوتوں کو اس کے روٹ پر لڑانے کی ناکام کوشش کی گئی بلاشبہ ایک بڑے منصوبے کی راہ میں ایسی رکاوٹیں آنا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ یہ رکاوٹیں اس کی افادیت اور اہمیت کو اور بھی اجاگر کرتی ہیں اور اس منصوبے سے جڑی پاکستان کی ترقی و کامرانی کو ظاہر کرتی ہیں ۔اس بڑھتے ہوئے دشمن پروپگنڈے کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے گزشتہ روز اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں PFC اور CPNE کے زیر اہتمام سی پیک کے حوالے سے ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا اس سیمینار میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کالم نگاروں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس سیمینار میں خصوصی طور پر چین کے قائمقام سفیر لی جیان زیونے شرکت کی ان کے علاوہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین، مجید نظامی، مرکزی صدر PFC ملک سلیمان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات علی ظفر مہمان خصوصی تھے ڈاکٹر عشرت چونکہ سابق گورنرا سٹیٹ بینک بھی رہ چکے ہیں اور انھیں ایک مایہ ناز معیشت دان کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے انھوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر سی پیک کے تمام پہلوؤں کا بڑی خوبصورتی سے تجزیہ پیش کیا اور اسے پاکستان کی بقاء اور ترقی و خوشحالی قرار دیا بعد ازاںCPNEکے چئیرمین مجید نظامی نے میڈیا میں چلنے والی سی پیک سے متعلق بے بنیاد خبروں پر بڑا ماہرانہ تجزیہ پیش کیا اور شرکاء کو بتایا کہ کس وجہ سے سی پیک کو ہماری دشمن طاقتیں متنازعہ بنانے کی کوشش میں ہیں-

تقریب میں پاکستان میں سی پیک حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لئے سوال و جواب کئے گئے چینی سفیر نے بڑی برباری اور خوبصورتی سے اس کے تمام پہلو میڈیا اور خصوصا کالم نگاروں کے سامنے پیش کیے انھوں نے بتایا کہ کس طرح میڈیا کے چند چینل اور انٹر نیشنل میڈیا میں سی پیک کے حوالے سے غلط اور گمراہ کن خبریں نشر کی جا رہی ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں اور ایک منظم پروپگنڈا اس حوالے سے پیش کیاجا رہا ہے اس پروپگنڈے سے پاکستانی عوام میں ابہام پایا جاتا ہے ایسے ابہام کو قبل از وقت روکنے (کاؤنٹر)کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ ایک ایسے سمینار کا انعقاد کیا جائے جس میں پاکستان کے بڑے نامور میڈیا پرسن کالم نگا ر موجود ہوں تاکہ ان کے ذریعے سے ایسے مذموم پروپگنڈے کا سد باب کیا جا سکے تقریب کے معزز مہمان گرامی نے پر اعتماد طریقے سے شرکاء کو یہ بتایا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی و حوشحالی تو ہو سکتی ہے مگر یہ پاکستان کے لیے مضر ہر گز نہیں ہے سی پیک پرسب سے پہلے اعتراض کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی قیدی ہیں جو کہ جہاں پر لگائے جانے والے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس کا بڑے واضح الفاظ میں چین کے سفیر نے بتایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں یہ صرف منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے-

میڈیا میں یہ پروپگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ شاید چین دوسری ایسٹ انڈیا کمپنی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے اس پر بھی چین سفیر نے بتایا کہ کس طرح اس منصوبے سے کمایا جانے والا سرمایہ پاکستان سے چین تھروپراپر چینل چین منتقل ہو گا اور اس کا فائدہ پاکستان کو بھی اتنا ہی ہو گا جتنا چین کو اس حوالے سے مہمانوں نے ان نام نہاد الزامات پر خصوصی روشنی ڈالی اور شرکاء کو بتایا کہ یہ سب دشمن پراپیگنڈے کا حصہ ہیں جو کسی بھی طور پر درست نہیں ہے اس تقریب میں سی پیک کے حوالے سے تمام امور زیر بحث آئے جس میں روڈ انفرا سٹرکچر، توانائی انفراسٹرکچر ،روڈ نیٹ ورک گوادر پورٹ اور سی پیک کے روٹ پر لگائی جانے والے بڑے صنعتی زون قابل ذکر ہیں تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ PFC اور CPNE کے پلیٹ فارم سے متعدد نامور کالم نگاروں نے اس میں خصوصی شرکت کی ۔ PFC اور CPNEبڑی کوششوں کے بعد ایسا سیمینار منعقد کیا ایسے سیمینار کا انعقاد اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستانی عوام کے ذہنوں میں سی پیک کے حوالے ایک ایسا غلط اور بے بنیاد ابہام پیدا کیا جا رہا تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ایسے پروپگنڈے کو قبل از وقت کاؤنٹر کرنا اور اس کی وضاحت کرنا بہت ضروری تھا گزشتہ روز ہونے والے سیمینار سے سی پیک کے حوالے سے عوام میں پایا جانے والا ابہام دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلا شبہ سی پیک پروجیکٹ خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے جس کا تحفظ ہر زی شعور ترقی پسند پاکستانی پر فرض ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 133468 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
29 Jun, 2018 Views: 438

Comments

آپ کی رائے