کلیاتِ محسنؔ بھوپالی‘ تقریبِ اجراء۔ آنکھو ں دیکھا حال

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

’’کلیاتِ محسن بھوپالی‘‘ اردو کے معروف شاعر محسن ؔ بھوپالی کے مختلف شعری مجموعوں پر مشتمل ہے، کلیات کی تقریبِ اجراء آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام جمعہ 29جون 2018ء منعقد ہوئی، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان مہمان خصوصی تھے۔ڈاکٹر صاحب کی شرکت نے اس ادبی محفل کو چار چاند لگا دئے۔تقریب کی صدارت پروفیسر سحرؔ انصاری نے کی، مقررین میں ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی، عقیل عباس جعفری، عبدا لحسیب خان، رضوان صدیقی، محسن ؔ بھوپالی کی صاحبزادی شاہانہ جاویدشامل تھیں، میزبانی کے فرائض راشد نور نے انجام دیے۔یوں تو آرٹس کونسل کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام روز ہی ادبی محفلوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن یہ محفلِ شعر و ادب اس اعتبار سے منفرد ، بے مثل و یکتا تھی کہ اس میں پاکستان کی ایک مقبول اور ہر دلعزیز شخصیت محسن پاکستان، پاکستان کو جوہری طاقت سے مالا مال کرنے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان مسند نشیں تھے۔بھوپال کی پہچان ، کراچی کی آن ، پاکستان شان عبدالقدیر خان کی تقریب میں موجودگی نے وسیع ہال کو شاعروں اور ادیبوں کے جھرمٹ میں باغ و بہار بنا دیا تھا۔

محسنؔ بھوپالی کی شاعری تو اپنی جگہ مقبول ہے لیکن محسنؔ کو کئی اور اعتبارسے انفرادیت اورتخصیص حاصل ہے ۔ان کی شاعری میں ادب ، سیاست اور معاشرے کے گہرے مطالعہ کا عکس نظر آتا ہے، سیاسی موضوعات کو بھی انہوں نے مہارت سے بیان کیا ہے۔ ان کے بعض بعض اشعار اپنی جگہ ضرب المثل اشعار کا درجہ رکھتے ہیں۔وہ اشعار سیاسی جلسوں میں اکثر سیاست داں ایک شعر پڑھ کر اقتدار کی منزل پر پہنچنے والوں کو نیرنگئ سیاست کا طعنہ محسن ؔ کے اس شعر سے دیا کرتے ہیں ؂
نیرنگئ سیاستِ دوراں تو دیکھے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

محسن ؔ بھوپالی کی بعض غزلیں بے انتہا مقبول ہوئیں ، ان غزلوں میں ایسا درداور جان تھی کہ گانے والوں کی گائیکی نے غزل کو امر کردیا ۔ ایک مشہور غزل جسے مقبول گلوکارہ گل بہار بانونے خوبصورت انداز سے گایا آج بھی صاحب ذوق اس غزل کو ذوق و شوق سے سنتے ہیں ؂
چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری
روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی اپنی مجبوری
جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آجاتی ہے مصنوعی مجبوری
مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ
ہم نے ساری عمرنباہی اپنی پہلی مجبوری

تقریب شام6بجے شروع ہونا تھی، خوشی کی بات یہ تھی کہ اس پر عمل بھی ہوا، ہم تو قبل از وقت پہنچ گئے تھے اس لیے اگلی نشست مل گئی۔تقریب کا مقررہ وقت پر شروع ہونا یقیناًڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کا وقت پر پہنچ جانا رہا ہوگا، ورنہ تو اس حوالے سے تقریبات وقت پر شروع نہ ہونے کا ریکارڈ انتہائی خراب ہے۔دو دو گھنٹے لوگوں کو انتظار کرنا پڑ جاتا ہے۔ کبھی کبھی اس قدر کوفت اور تکلیف ہوتی ہے کہ تقریب کے اختتام پر یہ کہہ کر نکلتے ہیں کہ اب ان کی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔ منتظمینِ محفل کو اپنے مہمانوں کا زرہ برابر خیال نہیں ہوتا۔اس تقریب اجراء کی سب سے اہم خصوصیت ڈاکٹر عبد القدیر خان کی شرکت کے بعد اس کا وقت پر شروع ہو جانا تھا اور یہ بھی ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے ہی ہوا۔ ہال وسیع تھا، تقریب شروع ہوئی مہمانوں کی تعداد بھی مختصر تھی ، جس میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوا، دیر سے آنے والے وہ احباب تھے جن کے ذہنوں میں ہوتا ہے کہ تقریب مقررہ وقت سے کم از کم ایک گھنٹہ بعد شروع ہوگی۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا، مہمانوں کی کمی کی ایک وجہ دعوت نامہ میں ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے سیکیورٹی کی پابندیا بھی تھیں۔ جن کا ذکر دعوت نامے میں کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود حاضری کم نہ تھی۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کا خوبصورت اے سی آڈیٹوریم IIشاعروں ، ادیبوں، دانشوروں ، صحافیوں ، کالم نگاروں کی لمحہ موجود میں موجودگی نے فضاء کو پر رونق بنایا ہوا تھا۔ ٹھیک چھ بچے راشد نور صاحب نے تقریب کے آغاز کا اعلان کیا اور معزز و محترم مہمانان گرامی کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں پروفیسر سحرؔ انصاری، پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم صدیقی، سینیٹر عبد الحسیب خان، عقیل عباس جعفری ، شاہانہ جاوید اوران کے بھائی راشد محسن اسٹیج پر پہنچے ۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ میزبان راشد نور نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبد القدیر خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور تمام مہمانان کو خوش آمدید کہا۔انہوں نے تعارفی کلمات میں محسن بھوپالی کی شاعری پر اظہار خیال کیا اور محسن مشہور اشعار بھی پڑھے۔
آنکھیں پھیر نے والو یہ بھی سوچا ہے
ڈوبتے وقت سورج سورج رہتا ہے

محسن ؔ بھوپالی کی صاحبزادی اور کلیات محسن ؔ کی کی ترتیب ، تدوین و اشاعت کی روح رواں شاہانہ جاوید تقریب کی پہلی مقررہ تھیں اور میزبان بھی، انہوں نے ڈاکٹر عبدا لقدریر خان اور دیگر مہمانان کا شکریہ ادا کیا، اپنے والد مرحوم کی یادوں کو دلفریب انداز سے تازہ کیا۔ شاہانہ جاویدنے بتایا کہ ان کی والد کی اکثر کتب کی اشاعت فرید پبلشرز نے کی۔تقریب کے دوسرے مقرر اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ عقیل عباس جعفری تھے ان کا کہنا تھاکہ وہ محسن ؔ بھوپالی پر تحریری مقالہ لکھنا چاہتے تھے لیکن بوجوہ اسے مکمل کمپوز نہیں کر سکے لیکن ان کی گفتگو کا محور وہی مقالہ ہوگا۔ انہوں نے کہا محسن ؔ بھوپالی کی شاعری میں جدت نظر آتی ہے ۔ محسنؔ اردو شاعری میں کئی اعتبار سے منفرد اور نمایاں تھے کتب کی رونمائی کا آغاز 1961ء میں محسن ؔ کے شعری مجموعے ’شکست شب‘ سے ہوا ، یہ تقریب حیدر آباد میں منعقد ہوئی تھی، اس کے بعد جسے کتابوں کی رونمائی اور تقریب اجراء کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عقیل جعفری صاحب کا کہنا تھا کہ اس تقریب سے قبل فیض احمد فیض ؔ کے مجموعہ کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس ضرور منعقد ہوئی تھی ۔انہوں نے بتا یا کہ محسن ؔ بھوپالی کے حوالے سے دوسری جدت ’’نظمیانہ ‘‘ ہے ، نظمیات کے خالق بھی محسن بھوپالی ہی ہیں۔تیسری جدت محسن ؔ کے حوالے سے واکا اورجاپانی صنف ہائیکو کے عمدہ ترجمے ہیں ۔ محسن ؔ بھوپالی کا یہ قطعہ بہت مشہور ہوا اور آج بھی اسے مقبولیت حاصل ہے۔ اس کا آخری شعر سیاست دانوں نے اپنے لیے منتخب کر لیا ہے۔
تلقین اعتماد وہ فرمارہے ہیں آج
راہ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگئ سیاستِ دوراں تو دیکھے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

سینیٹر عبد الحسیب خاں صاحب نے تقریب کے انعقاد کے حوالے سے گفتگو کی ، انہوں نے کاکہا کہ محبت ! یہ ہم دونوں ہی کہتے ہیں مجھے تم سے محبت ہے ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ کس کو کس سے محبت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب شائع کرنے والا کوئی نہیں ، بے شمار کتب بڑے بڑے شاعروں اور مصنفین کی پڑی ہوئی ہیں انہیں دیمک لگ رہی ہے، انہوں نے ایسی اہم کتب کی اشاعت کے لیے ایک بورڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی اور اس بورڈ کی سربراہی کے لیے ڈاکٹر عبد القدیر خان کوسربراہ بنانے کی تجویز دی، کمیٹی میں دیگر اہم شخصیات کا شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔ ان کے بعد آنے والے مقرر آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ صاحب تھے، جنہوں نے آج کی اس خوبصورت محفل کا انعقادبھی کیا ۔ احمد شاہ نے بتا یا کہ وہ اور محسنؔ بھوپالی کے صاحبزادے راشد محسن کے بچپن کے ساتھی رہے، ایک ہی اسکول میں پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ محسنؔ بھوپالی کبھی پولس کے کنسٹرکشن ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کیا کرتے تھے، انہوں نے محسن بھوپالی سے اپنے تعلق کی تفصیل بیان کی۔ ساتھ ہی انہوں نے عبد الحسیب خان صاحب کی تجویز کے جواب میں کتب کی اشاعت کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل اسی وقت فرمادی لیکن اس کی سرپرستی ڈاکٹر عبد القدیر خان کو سونپنے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بہت مصروف اور ان کی خدمات دیگر بڑے کاموں کے لیے وقف ہیں۔ احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان پہلے ہی کتب کی اشاعت کر رہی ہے ، وہ اب اس جانب اور توجہ دے گی۔ جامعہ کراچی کے سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی کا کہنا تھا کہ میں محسن پاکستان ن محسن بھوپال آج یہاں تشریف لائے میں افتخار محسوس کر تا ہوں، ڈاکٹر پیرزادہ کا کہا کہنا تھا کہ قائد اعظم کے بعد اگر کوئی مقبول ترین شخصیت ہے تووہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی ہے، ان کی علم ا ور ادب دوستی پرسیر حاصل گفتگو ہونا چاہیے ۔ محسن ؔ بھوپالی کے حوالے سے ڈاکٹر پیرزادہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سیماب اکبر آبادی سے اصلاح لی ، ان کے کلام پر فیضؔ ، مجتبیٰ حسین ، ممتاز حسین ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی آرا موجود ہیں۔ نظمانے ان کی ایجاد ہے، وہ فرازؔ کے ساتھیوں میں سے تھے۔انہوں نے بتا یا کہ 1961ء میں محسن ؔ بھوپالی کا مجموعہ شکستِ شب شائع ہوا تو اس کے اثرات ایسے ہوئے کہ وہ ایک استعارہ بن گیا۔ڈاکٹر پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں وہ لاڑکانہ جیسے چھوٹے شہر میں رہ کر انہوں نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیاتھا ۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر سحرؔ انصاری نے فرمایا کہ محسن ؔ بھوپالی کا اصل نام ’’عبد الرحمٰن ‘‘ تھا لیکن انہوں نے محسنؔ کو اپنی پہچان بنا لیا۔شاعر اکثر اپنے تخلص سے ہی معروف ہوا کرتے ہیں۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ لوگ شاعر کے اصل نام سے واقف ہی نہیں ہوتے جیسے خود سحر ؔ انصاری صاحب کا اصل نام انور مقبول انصاری ہے اور وہ سحرؔ انصاری کے نام سے ہی معروف ہیں، اسی طرح ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا اصلی نام سید دلدار علی تھا لیکن دنیا انہیں فرمان فتح پوری کے نام سے جانتی ہے کا کہنا تھا کہ محسنؔ بھوپالی وقت کے پابند،وہ اس کا خیال رکھنے والے تھے، وہ جب گھر سے نکلتے تو جو کام انہیں کرنا ہوتے اس کی ایک فہرست بنا لیا کرتے جو کام ہوجایا کرتے اسے فہرست سے کاٹ دیا کرتے، ان کی خوبیوں کو بھلا یا نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے اپنی شاعری میں سیاسی، سماجی اور جمالیاتی پہلوؤں کو اہمیت دی۔سحرؔ صاحب نے کہا کہ محسن ؔ نقوی کی کتابیں بہت پڑھی گئیں، انہوں نے شاعری میں سیاسی ، سماجی اور اجتماعی مسائل کو سامنے رکھا جو کسی ہم عصر کے ہاں نظر نہیں آتا۔ انہو ں نے تجربوں کی جانب خاص توجہ دی۔ ان کے قطعات بھی خاصے مشہور ہوئے ۔ان کا یہ شعریکھئے ؂
یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
ترا خیال ہے یا دن نکلنے والا ہے

پروفیسر سحرؔ انصاری نے کہا کہ جب انہوں نے ہائی کو کی جانب توجہ دی تو اس میں مہارت اور خوبی کا دامن تھامے رکھا، وہ بات کو سمیٹ کر کہنے کا ھنر رکھتے تھے۔ جیسے انہوں نے کہا ؂
بات بین السطور ہوتی ہے
شعر میں حاشیے نہیں ہوتے

پروفیسر سحرؔ انصاری کا کہنا تھا کہ محسن بھوپالی نے خاکے بھی لکھے ۔ وہ بہت ہی معقول شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے ورثہ نے یہ کلیات مرتب کر کے بہت ہی عمدہ کام کیا ہے ۔ خاص طور پر شاہانہ بہت ہی متحرک ہیں فیس بک پر اور سوشل میڈیا پر، وہ ایک اچھی وارث ہیں۔ میں اس اعلیٰ خدمت پر مرتبین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبد القدیر خان کو خطاب کی دعوت دی گئی لیکن ڈاکٹر صاحب نے سامعین میں بیٹھے رضوان صدیقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے اپنے تعلق کے ساتھ درخواست کی کہ وہ اظہار خیال کریں پھر وہ کچھ بات کریں گے ۔ چنانچہ تالیوں کی گونج میں رضوان صدیقی اپنے مخصوص انداز میں مائیک پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ لفظوں کا گہوارہ ، جنت کے پھولوں کا نظرانہ ڈاکٹر صاحب کے لیے۔ مجھ جیسے کم فہم کا کچھ کہناصدر مجلس کے بعد مناسب تو نہیں لگتا لیکن ڈاکٹر صاحب کا حکم ڈالا بھی نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے محسنؔ بھوپالی کے حوالے سے مختصر بات کی ان کا کہنا تھا کہ یہاں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں ان سب سے زیادہ پرانا تعلق میرا محسن ؔ ؔ بھوپالی سے ہے کیونکہ وہ حیدر آباد سے تعلق رکھتے تھے اور میں بھی حیدر آباد کا ہوں۔ ہم ایک ہی اسکول میں پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے محسن بھوپالی کے ساتھ گزرے لمحات اور ادبی محفلوں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ محسن ؔ جس سطح کے آدمی تھے مجھے یہ کہنے دیجئے کہ قیام پاکستان کے بعد شعر عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کا اگر کسی نے کام کیا ہے تو وہ محسنؔ بھوپالی ہیں۔
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے کہا کہ محسن ؔ کے نام کے ساتھ بھوپالی لگا ہے ، بھوپال ہماری آن ہے، ہماری شان ہے ، جس کے نام کے آگے بھوپا ل لکھا ہو سمجھ لیں وہ ھیرا ہے ۔ انہوں نے بھوپال کی تہذیب اور شائستگی کا بطور خاص ذکر کیا، ان کا کہنا تھا کہ اقبالؔ بھی بھوپال میں آئے تھے۔ انہوں نے شگفتہ فرحت کا بطور خاص ذکر کیا انہوں نے بھوپال سے تعلق رکھنے والوں کے لیے کافی کام کیا۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ بھوپال نے لاتعداد شاعر پیدا کیے۔ بھوپال شعراء پر ایک تذکرہ مرتب ہوچکا ہے جس میں بے شمار بھوپالی شخصیات کا ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کا گہوارہ لاہور تھا ، یہاں کتب خانے اور پبلشرز بڑی تعداد میں تھے،وہاں اردو کو پذیرائی حاصل ہوئی، اردو کو کوئی نہیں مٹا سکتا، یہ تو عرب ممالک میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اس موقعہ پر انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ الطاف بھائی کے طرف سے لیٹر بھی اردو ہی میں جا یا کرتے تھے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی زبان بولنے والے سے ہوتا۔یہ اشارہ تھا بھتے کی پرچیوں کی جانب۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اردو کو شارخ خان، عامر خان اور سلمان خان نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ سردار عبدالرب نشتر نے محسنؔ بھوپالی کا یہ شعر پڑھا کہ ’نیرنگئ سیاستِ دوراں تو دیکھے...منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے ‘ تو اکثر لوگوں نے اس شعر کو شعر عبدا لرب نشتر سے ہی منسوب کردیا ۔ڈاکٹر صاحب نے یہ شعر بھی پڑھا ؂
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے بتایا کہ محسنؔ بھوپالی نے ایٹمی دھماکوں کے بعد میرے لیے یہ قطعہ تہنیت لکھا ؂
ْصحرائے جستجو میں تھا صورت سراب
پچیس سال پہلے جو تھا محض ایک خواب
اسلاف کے اصول کو پیش نظر رکھا
دشمن نے پہل کی تو دی ہے اسے جواب
برحق ہے ہم محافظ ملت اگر کہیں
عبدالقدیر خان پہ جچتا ہے یہ خطاب

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں بہت عرصے رہے پھر برلن اور وہاں سے ہالینڈ چلے گئے۔ کراچی میں سندھ کے لوگ بہت پیاری اردو بولا کرتے تھے۔ انہوں نے امین فہیم ، پیر پگارا کا بطور خاص ذکر کیا۔ یہ لوگ اردو میں شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے شیر شاہ میں رہے تھے۔ لیاری میں بسنے والی قوم جسے مکرانی کہا جاتا ہے ، انتہائی پر مزاح، نرم مزاج، رحم دل اور سادہ ہیں،لیکن ہم نے نہ معلوم انہیں کیا کیا بنا دیا۔ کہنے لگے کہ وہ ایک دن بس میں چاکیواڑہ سے میرانا، لیاری ندی کے برابر والی سڑک سے ناظم آباد جارہے تھے۔بس کا ڈرائیور مکرانی تھا، چلتے چلتے اس نے گاڑی ایک دم بیچ سڑک پر کھڑی کردی، لوگ حیران تھے کہ کیا معاملہ ہے کچھ دیر میں وہ ڈرائیونگ سیٹ سے نیچے اترا میں نے جھانک کر دیکھا تواس نے گاڑی کے سامنے سڑک پر موجود بلی کے ایک بچے کو اٹھا رکھا تھا اور اسے اپنے مخصوص انداز سے کہہ رہا تھا کہ ’’بینڑا یہ کوئی باغیچہ ہے یہاں گھوم رہا ہے ‘‘۔ پھراس نے اس بلی کے بچے کو فٹ پاتھ پر رکھا اور واپس گاڑی چلانے لگے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقریر میں شعر محسنؔ بھوپالی کا یہ شعر بھی پڑھا ؂
اس لیے سنتا ہوں محسنؔ ہر فسانہ غور سے
اک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت

ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ اس کتاب کی تشہیر آرٹس کونسل کے توسط سے اس طرح کی جائے کہ اس کتاب کا ایک نسخہ پاکستان کی تما م جامعات کے کتب خانوں کو تحفے کے طور پر بھیجا جائے ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی مرتب کردہ شاعروں کے کلام کے انتخاب پر مبنی کتاب کا ذکر کیا ، انہوں نے کہا کہ وہ کتاب چھپی اور چند دنوں میں ختم ہوگئی، تو میں نے دوبارہ اس کے چھپنے کا اہتمام کیا وہ بھی بہت جلد ختم ہوگئی ۔ ایک دن ایک صاحب نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب اس کتاب کی اس قدر مقبولیت کی وجہ کیا ہے ؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا اس کی وجہ اس کتاب کا مفت تقسیم ہوتا ہے۔ اگر کتاب کی کچھ بھی قیمت ہوتی تو یہ کتاب ختم نہ ہوتی بلکہ اس میں پکوڑے بک رہے ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب کی پرمزح تقریر کے کے ساتھ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی، فوٹو سیشن ہوا، کئی احباب نے اپنی تصانیف ڈاکٹر صاحب کی نذر کیں اس موقع سے ہم نے بھی فائدہ اٹھا یا اور اپنی تازہ ترین کالموں کے مجموعہ پر مشتمل کتاب ’’رشحاتِ قلم‘‘ ڈاکٹر صاحب کی خدمات میں پیش کی۔

محسن ؔ بھوپالی کے شعری مجموعوں میں شکتِ شب، ماجرا، گرد مسافت، موضوعاتی نظمیں،منظر پتلی میں، روشنی تودیے کے اندر ہے، شہر آشوب کے علاوہ نثری کتب میں کینیڈا اور امریکہ کا سفر نامہ’ حیرتوں کی سرزمین ‘، نقدِ سخن اور قومی یکجہتی میں ادب کا کردار (انٹر ویوز) شامل ہیں۔ محسن ؔ بھوپالی کا وصال 17جنوری2007ء کو کراچی میں ہوا اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ محسن ؔ بھوپالی کے چند شعر ؂
جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں
جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں
کس قدر نادم ہوا ہوں میں برا کہہ کر اسے
کیا خبر تھی جاتے جاتے دعا دے جائے گا
قطعہ
شوق پرواز تو ہے خوب مگر
حدِ پرواز پر نظررکھو
جب بھی پاؤکوئی نیا اعزاز
اپنے آغاز پر نظر رکھو
فن کے کچھ اور بھی ہوتے ہیں تقاضے محسنؔ
ہر سخن گو تو سخنور نہیں ہونے پاتا
یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 669905 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
09 Jul, 2018 Views: 779

Comments

آپ کی رائے