چائے کی بالائی (مزاحیہ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

چائے کی بالائی سے ہر اس شخص کو واسطہ پڑتا ہے جو چائے پیتا ہے۔ اس سے نہ چائے کا سودائی و شیدائی بچ سکتا ہے اور نہ ہی چائے کا ہر جائی دامن بچا سکتا ہے۔ اس بالائی سے سابقہ ہر اس شخص کی قسمت میں لکھا ہے جس کی قسمت میں چائے کا کپ یا پیالی یا پیالہ لکھا ہے۔ ویسے ’مئے‘ کا جام اور پیالہ ہی ادب میں معروف ہوا ہے ، کسی ادیب یا شاعر سے استفسار کیا جا سکتا ہے کہ بھئی مئے کا جام اور پیالہ تو سنا ہے کبھی مئے کی پیالی نہیں سنی گئی، ویسے مئے کا گلاس بھی کوئی نہیں بولتا، پتہ نہیں کیوں مئے پینے، پلانے والے اتنے با ہوش تو نہیں رہتے کہ اس طرح کے تغیرات و تصرفات تو ممنوعات سے بچے رہیں، جہاں شرع و شرم کا کوئی لحاظ نہ رہا ہو ، وہاں زبان ، روزمرہ یا تلفظ کی اتنی پرواہ کہاں رہ جاتی ہے۔ پھر بھی پتہ نہیں کہ ا س سارے مظہر کے پیچھے کیا اسباب و اہترازات ہیں ۔ خیر ہمیں بھی ضد نہیں ہے کہ آج ہم مئے کے جام یا پیالے کو ’پیالی ‘بنا کر ہی دم لیں گے۔ یہ مئے پرستوں کی ذاتی صوابدید ہے ، ہم تو چائے پرست ہیں ، اس لئے ہم اپنی ڈومین میں واپس آتے ہیں اور پھر سے چائے کی بالائی کی بات کرتے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ چائے کا موجد ’بودیدھرما‘ غالباً چین کا ایک فلسفی تھا جسے ایک رات ایک سوچ سوچتے سوچتے نیند نے آلیا۔ اس کی آنکھ لگ گئی ۔ جب صبح اٹھا تو اس کے ذہن سے بہت سارے خیالات غائب ہو چکے تھے جو کافی دیر سوچنے اور غورو فکر کرنے کے باوجود واپس نہ آئے اس نے مایوسی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں اپنی آنکھوں کو مورودِ الزام ٹھہریا اور شدید جذباتی کیفیت میں اپنی آنکھوں کے پپوٹے کاٹ کر پھینک دیئے ۔تا کہ اسے آئندہ کبھی نیند ہی نہ آئے، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں اس نے اپنے پپوٹے پھینکے تھے وہاں سے ، اس کے پپوٹوں سے چائے کا پودا اگا اور پھر وہاں سے ساری دنیا پر پھیل گیا ۔ آج کل چائے کا بہت بڑا استعمال اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے کہ نیند نہ آئے۔ آج کل تھکاوٹ اتارنے کے لئے بھی ہر شخص چائے کا استعمال کرتا ہے۔تعجب ہوتا ہے کہ برف بیچنے والا یا برف کے گولے بیچنے والا، ریہڑی والا اور ہوائی جہاز والا ، سبھی ’چائے پرست‘ یا ’چائے نوش‘ بن چکے ہیں۔

برِ صغیر میں چائے لانے کا سہرا انگریزوں کے سر سجایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے آغاز میں لوگوں کو مفت چائے پلائی اور جب وہ چائے کے عادی ہو گئے تو پھر چائے کے کپ کی قیمت پڑی جو کہ اس وقت سے آج تک بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ پاکستان کے موجودہ کرنسی ریٹ میں چائے کا عام ہوٹل سے عام کپ مبلغ بیس روپے میں خریدا جا سکتا ہے، چائے پی کر چینی کا کپ واپس بھی کرنا ہوتا ہے، گھر نہیں لے جا سکتے اگر کبھی لے بھی جائیں تو واپسی لازم ہوتی ہے یا اس کی قیمت علیحدہ ادا کرنا پڑتی ہے۔

چائے کو پنجابی ،دیہاتی یا عام زبان میں ’ چاہ‘ بھی بولا جاتا ہے۔ اور وہ پرانا ضرب المثل ’جہاں چاہ، وہاں راہ‘ اس پر بالکل ایسے ہی صادق آتا ہے اور صادر ہوتا ہے جیسے وہ کبھی اس ’چاہ‘ کے لئے ہوتا تھا جس سے لوگ پانی نکالا کرتے تھے۔ اور خود بھی پیتے اور اپنے جانوروں کی بھی پیاس بجھایا کرتے تھے۔ پانی تو ہر مخلوق کی ضرورت ہے لیکن چائے کو یہ شرف اور انفرادیت حاصل ہے کہ اسے صرف اشرف المخلوقات یا بنی آدم ہی پیتے ہیں۔ اس بات کی مجھے تو کوئی خبر نہیں ہے کہ آج کل کے جنات بھی چائے کے چسکے لگاتے ہیں یا نہیں۔
’ چسکی‘ کی جگہ ’ چسکا‘ میں نے جان کے لکھا ہے کہ جنات کی چسکی نہیں چسکا ہی ہو گا۔ ویسے چائے جتنی عام اور خاص ہو چکی ہے میرا خیال ہے کہ جنات بھی انسانوں کی پیروی میں ضرور پیتے ہوں گے کیوں بنی آدم، جنات سے برتر ہیں اس لئے برتر قوم کی برتری چاہے تسلیم نہ کی جائے لیکن اس کی نقل ضرور کی جاتی ہے جیسا کہ مشرق کے لوگ، امریکہ یا یورپ کو جتنا جی چاہے برا بھلا کہہ لیں لیکن پیروی میں کسی یورپی یا امریکی سے پیچھے نہیں رہتے۔ خیر جنوں سے ہمیں کیا لینا دینا ، ہم نے کون سی ان کی ضیافت کرنی ہے۔ ویسے جنات کے گوشت کھانے کی باتیں زبان زد عام ہیں ، کسی عامل سے جنوں کے چائے پینے کا سوال بھی پوچھ لینا چاہیئے، علم میں اضافہ ہی ہو گا پھر ہو سکتا ہے کسی جن کو کسی ہوٹل پے چائے بھی پلائی جا سکے۔آپ نے بھی اگر آنا ہو تو آ سکتے ہیں۔

’چائے کی بالائی ‘کا ٹوپک بار بار سلپ ہو رہا ہے، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں یہ جان بوجھ کے کر رہا ہوں ۔ بالکل نہیں۔ لیکن مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ ایسا ہو ضرور رہا ہے۔ بسا اوقات ٹوپک’ سلپری‘ ہوتے ہیں اور بحث سے اکثر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں اور ساری بحث سمیٹنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اصل ٹوپک تو اس بحث کی لپیٹ میں لپیٹا ہی نہیں گیا بلکہ وہ تو بحث کی سطح سے نیچے پڑا رہا ہے اور بڑے بڑے دانش ور ’بحثیئے‘ کسی اور بات پر ہی اپنی گل فشانی کرتے کرتے تھک گئے ہیں اور سننے والے سن سن کے سن ہو گئے ہیں اور کانوں میں تیل ڈلوانے کا سوچ رہے ہیں۔ ستم یہ کہ چائے کی بالائی بھی ’ تھِندی‘ یعنی چکنائی والی یا سلپری ہوتی ہے اس لئے اس عنوان کے بار بار سلپ ہونے کا حق بھی بنتا ہے،۔۔۔۔ ہماری جانبداری یا غمازی بالکل نہیں ہے۔

تنہائی میں چائے کی بالائی کوئی مسائل پیدا نہیں کرتی کیوں وہ ساری گھر کی بات ہوتی ہے اور گھر میں ہی رہتی ہے۔ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ بندی تھوڑا سا بے مزہ سا ہوتا ہے، ذاتی طور پے تھوڑی سے خفت محسوس ہوتی ہے اور پر آدمی منہ صاف کر لیتا ہے ، کوئی بات نہیں ، جب کسی نے کچھ دیکھا ہی نہیں تو پھر پریشانی کس بات کی۔ ساری پریشانی تو دوسروں کی نظر کی ہوتی ہے جس سے ہم گرنا نہیں چاہتے اور سارا کچھ اسی لئے کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں عزت بنی رہے ورنہ ہم اپنی نظر میں تو جیسے ہوتے ہیں ویسے ہی ہوتے ہیں۔

چائے کی بالائی اکثر محفل میں شرمندگی کا سبب بن جاتی ہے۔ چائے کی چسکی لگا کر آدمی جب ہونٹ کپ کے کناروں سے پیچھے ہٹاتا ہے تو بالائی کا ایک حصہ باقی سطح سے کٹ کر منہ اور نچلے ہونٹ کے ساتھ چپک جاتا ہے جس سے دیکھنے والوں کی نظریں فوراً اس منظر کو اپنے کیمروں میں کیپچر کرنے کے لئے لپکتی ہیں اور بالائی کا شکار ہونے والا اپنا سا منہ لے کے رہ جاتا ہے اور فوراً ہاتھ، رومال یا کسی اور کپڑے سے ،اگر دستیاب ہو، بالائی کی اس ’ ٹکڑی‘ کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن شرمندگی اس کی آنکھوں سے نکل کر پورے چہرے پر چھا جاتی ہے اور وہ بیچارہ نظریں جھکا لیتا ہے یا اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ اس کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ کس کس نے دیکھا ہے۔ اگر زیادہ لوگوں نے نہ دیکھا ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ کچھ بچت ہو گئی اور اگر کسی نے بھی نہ دیکھا ہو تو پھر تو کچھ ہوا ہی نہیں لیکن اگر زیادہ لوگوں نے دیکھ لیا ہو تو اپنے جذبات کو دوبارہ سے کمپوز کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ انسان اگر کسی عنوان پر اپنی دانش کے گوہر لٹا رہا ہو تو اس کی گل افشانی ایک لمحے کے لئے رک بھی جاتی ہے اور بعض اوقات اس کی تمازت بھی پھیکی پڑ جاتی ہے ۔ اس سے انسان کی بیوقوفی ظاہر ہو جاتی ہے ،جو ہم میں سے کوئی بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔

کچھ لوگ بڑے دانا ہو تے ہیں، وہ اپنی عزت و آبرو چائے کی بالائی کی زد میں آنے ہی نہیں دیتے۔ وہ چسکی لگانے سے پہلے ہی ہاتھ کی ایک یا دو انگلیوں سے بالائی پکڑتے ہیں اور اسے یا تو کپ سے باہر کہیں پھینک دیتے ہیں یا اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے چائے اور کپ کی جدائی کا صدمہ دینے کی بجائے کپ کی دیوار کے ساتھ چپکا دیتے ہیں کہ لو اب اس چائے کے خاتمے کا تماشا دیکھو کہ اس کے ساتھ ہوتا کیا ہے۔ اور چائے کا کپ ختم ہونے پر یہ بالائی چائے کی جدائی اور غم میں سوکھ سوکھ کے سخت اور دبیز ہی جاتی ہے جس کو دھوتے وقت کافی مشکل پیش آتی ہے۔

کچھ ان سے بھی زیادہ سمجھ دار چائے نوش، بالائی کو کپ سے باہر پھینکنے یا دیوار سے لگانے کی بجائے اس کو چائے میں ایک آدھ غوطہ دیتے ہیں اور پھر اس کی ساری اکڑ، ملائم ہو جاتی ہے اور پہلے یا دوسرے گھونٹ میں ساری بالائی جو کہ چائے کی اصل طاقت یا دودھ کی حاصل زر ہوتی ہے ان کے اندر چلی جاتی ہے۔ اور اس طرح چائے پر خرچ کی جانے والی رقم کا کوئی حصہ ضائع نہیں جاتا ۔ ایسا کرنے والے بجا طور پر زیادہ سمجھ دار لوگ کہے جا سکتے ہیں۔

بعض اوقات چائے کی بالائی ایک مسئلہ یا الجھن پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا اس صورت میں ہوتا ہے کہ چائے کی سطح پر بالائی اپنا راج قائم کر چکی ہو اور پینے والا اس میں ہاتھ کی انگلی مارنے سے اجتناب برت رہا ہو ،جس کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔ اور کوئی چمچ وغیرہ بھی دستیاب نہ ہو۔ اور وہ اس بالائی کو اپنی حکمت سے ، اپنے ہونٹوں سے دور بھی ہٹانا چاہتا ہو اور کوئی زبردستی بھی نہ کرنا چاہتا ہو ۔ اس صورت میں وہ چائے کا کش لگاتا ہے اور چائے کی بالائی ایک’ حریص جپسی‘ کی طرح چائے کا تعاقب کرتی ہے اور کچھ کچھ منہ میں بھی چلی جاتی ہے اور کچھ باہر رہ جاتی ہے اور اس صورتِ حال کو برقرار رکھ کر بار بار دہراتی ہے۔اس طرح چائے پینے والا ، کپ کی تلچھٹ نمودار ہونے تک اس بالائی کی آنکھ مچولی کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ اس کی چائے نوشی کا سارا مزا اس کی احتیاط کی ’کِرک‘ کی نذر ہو جاتا ہے اور اگر وہ اپنی آبرو محفوظ رکھتے ہوئے چائے کے ساتھ انصاف کر دے تو اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ بڑا ’مدبر‘ سمجھنے میں حق بجانب ہے۔ لیکن اگر وہ چائے کی بالائی کا شکار ہو جائے تو اسے اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ضرور محسوس ہوتی ہے، کرے یا نہ کرے یہ علیحدہ بات ہے۔

چائے کی بالائی کی بابت ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک بار بالائی کا صفایا کر لینے کے بعد ، وہ دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے ۔ لیکن دوبارہ سر اٹھانے کی صورت میں وہ پہلے جیسی طاقت کبھی بھی حاصل نہیں کر پاتی۔ جس طرح کی اکثر ہوتا ہے کہ ایک بار شکست کھانے کے ببعد دوبارہ وہ قوتیں سر نہیں اٹھاتیں ۔ لیکن چائے کی بالائی سر ضرور اٹھاتی ہے لیکن پہلے جیسی طاقت سے محروم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کہا جاتا ہے ’ رسی جل گئی ، پر بل نہ گیا ‘ ۔ چائے پر دوبارہ بالائی آنے میں ایک خوشی کی بات بھی ہوتی ہے کہ جیسے دودھ خالص تھا۔ لیکن دودھ کا خالص ہونا ضروری نہیں کیوں کہ اب کیمیکلز سے بالائی ، بلکہ موٹی بالائی لانے کا بندوبست ہو چکا ہے۔خیر ایسا سمجھ لینا صحت کے لئے مفید ضرور ہے۔ اور دودھ خالص نہ بھی ہو تو اسے خالص ہی سمجھنا صحت کے لئے نفسیاتی طور پے زیادہ سود مند ہے۔

بالائی دودھ کی ہو، دہی کی ہو یا پھر چائے کی ہو ،ہوتی مزیدار ہے۔ اس لئے ہماری ’ریکوسٹ‘ ہے کہ چائے اور اس کی بالائی کا احترام کرتے ہوئے ، بالائی کو چائے کا تحفہ سمجھ کر کھا یا پی لینا چایئے۔ اس سے چائے کی خشکی میں کچھ کمی واقع ہو سکتی ہے اور، اور چائے پینے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے تو آپ اپنی مرضی کرنے کا سو فی صد حق رکھتے ہیں ۔ ویسے بھی جمہوری دور میں اپنی مرضی کرنا زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے ۔اس سے بندے کا باشعور ہونا ظاہر ہوتا ہے، ویسے ’ لائی لگ‘ تو وہ صدیوں سے رہا ہی ہے۔ چائے انفرادیت کو تقویت دیتی ہے۔ جیسے معجونیں دماغ کی صلاحیت بڑھاتی ہیں ایسے ہی چائے ذہنی صلاحیتیں نکھارتی ہے اور اس کی بالائی اس کا عرق اور مغز ہے اس لئے اس کا استعمال بھی اپنے مزاج اور طبیعت کے مطابق احتیاط سے کر لینا چایئے۔
 

11 Jul, 2018 Views: 773

Comments

آپ کی رائے