مردہ سانپ اور زمانے کا بہترین شخص

(Rabi Ul Alam, )

حضرت سیدنا عباس بن راشد علیہ رحمۃاللہ الواجد فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور جب واپس جانے لگے تو میرے آقا نے مجھے حکم فرمایا:''تم بھی ان کے ساتھ جاؤ۔''چنانچہ، میں بھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جانے کے لئے سوار ہوا۔ جب ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا تو اس میں راستے پر ایک مردہ سانپ پڑا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی سواری سے نیچے اترے اور سانپ کو دفن کرکے پھر سوار ہوگئے اور ہم اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔ اتنے میں ایک غیبی آواز آئی: ''یا خرقاء! یا خرقاء!''ہم آواز تو سن رہے تھے لیکن کوئی نظر نہ آرہا تھا ۔حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:''اے غیبی آواز دینے والے! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں کہ اگر تم سامنے آ سکتے ہو تو آ کر ہمیں بتاؤکہ یہ خرقاء کیا ہے؟'' اس نے جواب دیا:''خرقاء وہی سانپ ہے جس کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دفن کر دیا ہے۔ میں نے ایک دن سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس سانپ سے یہ فرماتے سنا تھا، ''اے خرقاء! تم چٹیل زمین میں مرو گے اور زمانے کا سب سے بہترمؤمن تمہیں دفن کریگا۔'' آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: ''اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! یہ تو بتاؤ کہ تم کون ہو؟''اس نے بتایا، ''میں ان سات جنات میں سے ہوں جنہوں نے اس وادی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی ۔''آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دوبارہ پوچھا: ''کیا واقعی تم نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟'' اس نے کہا: ''جی ہاں۔''یہ سننا تھاکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھوں سے سیل اشک رواں ہو گیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے چل دئیے۔''
(تاریخ دمشق لابن عساکر، الرقم۵۲۴۲،عمر بن عبد العزیز، ج۴۵، ص۱۴۵۔۱۴۶)
(حلیۃ الاولیاء، عمر بن عبد العزیز،الحدیث۷۴۶0، ج۵، ص۳۷۵)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 16371 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 349

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ