یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسبان اس کے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عائشہ صدیقہ، سیالکوٹ
کہا جاتا ہے کہ’’فرد قوموں کے مزاج کے آئینہ دار ہوتے ہیں‘‘۔ افراد اگر ذمہ دار، قانون کی پاسداری کرنے والے اور نرم خو ہوں گے تو قوم بھی تہذیب یافتہ ہوگی۔ ’’قومیت‘‘ ہمارے اتحاد و تنظیم کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ صوبائی، لسانی اور نسلی تعصبات سے بالاتر ہو کر عدل و مساوات کا پرچار کرتی ہے۔ اسی طرح قومیت ہم سے کچھ انفرادی ذمہ داریوں کی متقاضی ہے۔

بحیثیت پاکستانی، قوم کے ہر فرد پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو کسی بھی پرامن معاشرے کے قیام اور فلاح کے لیے ضروری ہیں۔ ایک اچھا شہری علم رکھتا ہے کہ وہ اپنے ملک، معاشرے اور انسانیت کی بہتری کے لیے اپنا انفرادی کردار کیسے ادا کرسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست کے افراد ذمہ دار ، قومی فرائض سے آگاہ اور حب الوطنی کے جذبے سے لبریز ہوں تاکہ مشکل وقت میں کسی قربانی سے دریغ نا کریں۔

بطور پاکستانی ہمارا اولین فریضہ ہے کہ اپنے نصب العین اور اپنی آئیڈیالوجی کا تحفظ اور دفاع یقینی بنائیں کیونکہ جو قومیں اپنی نظریاتی اساس فراموش کر دیتی ہیں، تاریخ کے صفحات میں ان کا قیام عبرت کا ایک قصہ بن کر رہ جاتا ہے۔ بانی پاکستان نے حصول پاکستان کے مقصد کو بڑے واضع الفاظ میں یوں بیان کیا: ’’ہم نے پاکستان اس لیے حاصل نہیں کیا تھا کہ ہم زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا چاہتے تھے بلکہ ہم۔ایک ایسی تجربہ گاہ چاہتے تھے جہاں اسلامی اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔

پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ ملکی آئین کا تحفظ اور دفاع کرے چونکہ نظریہ پاکستان کی اساس اسلام ہے، لہٰذا آئین میں ایسی کوئی شق شامل نا ہو جو اسلامی تعلیمات سے انحراف کرے۔

ہر شہری کی ذمے داری ہے کہ ’’ تمام قومی اور مقامی قوانین کی پاسداری کرے۔ تمام ملکی حالات سے باخبر رہے۔ اپنے ہم وطنوں کی مذہبی و سیاسی رائے کا احترام کرے۔ اپنے ووٹ کو امانت سمجھتے ہوئے اس کا درست استعمال کرے۔ معاشرے کی بہتری کے لیے اخلاص سے کام کرے۔ انتظامیہ کو اپنے تمام ٹیکس اور بلز ایمانداری سے بروقت ادا کرے۔ معاشرے پر تنقیدی نظر رکھے اور کوئی بھی خرابی ہوتے دیکھے تو ہر ممکن طریقے سے حق کا ساتھ دے۔ معاشرے کے گھمبیر مسائل کی وجوہات پر توجہ دے تاکہ تدارک ممکن ہوسکے۔ ضرورت پڑنے پر ملک کا ہر ممکن دفاع کرے اور اخلاقی قدروں کو پامال ہونے سے بچائے اور ان کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرے۔

عفوو درگزر، صبر اور برداشت سے کام لے کیونکہ برائی کا جواب برائی میں دینے سے معاشرہ بگاڑ کی طرف جاتا ہے، لہٰذا نیکی، بھلائی اور قربانی ہی امن بحال رکھ سکتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’بھلائی اور برائی ایک جیسی نہیں تم برائی کو بہترین چیز (نیکی) سے ختم کرو‘‘۔

اچھے شہری کی بہترین خصویت وقت کی قدردانی ہے، ہمیں چاہیے کہ لغویات بالخصوص سیل فون ،فلموں، ڈراموں، اور بے کار کھیلوں میں وقت برباد کرنے کے بجائے اپنا قیمتی وقت تعلیم و ترقی اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں۔ اپنی تاریخ اور مقاصد سے واقف ہوں۔ ایک دوسرے کی اچھے کاموں میں مدد اور حوصلہ افزائی کریں۔ ہر شہری بالخصوص طالبعلم اور نوجوان طبقہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو محنت اور لگن سے پورا کریں۔ بجائے یہ کہ کامیابی کے لیے شارٹ کٹ ڈھونڈے یا بدعنوانی کا ارتکاب کرے۔ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہمیں بنا ہاتھ ہلائے سب کچھ پلیٹ میں سجا ہوا مل جائے اور ہم عیش و عشرت میں زندگی گزاریں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے لیے محنت بھی نا گزیر ہے، کچھ پانے کے لیے کچھ قربان کرنا پڑے گا یہی قانون فطرت ہے۔
مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی
جہاں میں ملی صرف ان کو بڑائی
کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی
فضیلت نہ عزت نہ فرماں روائی

ہر پاکستانی شہری کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ماحول کی درستی کی فکر کرے۔ اسے صاف ستھرا رکھے، پانی کے ضیاع، کوڑے کے ڈھیر، قدرتی وسائل کے بے جا استعمال سے اجتناب کرے اور ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کی کوشش کرے۔ انفرادی مفادات پر ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دے کر ملک سے وفاداری کرے اور ایسا کوئی کام نا کرے جو پاکستان کے لیے اقوام عالم کی نظروں میں شرمندگی کا باعث بنے۔

پاکستان کو برا نا کہے بلکہ اس کے وقار کا تحفظ اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھے۔ پاکستان کے لیے اکثر یہ شکوہ زبان زدِ عام رہتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ اس سے پہلے پاکستان حق بجانب ہے کہ ہم اسے جواب دیں کہ ہم نے اس کے لیے کیا کیا؟ محض غربت کے خوف سے ہم اپنی جوانی پاکستان پر خرچ کرنے کے بجائے باہر کے ملکوں کا رخ کرلیتے ہیں۔ یاد رکھیے عبدالستار ایدھی بھی اس قوم کا فرزند ہے اور عبدالقدیر خان جیسے سپوت بھی اس مٹی کی پیداوار ہیں جنہوں نے حب الوطنی کی لاج اپنی سخت محنت اور قربانیوں سے رکھی۔ ہمارے گوہر نایاب، شہداء اور گمنام سپاہی جو اپنی زندگی وطن عزیز کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ ہم پر بھی اس زمین کا اتنا ہی حق ہے کہ ہم اس کے لیے انہی کی طرح ایمانداری اور اخلاص سے جدوجہد کریں اور اقوام عالم کے لیے اپنی مثال قائم کریں۔ آئیے عہد کریں کہ خود کو ایک اچھا شہری ثابت کریں گے اور ملکی سلامتی و ترقی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نا کریں گے۔
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520177 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 296

Comments

آپ کی رائے