ثمن کی پریشانی

(Maryam Arif, Karachi)

خصوصی صفحہ برائے اطفال
تحریر: دیا خان بلوچ،لاہور
پچھلے تین دن سے ایک ہی چیز میری توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی اور وہ یہ تھی کہ دوسری جماعت کے طالبعلم بریک ٹائم میں جب لنچ کرتے تو سب کے ساتھ شیئر کرتے سوائے ایک کے۔یہ ننھے منے بچے سارا دن تو ساتھ گزارتے ہیں ،اب نجانے لنچ کرتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ ساتھ بیٹھی ہماری ساتھی کو بھی بھوک لگی ہوگی ۔ہمیں اس کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔میری برداشت اس دن ختم ہو گئی جب میں نے ثمن کی پیاری پیاری آنکھوں میں آنسو دیکھے۔میں نے اسے اپنے پاس بلایااور پوچھا کہ وہ رو کیوں رہی ہے؟

ٹیچر کچھ نہیں۔اس نے جواب دیا۔اچھا ،آپ لنچ کیوں نہیں کر رہی ہیں؟آج لنچ نہیں ہے میرے پاس۔اطلاع دی گئی۔کیوں ؟مما نے نہیں دیا۔اچھا مما نے پیسے دیے ہیں؟نو ٹیچر ،پیسے نہیں ہیں۔بھوک لگی ہے؟میں نے پوچھا۔یس ٹیچر۔اس نے اثبات میں سرہلایا۔میں نے اپنے بیگ سے پیسے نکالے اور اس کی طرف بڑھا دیے۔جاؤ کینٹین سے جا کر لے آؤ جو بھی آپ کو کھانا ہو۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔وہ اداسی جو چند لمحے پہلے چھائی تھی،اب یکسر غائب تھی۔

اس کے جانے کے بعد میں سوچنے لگی کہ یہ آج کل کے بچے کتنے بدل گئے ہیں،انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ جو ہمارے ساتھی ہیں ،دوست ہیں ہمیں ان کو کھانا کھلاناچاہیئے۔اگر آج ان کے پاس کھانا نہیں تو ،کل ہوگا۔کیا ہوجائے گا اگر ہم ان کے مل بانٹ کر کھا لیں گے۔دو لقمے ایک دن کم کھالیں گے تب بھی ہم زندہ رہیں گے،اوران دو لقموں سے کسی اور کا پیٹ بھر سکتا ہے تو کیوں نا ہم یہ پیارا سا کام کر لیں۔یہ سوچ ان میں نہیں تھی،یہ احساس انہیں دلایا نہیں گیا تھا۔میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ان معصوم سے بچوں میں یہ عادت ڈالنی ہے کہ جب بھی کھانا کھاؤ تو اپنے دوستوں یا ساتھ بیٹھے لوگوں سے ضرور پوچھیں اور ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔

تھوڑی دیر بعد ثمن جماعت میں موجود تھی،وہ بھی مزے کے سموسوں کے ساتھ۔اسے خوش دیکھ کر مجھے بہت سکون ملا تھا۔اگلے دن معمول کے مطابق سب کام ہوتے رہے،ثمن چونکہ پڑھائی میں اچھی تھی ،اس لئے سب اس کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے،اس کے ساتھ مشورہ بھی کیا کرتے تھے اور وہ سب کی مدد کرنے کو ہر دم تیار رہتی تھی۔۔پر آج میں نے ثمن سے کہا :ثمن! آپ کسی کو کچھ نہیں بتائیں گی۔نا ہی آپ کسی سے بات کریں گی۔جب یہ آپ کی دوست نہیں ہے تو پھر آپ اس سے بات کیوں کریں گے؟سارے بچے میرا منہ تکنے لگے کہ ٹیچر کیا کہہ رہی ہیں۔جی ،بالکل درست سنا ہے آپ نے۔جب آپ لوگوں کو ایک دوسرے کا احساس نہیں تو پھر بات کرنے کی ضرورت نہیں ۔آپ صرف مطلب کے لئے بات کرتے ہیں ،جیسے مطلب پورا ہو جاتا ہے اس کے بعد کوئی کسی کو پوچھتا ہی نہیں۔میں نے ذرا غصے سے کہا۔سارے بچے ایک دم خا موش ہوگئے تھے۔ان سب کو بھی محسوس ہوگیا تھا کہ وہ غلط کرتے ہیں یہ کوئی اچھی عادت تو نہیں۔

میں نے کہا:پیارے بچوں!بھوکے انسان کو کھانا کھلانے کا بہت اجر ملتا ہے۔اگر آپ اپنے سارے دوستوں کے ساتھ کھانا مل بانٹ کر کھائیں گے تو اﷲ تعالیٰ آپ سب سے خوش ہوگے اور آپ کے کھانے میں برکت بھی ہوگی۔جماعت میں سکوت طاری تھا۔بچے تو معصوم ہوتے ہیں ،جس راستے پر چلانا چاہو راضی ہو جاتے ہیں ۔اب میری ذمہ داری یہی تھی کہ میں ان کو سمجھاتی اور صحیح اور غلط راستے کا بتا تی اور میں نے ایسا ہی کیا تھا۔تھوڑی دیر بعد سب بچے ایک ساتھ بولے: سوری ٹیچر ،آج سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم سب مل جل کر رہا کریں گے۔کسی ایک کو خود سے الگ نہیں کیا کریں گے۔ہم بہت اچھی دوستیں بن کر رہیں گی۔ان کے وعدوں کا مجھے اعتبار تھا کہ جو یہ کہتے ہیں وہی کرتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521794 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2018 Views: 593

Comments

آپ کی رائے