اب نہیں۔۔۔۔قسط 5

(Sana, Lahore)
یہ اس کہانی کا پانچواں حصہ ہے قسط 1,2۔اس کہانی کا تیسرا اور چوتھا حصہ ہے۔ کسی بھی مشکل کی بنا پر ثناء آرٹیکل پر کلک کریں ۔تاکہ پوری کہانی کو پڑھ سکیں۔شکریہ۔

گھر بہت خوبصورت تھا ۔حریم نے اپنے لیے اور شہروز کے لیے ایسے ہی گھر کی خواہش کی تھی۔ میری جان کیا سوچ رہی ہو اندر نہیں چلنا کیا ۔شہروز اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ شہروز ہم یہ کہاں آۓ ہیں۔ اندر چلو پھر بتاتا ہو۔ حریم گاڑی سے اتر گئی تھی اور پھر شہروز کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھی گھر اندر سے بے حد شاندار بنا ہوا تھا گیراج سے آگے گزرتے ہی کسی لڑکے نے شہروز سے ہاتھ ملایا تھا اور آہستہ سے کچھ کہا تھا ۔حریم سن نہیں پائی تھی ۔پھر شہروز نے حریم کا ہاتھ تھام لیا تھا اور وہ سیڑھیاں چڑھ کے اوپر والے حصے میں آ گئے تھے۔ اوپر بھی ایک لڑکا موجود تھا ۔اس نے ایک بند کمرے کا دروازہ کھولا تھا ۔اور باقی جتنے بھی کمرے تھے سب بند تھے ۔ کچھ عجیب سی جگہ محسوس ہو رہی تھی ۔ وہ کوئی ہوٹل بھی نہیں تھا۔ لیکن اسے لگ رہا تھا جیسے باقی کمروں میں بھی لوگ موجود ہیں۔ شہروز اور وہ کمرے میں آ گئے تھے. حریم کا دل جیسے بند ہو رہا تھا ۔شہروز نے کمرے کو لاک کر دیا تھا۔اور اس کے ساتھ آ کے کھڑا ہو گیا تھا۔حریم اب تو چادر اتار دو یار مجھے تمہیں دیکھنا ہے ۔بلکہ رکو میں اتار دیتا ہوں۔ شہروز یہ ٹھیک نہیں ہے ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے ۔ چپ کر جاؤ سب ٹھیک ہے تم میری زندگی ہو۔اور ہمیشہ ہم نےساتھ ہی تو رہنا ہے ۔پر شہروز کسی کو پتا چل گیا تو کیا ہو گا۔ میں ہوں نا مجھ پہ یقین رکھو ہمیشہ تمہارے آگے کھڑا رہوں گا۔ پھر چادر یوں سرکی تھی کہ زندگی میں اندھیرا چھا گیا تھا ۔

اس دن کے بعد وہ عجیب ہی مایوسی کا شکار ہو گئی تھی۔ اب جب بھی شہروز اور وہ ملتے تھے شہروز کی ایک ہی خواہش ہوتی تھی۔لیکن حریم کو سخت الجھن ہونے لگی تھی ۔ہر دفعہ کوئی نیا گھر نئے کمرے ہوتے تھے۔ کیسی دنیا تھی وہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ وہ جیسے پھنس چکی تھی۔اور یہ سب صرف اس بات کی وجہ سے تھا کاش وہ تب الیشا کی بات مان لیتی۔وقت تیزی سے گزر رہا تھا پھر ایک دن وہ ہوا جس کہ بعد اذیتوں کا طوفان آگیا۔

جلدی جلدی کپڑے اتار حریم بارش کو بھی آج ہی برسنا تھا ۔ میں نے اتنی محنت سے سارے کپڑے دھوئے تھے ۔تجھے بھی آج کل پتا نہیں کیا ہو گیا ہے کام کرتے تو موت پڑنے لگی ہے تجھے۔اماں کر تو رہی ہوں ۔ہاں ہاں جلدی کر اور پھر اپنی چچی کے گھر بھی ہو آئیں تیری دادی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اماں دادی کو ادھر ہی لے آتے ہیں ۔ابا کو بھی روز وہاں جانا پڑتا ہے ۔اور چچا بھی تو گھر نہیں ہوتے ابا کا وہاں کیا کام ہے ۔ اے رک یہ بات اپنے باپ کے سامنے ہرگز نا کریں کیوں اس عمر مجھے گھر سے نکلوانا ہے ۔اماں آپ میری بات تو سن لیں ۔دیکھ حریم تیرا باپ گھر آجاتا ہے یہی بہت ہے اس بھرم کو قائم رہنے دے بس تو اور جا کھانا بنا پھر چچی کی طرف ہو آ۔ اماں کاش آپ ہی مجھے سمجھ سکیں ۔حریم حاموشی سے اٹھ گئی تھی ۔کھانا بھی بڑی مشکل تیار کیا تھا ۔آج کل کھانا پکاتے یا کھاتے ہوئے اسکی عجیب ہی حالت ہو جاتی تھی دل خراب ہونے لگتا تھا۔ کھانا تیار کر کے وہ چچی کی طرف آ گئی تھی ۔دادی کی حالت بہت ہی خراب تھی نیم بےہوشی میں بولی جا رہی تھیں ۔اور چچی اپنے کمرے میں بیٹھیں نیل پالش لگا رہی تھیں۔اسے دیکھ کے ایک دم سیدھی ہوئی تھیں ۔تم تم کب آئی کسی نے مجھے بتایا ہی نہیں ۔ کچھ نہیں ہوتا چچی پری نے دروازہ کھولا ہے وہ پڑھ رہی ہے شاید آپ کو بتانا بھول گئی ہو گی ۔ہاں تمہیں تو پتا ہے میرے بچوں کی پڑھائی کتنی مشکل ہے ۔بیچارے ہر وقت پڑھتے رہتے ہیں ۔ اچھا تم بیٹھو میں جوس لے کے آتی ہوں ۔حریم کو پتا تھا کتنا پڑھتے تھے ان کے بچے ابھی پچھلے دنوں پری کو چچا سے مار پڑی تھی ۔اکیڈمی کے لڑکے کے ساتھ چکر چل رہا تھا ۔ساتویں جماعت میں فیل ہو گئی تھی پر مجال ہے چچی نے اس کے بعد بھی اپنے آپ میں کوئی تبدیلی لائی ہو ۔حریم تمہاری اماں تو آتی ہی نہیں ہیں لو بھلا میں نے کیا کہا ہے انھیں میں تو تم سب سے اتنا پیار کرتی ہوں پر تم لوگوں کو نا میں پسند ہوں نا میرے بچے ۔

نہیں چچی ایسا کچھ نہیں ہے اماں کام کرتی ہیں نا روزانہ جانا پڑتا ہے تو تھک جاتی ہیں ۔ اور میں تو آتی ہی رہتی ہوں باقی بچے اپنی پڑھائیوں میں مصروف ہیں کسی کے پاس فرصت ہی نہیں ہوتی ۔ چچی کا تو منہ ہی بن گیا تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے گھر سے باہر نکال دیں ۔ لیکن اسے بھی تو نہیں بیٹھنا تھا سخت نفرت تھی اسے اس دوغلی عورت سے ۔

گھر آتو گئی تھی پر چچی کے کمرے میں اس نے جو گھڑی دیکھی تھی وہ تو اس کا سوچ کے دل جل گیا تھا ۔کسی کو پتا کیوں نہیں چلتا کہ کیا چل رہا ہے ۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ شہروز کی کال آ گئی تھی ہیلو مائی لو میری جان کیسی ہو ۔ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں دو دن سے آپکا نمبر بھی بند تھا۔ حریم میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا ۔شہروز آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں میں کتنی پریشان تھی ۔او سوری نا اچھا کان پکڑے ہوئے ہیں میں نے معاف کر دو مجھے پلیز پلیز پلیز ۔اچھا بابا کان چھوڑیں اور پلیز آئندہ ایسے مت کی جئے گا ۔اور ہاں وہ میں نے پوچھنا تھا آپ گھر کب بات کر رہے ہیں۔ کر لوں گا یار میں دو دن شہر سے باہر رہا ہوں اتنی باتیں تھیں بتانے والی اور تم پھر وہی بات لے کے بیٹھ گئی ہو ۔ شہروز دیکھیں ایسے کب تک چلے گا ۔ مجھے بہت ٹینشن ہوتی ہے ۔اب تو طبیعت بھی خراب رہنے لگی ہے ۔ اچھا تو میری جان کی طبیعت نہیں ٹھیک کیا بات ہے آج کل بہت طبیعت خراب رہنے لگی ہے ۔نہ کیا کرو نا گھر کے اتنے کام اتنا کہتا ہوں اپنا خیال رکھا کرو ۔اچھا سنو کل ملتے ہیں میں تمہیں ڈاکٹر کے چیک کروا دیتا ہوں ۔ نہیں رہنے دیں آگے ہی کالج سے اتنی چھٹیاں ہو گئی ہیں ۔ چلو ایک اور سہی مجھے پتا ہے تم مجھے کبھی انکار نہیں کرو گی ۔ اچھا چلیں ٹھیک ہے ۔یہ ہوئی نا بات چلو ابھی آرام کر لو ۔ باۓ۔

حریم یار کیا حالت بنا لی ہے اپنی ایسے لگ رہا ہے صدیوں سے بیمار ہو شہروز مسلسل اس کو دیکھ رہا تھا آنکھوں کے نیچے اپنے حلقے دیکھے ہیں کیا لگ رہی ہو کچھ اندازہ ہے ۔ شہروز مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ہر چیز پہ دل خراب ہوتا ہے ۔ اچھا بس میری ایک جاننے والی ڈاکٹر ہیں وہ آنے ہی والی ہوں گی ۔شہروز یہ کیسا ہسپتال ہے ۔مجھے تو عجیب سی ہی جگہ لگ رہی ہے چار کمرے ہیں اور نا کوئی مریض ہے نا ڈاکٹر ۔ تم چھوڑو جیسا بھی ہےہم نے تو بس چیک اپ ہی کروانا ہے اس کے بعد ہم روم میں چلیں گے ۔ روم میں نہیں آج نہیں شہروز میری حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ حریم میں تمھارے ساتھ اکیلے کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں تمہارے علاوہ کون ہے میرا کوئی بھی تو نہیں ہے ۔ صاحب جی ڈاکٹر آ گئی ہیں آپ بی بی جی کو بھیج دیں اندر ۔ایک عجیب سی عورت اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لینے کے بعد شہروز سے مخاطب ہوئی تھی ۔ چلو شاباش حریم اٹھو اندر چلتے ہیں ۔ حریم کو کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔لیڈی ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ کیا تھا۔اور پھر اسے اس عورت کے ساتھ دوسرے کمرے میں بھیج دیا تھا۔ یہ تیرا بندا ہے تیرے ساتھ اس عورت نے حریم سے پوچھا تھا ۔ آپ کو اس سے مطلب حریم کو سخت گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔ دیکھ تو شریف گھر کی لگتی ہے تبھی تجھ سے پوچھ رہی ہوں ۔ادھر بندوں والیاں کم ہی آتی ہیں ۔اور جو آتی ہیں بییچاریاں تجھ جیسی معصوم ہوتی ہیں ۔کیا مطلب آپ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ دیکھ میری بات دھیان سے سن تو اگر شادی شدہ ہے تو یہاں سے جانے کے بعد تیرا بندہ تجھے ایک گولی دے گا مت کھائیں اور ہاں یہ رکھ لے پکڑ بھی اسے استعمال کر لینا تجھے خود حقیقت پتا لگ جائے گی۔ کالے لفافے میں کوئی چیز اس عورت نے اسے دی تھی ۔ اس کے بعد شہروز اور وہ روم میں آ گئے تھے ۔اتفاق تھا یا کیا آج وہ دوسری بار اسی گھر میں مل رہے تھے بہت ہی بہترین گھر تھا ۔ہر چیز بہت اچھے سے بنی ہوئی تھی ۔ لیکن آج اسے مسلسل اس گھر میں بہت سارے مردوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔شہروز یہ آج اتنی آوازیں کیوں آ رہی ہیں ۔پتا نہیں آج ان گھروں کو چلانے والے مالکان آۓ ہوۓ ہیں ۔ کیا وہ لوگ بھی آتے ہیں ان گھروں میں آتے ہوں گے مجھے کیا پتا ۔سنو یہ جوس پی لو اور ساتھ یہ دوائی لے لو ڈاکٹر نے دی ہے تمہیں کمزوری بہت ہو گئی ہے تم بلکل اپنا خیال نہیں رکھتی ۔اچانک دروازہ ناک ہوا تھا ۔یہ کون آ گیا ہے حریم کی جان ہی نکل گئی تھی ۔گھبراؤ نہیں میرا دوست آیا ہو گا نیچے میں نے تمہارے لیے کچھ منگوایا ہے تم میڈیسن کھا کے لیٹ جاؤ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں اور ہاں روم اندر سے لاک کر لو ۔جی ٹھیک ہے جلدی آیۓ گا۔ حریم نے دروازہ تو لاک کر لیا تھا پر اسے تجسس ہو رہا تھا ان لوگوں کو دیکھنےکا جو یہ سب کام چلا رہے تھے ۔وہ اتنا تو جان گئی تھی ۔وہاں صرف وہ اور شہروز ہی نہیں ہوتے تھے اور بھی بہت سے جوڑے ہوتے تھے ۔ وہ چادر لے کے باہر نکل آئی تھی آواز اوپر والی منزل سے آ رہی تھی ۔ کسی آدمی کی آواز تھی۔واہ رفیق صاحب آپ آج اپنے ہی غریب خانے پہ کیسے آپ تو بہت بڑے لوگ ہیں آپ دونوں بھائیوں نے یہ کام ایک گھر سے شروع کیا تھا اور آج آپ کے کتنے ہی گھر ہیں ۔پھر جانی پہچانی آواز آئی تھی۔بھائی قسمت ہو تو رفیق صاحب جیسی ۔شہروز صاحب آپ بھی کم قسمت والے نہیں ہیں ۔آپ تو کوٹھیوں کے مالک ہیں پھر بھی ہمیشہ ہمارے غریب خانے کو اپنی خدمت کا شرف بخشتے ہیں بس آگے وہ کچھ نہیں سن پائی تھی۔ حریم سیڑھیوں کے ساتھ کھڑی جو منظر اور شکلوں کو دیکھ چکی تھی ۔اس کے بعد اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ بے غیرت ہے تو تیری اولاد بھی تیرے جیسی ہے بےغیرت۔میرا دوست باہر آیا ہے ابا کی آواز شہروز کی آواز ذہن جیسے آوازوں کی گونج سے پھٹ رہا تھا۔وہ بھاگ جانا چاہتی تھی بہت دور بہت مشکل سے وہ کمرے تک آئی تھی۔دروازہ اندر سے بند کر کے وہ جیسے پتھر کی ہو گئی تھی ۔ یہ سب کیا تھا کوئی بھیانک خواب تھا ۔ نہیں یہ حقیقت تھی ایک کڑوی حقیقت یا اللہ مدد کر ۔اسے اپنی حطائیں یاد آنے لگی تھیں۔ اماں کی باتیں اماں کا مان یہ کیا کیا حریم تم نے تم کیوں پاگل ہو گئی ایک انجان شخص کے پیار میں کیوں نہیں سمجھ سکی ۔ پھر ایک دم اس کے ذہن میں اس عورت کی بات آئی تھی ۔وہ کالا لفافہ کیا تھا اس میں وہ جلدی سے لفافے کو کھولنے لگی تھی ۔جو چیز اس لفافے کے اندر تھی اس نے اس پر مزید قیامت ڈھا دی تھی ۔ وہ ابھی باتھ میں ہی بیٹھی حیرانگی سے اپنے ہاتھ میں تھمی چیز پر پازیٹیو کا نشان دیکھ رہی تھی ۔(آگے جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana

Read More Articles by Sana: 13 Articles with 18834 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 467

Comments

آپ کی رائے
Hamari web .com ki trf sy is story ky iqsat num thk kr diye gaye hyn shukriya.
By: Sana, Lahore on Aug, 02 2018
Reply Reply
0 Like