اب نہیں۔۔۔۔قسط 6

(Sana, Lahore)

کہ روم کا دروازہ ناک ہوا تھا۔ اس نے وہ چیز فورا لفافہ میں واپس ڈالی تھی ۔ اور ڈسٹ بن میں پھینک کر خود کو نارمل کیا تھا ۔روم کا دروازہ کھولتے ہی شہروز بولنے لگا تھا کب سے ناک کر رہا ہوں کہاں تھی یار ۔ واش روم گئی تھی ۔ جوس نہیں پیا ابھی تک میڈیسن بھی نہیں کھائی تم نے کیا کرتی ہو میری جان بہت ہی لاپرواہ ہو گئی ہو ۔ شہروز میں سوچ رہی تھی اب ہمیں سب کو بتا دینا چاہیے کہ ہمارے بیچ کیا رشتہ ہے ۔ کیا مطلب ہے تمہارا یار ابھی مجھے فیوچر بنانا ہے فیملی کی ذمہ داری ہے مجھ پہ اور صرف تم مجھے سمجھ سکتی ہو۔ چلو ابھی میڈیسن کھاؤ اور تھوڑا آرام کر لو۔مجھے میڈیسن نہیں کھانی میں ٹھیک ہوں۔ کیوں نہیں کھانی بچوں کی طرح ضد مت کرو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں ۔ آپ پہلے مجھے یہ بتائیں ڈاکٹر نے کیا کہا ہے اور یہ میڈیسن کس لیے ہے۔کیا مطلب کس لیے ہے تمہیں انفیکشن ہو گیاہے اس لیے تمہارے پیٹ میں درد رہتا ہے اور دل خراب ہوتا ہے بس اسی کی میڈیسن ہے ۔ ٹھیک ہے میں کھا لیتی ہوں ۔لائیں دیں ۔یہ لو بلکہ پہلے میری بات سنو حریم میں تمہیں بہت چاہتا ہوں یار تمہیں کبھی تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ شہروز مجھے آپ پہ یقین ہے ۔لیکن آپ اپنے بچے کے بارے میں کیا کہیں گے ۔شہروز کے چہرے کا ایک رنگ گیا تھا اور ایک آیا تھا۔ بب بچہ کونسا بچہ تم کیا بات کر رہی ہو۔ آپکا بچہ ہم دونوں کا بچہ شہروز آپ جانتے ہیں میں کیا کہہ رہی ہوں۔ اوہ تو تمہیں پتا لگ گیا ہے کس نے بتایا ہے۔ کسی نے نہیں میں جانتی ہوں آپ میری الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ یہیں بھول گئے تھے ۔ یہ لیں آپ بھی دیکھ لیں ۔ حریم دیکھو میری بات سمجھو مجھے تم اور یہ بچہ دونوں بہت عزیز ہو پر میں ابھی اسی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ یہ ذمہ داری اٹھا سکوں ۔اور ویسے بھی ایسے بچوں کو کون اپناتا ہے ۔ ایسا بچہ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ یہ بچہ ناجائز نہیں ہے بیوی ہوں آپکی نکاح کر کے ہی اس تعلق کو قائم کیا تھا ہم نے جائز بچہ ہے یہ ہمارا اور شہروز اولاد تو ماں باپ کو بہت عزیز ہوتی ہے ہم دونوں اسے اپنائیں گے باقی سب جو بھی کہیں ہمیں اس سے کیا ۔ پاگل ہو گئی ہو تم کونسا نکاح کیسا نکاح کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ تم میری بیوی ہو بولو ہے کوئی ثبوت ۔کھانی ہے یہ میڈیسن تو کھاؤ نہیں تو تم اور تمہارا یہ بچہ دونوں بھاڑ میں جاؤ ۔ باہر انتظار کر رہا ہوں تمہاری اس حالت کا لحاظ کرتے ہوئے تمہیں گھر تک چھوڑ دوں گا اس سے آگے مجھ سے کوئی امید نا رکھنا۔

حریم کو یقین نہیں آرہا تھا یہ وہی شخص ہے جسے اس نے اتنے چاہا تھا۔ دل کو مضبوط کر کے وہ اسکے ساتھ گھر واپس آئی تھی ۔ راستے میں اس کے اور شہروز کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔لیکن شہروز نے اس واپسی پہ وہ میڈیسن تھما دی تھی ۔ تھکے ہارے قدموں کے ساتھ وہ گھر پہنچی تھی۔ گھر کا دروازہ کھولتے ہی اسکا دل کانپ گیا تھا سعد فرش پر بے ہوش پڑا تھا اور رمشہ پاس بیٹھی رو رہی تھی ۔ سعد سعد میری جان کیا ہوا رمشہ چپ کرو بھائی کو کیا ہوا ہے اور یہ کیا اس کے سر سے خون کیوں نکل رہا ہے اماں کدھر ہیں آپی اماں ہمیں گھر میں بند کر کے کام پہ گئی ہیں ۔اف خدایا رمشہ اندر سے میرا پرس لاؤ ۔حریم نے سعد کو گود اٹھا لیا تھا جلدی کرو رمشہ سعد میری جان میرے بھائی آنکھیں کھولو۔ حریم سعد کو لے کے قریب کے ایک ہسپتال میں آگئی تھی ۔ ڈاکٹرز سعد کو چیک کر رہےتھے ان کے مطابق چوٹ معمولی تھی سعد خوف سے بے ہوش ہو گیا تھا ۔ حریم نے ابا اماں دونوں کو فون کیا تھا پر کسی نے فون نہیں اٹھایا تھا ۔ سعد تھوڑی دیر بعد ہوش میں آ گیا تھا ۔ حریم اسکا ماتھا چوم رہی تھی سعد اور رمشہ کو اس نے بچوں کی طرح پالا تھا۔اماں کام پہ چلی جاتی تھیں ۔اور ابا کو گھر کے لیے فرصت ہی نہیں تھی۔ سعد میری جان کیا ہوا تھا ۔آپی یہ سعد دیوار چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے وہ ٹوٹی ہوئی کرسی بھی رکھی ہوئی تھی رمشہ روتے ہوئے بتا رہی تھی وہ دونوں ابھی پانچویں جماعت میں تھے سعد رمشہ سے ایک سال بڑا تھا۔ ابھی دونوں ناسمجھ تھے اس لیے لڑ تے رہتے تھے۔ اچھا چپ کرو رو نہیں ابھی گھر چل کے تم دونوں کو مزےدار سا آلو کا پراٹھا بنا کے دیتی ہوں۔ دونوں کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کہ اسے اپنا غم بھول گیا تھا۔ لیکن کوئی کرچی دل میں چبھ گئی تھی ۔وہ ماں بننے والی تھی ۔کیسی ماں تھی وہ جس کی نا کوئی خوشی تھی نا کوئی ساتھ دینے والا۔ گھر میں سب سو چکے تھے اماں بھی آج بہت پریشان تھیں ابا آج بھی گھر نہیں آئے تھے ۔فون آیا تھا انکا کہ مر تو نہیں نا گیا زندہ ہے نا ہو جائے گا ٹھیک بھی ۔حریم کو ہر شخص سے نفرت ہونے لگی تھی وہ ہاتھ میں پکڑی دوائی کو دیکھ رہی تھی کیا اسے کھا لینی چاہیے یہ میڈیسن نہیں میں نہیں کھا سکتی یہ گناہ ہے ۔پھر اندر سے ایک اور آواز آئی تھی گناہ جب تم ایک نا محرم سے محبت کا اظہار کرتی تھی ۔اس کے ساتھ پارک میں گھومتی تھی کیا وہ گناہ نہیں تھا۔ لیکن میں نے کبھی نکاح سے پہلے شہروز سے کوئی تعلق قائم نہیں کیا تھا ۔کیا کروں میں شہروز کو فون کرتی ہوں رات کے اندھیرے میں وہ شہروز کو اس کو اپنانے کی منتیں دے رہی تھی ۔پر شہروز نے ہر چیز سے صاف انکار کر دیا تھا ۔ ہر طرح کا واسطہ بیکار ہو گیا تھا ۔ ساری رات بہتے آنسوؤں کے ساتھ گزر گئی تھی ۔

صبح وہ کالج آ گئی تھی اور اس نے سب الیشا کو بتا دیا تھا الیشا پریشانی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔حریم یہ کیا ہو گیا یار کتنا منع کیا تھا میں نے کہ اس سے نکاح نا کرو پھر بھی تم نے میری ایک نہیں سنی ۔ اور اب تم کالج بھی نہیں آتی تھی جو میں تم سے کوئی بات کرتی ۔الیشا اب میں کیا کروں یار ۔ حریم زاروقطار رو پڑی تھی ۔ حریم سنبھالو خود کو تم میری بہن ہو میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔پر اب میں کیا کروں گی الیشا۔ تم فکر نہیں کرو ویسے بھی اب کالج والے ہمیں فری کر رہے ہیں تم میرے گھر چلو رہنے ۔پر یار گھر کون دیکھے گا اماں کو کام پہ جانا ہوتا ہے۔ ہاں یہ تو سوچنے والی بات ہے ۔اچھا تم اپنی اماں کو کہو تمہارے پیپرز ہیں اور تم نے میرے ساتھ تیاری کرنی ہے ۔وہ تمہاری پنکی خالہ بھی تو ہیں تمہارے بہن بھائی ادھر رہ لیں گے ۔ وہ تو ٹھیک ہے الیشا پر تمہارے گھر والے کیا کچھ نہیں کہیں گے ۔ نہیں یار بابا دبئی گئے ہوئے ہیں بھائی کے پاس اور ماما خالہ کے گھر جا رہی ہیں وہ بہت بیمار ہیں۔گھر میں صرف تم اور میں ہوں گے یا نوراں خالہ ہوں گی۔بس تم اپنی ماما سے پرمیشن لے لو پھر کل میں تمہیں تمہارے گھر سے پک کر لوں گی اور آج بھی میں ہی تمہیں گھر چھوڑوں گی اس حالت میں اتنا چلنا ٹھیک نہیں ہے آگے ہی تم اتنی کمزور ہو گئی ہو۔ حریم نے الیشا کو سینے کے ساتھ لگا لیا تھا ۔دوست تم یہ کبھی مت سمجھنا تم اکیلی ہو میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔ حریم کو بے حد سکون مل گیا تھا۔ الیشا نے واپسی پر اسے گھر چھوڑ دیا تھا ۔اور آج گھر آ کے اس نے اماں سے بھی اجازت لے لی تھی اماں چاہتی تھیں بس وہ پڑھ جائے ۔اماں نے بہت ساری باتیں کی تھیں آج اس سے اور اسے بہت دھیان سے رہنے کی نصیحت بھی کی تھی ۔

اگلے دن الیشا صبح ہی اسے لینے آگئی تھی اماں نے الیشا کو بہت پیار کیا تھا اور ڈھیر ساری دعائیں دی تھیں ۔پھر وہ اور الیشا گاڑی میں آ گئے تھے ۔ حریم سنو میری ایک سکول فرینڈ تھی اس کی بہن ڈاکٹر ہیں بہت اچھی ہیں وہ میں نے اپنی دوست کو تمہاری ساری اسچوئشن بتائی تو اس نے اپنی بڑی بہن سے بات کی بہت اچھی لڑکی ہیں وہ تمہاری ساری پریشانی کو اچھے سے سمجھ گئی ہیں ۔اور ابھی ہمیں ان کے کلینک پہ ہی جانا ہے ۔اور اسی لیے آج میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ نہیں آئی ہوں ۔الیشا یار میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی ۔ احسان پاگل بہنوں میں کوئی احسان نہیں ہوتا ۔حریم مسکرا دی تھی لیکن یہ سچ تھا کہ وہ یہ احسان کبھی نہیں چکا سکتی تھی ۔ تھوڑی دیر میں وہ کلینک پر تھے ۔ کیا ہم اندر آ سکتے ہیں الیشا نے دروازہ ناک کیا تھا آجاؤ الیشا تمہیں اجازت کی ضرورت نہیں ہے اوہ واو آج ایک اور مہمان بھی آئی ہیں ۔ جی جی یہ میر ی بہن میری دوست حریم ہے ۔ اچھا جی بیوٹی فل لیڈیز آپ بیٹھیں میں ذرا آپ کے لیے کچھ منگوا لوں ۔ نہیں آپ یہ تکلف رہنے دیں مریم کیسی ہے اس کا بتائیں ۔لو بھئی آپکی دوست ہیں آپ کو پتا ہو ان کے حال کا ۔ الیشا مسکرا دی تھی ۔ حریم چپ کر کہ بیٹھی تھی اسے گھن آنے لگی تھی اپنے آپ سے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ الیشا یہ تمہاری دوست خاموش رہتی ہیں کیا۔ نہیں یہ تو بہت بولتی ہے بس ابھی اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ ہمممم مجھے مریم نے سب بتایا ہے ۔ آؤ حریم میں تمہارا چیک اپ کر لوں ۔حریم بوجھل قدموں سے اٹھی تھی ۔ پھر اس کا سارا چیک اپ ہوا تھا ۔الٹراساونڈ بھی ہو گیا تھا ۔ ڈاکٹر نے اس سے کچھ باتیں پوچھی تھیں ۔ پھر وہ واپس الیشا کے پاس آگئے تھے ۔ ڈاکٹر کچھ پریشان لگ رہی تھیں ۔ کیا بات ہے شمع آپی سب ٹھیک ہے نا الیشا نے کچھ خاموشی کے بعد پوچھا تھا ۔ الیشا حریم کی پریگننسی تین ماہ کی ہے ۔لیکن بےبی کی گروتھ نہیں ہے اسکا پریگننسی میں بلکل خیال نہیں رکھا گیا ہے ۔ ہمیں اس بچے کو ابورٹ کرنا ہو گا ۔ حریم حریم حوصلہ کرو یار رو نہیں دیکھو ہر کام میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے ۔ الیشا نے اسے سینے سے لگا لیا تھا ۔ تم دونوں گھبراؤ مت میں یہ کچھ میڈیسن لکھ کہ دے رہی ہوں آج رات یہ حریم کو کھلانی ہے الیشا یاد رکھنا اگر ہم نے جلد ایسا نہیں کیا تو حریم کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے کل اسی ٹائم تم دونوں آ جانا ۔ابھی اسے گھر لے جاؤ اور اسکا خیال رکھو ۔ بہت شکریہ شمع آپی جیسا آپ نے کہا ہے میں بلکل ویسا ہی کروں گی ۔،(آگے جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana

Read More Articles by Sana: 13 Articles with 18843 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 519

Comments

آپ کی رائے