بنوں کا تاریخی و سیاسی پس منظر

(Shoukat Ullah, Banu)

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پینتیس بنوں میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمد اکرم خان درانی اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران احمد خان نیازی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا۔ انتخابات سے قبل چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہاں سے جیتنا آسان کام نہیں ہوگایہی وجہ تھی کہ وہ مصروف ترین انتخابی مہم کے دوران دو مرتبہ بنوں آئے اور اپنی تقریروں سے حلقے کے عوام بالخصوص نوجوان طبقے کے جنون میں اضافہ کیا۔ بنوں کے عوام نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا اور ایم ایم اے کے سرکردہ رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمد اکرم خان درانی کے مقابلہ میں زیادہ ووٹ دے کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اس کامیابی کے پیچھے کئی ایک عناصر کارفرما ہوسکتے ہیں لیکن سب سے بڑا عنصر بنوں کے عوام کی عمران خان سے والہانہ محبت و عقیدت اور عزت و احترام ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں حکمرانوں نے اس خطے کے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ بنوں ہر دور میں ایک تاریخی شہر رہا ہے جس کی وجہ ہندوستان اور افغانستان کے سنگم پر واقع ہونا ہے ۔ یہ بیرونی فاتحین کے لئے ہندوستان تک رسائی کا مختصر ترین رستہ تھا ۔ اکثر فاتحین اسی گزرگاہ سے ہندوستان میں وارد ہوتے تھے جو یہاں لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت کرتے، کھڑی فصلیں تہس نہس کرتے اور لوگوں سے لگان وصول کرتے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی فاتح بنوں کے لوگوں میں مقبولیت حاصل نہ کر سکا لیکن درانی حکومت میں احمد شاہ ابدالی ( درانی ) نے اپنی ذہانت اور تدبر سے یہاں کے لوگوں کو رام کیا اور اپنے لئے عزت و احترام کا مقام پیدا کیا۔ آج بھی لوگ انہیں ابدالی بابا کے نام سے پکارتے ہیں۔

جب سکندر اعظم فتوحات کی مستی میں سرشار بنوں پہنچا تو اُس نے بنوں کے مضافات میں آباد شہر مست رام کا نام تبدیل کر کے آکرہ رکھا جو کہ ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی ’’ اُونچی جگہ ‘‘ کے ہیں۔ محمود غزنوی نے بنوں میں لشکر زنی کے دوران یہاں کثیر تعداد میں ہندو قتل کئے جس میں بڑی تعداد میں مسلمان بھی شہید ہوئے تھے۔ آکرہ کے قریب ان شہداء کا قبرستان آج بھی موجود ہے۔ معز الدین غوری جس علاقے میں خیمہ زن ہوا ، اُس گاؤں کانام ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع ’’غوریوالہ ‘‘ سے مشہور ہے۔ چودہویں صدی عیسویں کے آواخر میں تیمور لنگ نے بنوں پر حملہ کیا۔ ظہیرالدین بابر کے لشکر پر جب بنوں کے لوگوں نے حملہ کیا تو انہوں نے غصے سے اس علاقے کا نقشہ ہی بدل دیا اور بطور عبرت سروں کا مینار بنایا۔ اورنگ زیب عالمگیر نے جس نہر کے کنارے پڑاؤ ڈالا وہ آج بھی نہر شاہ جویہ ، یعنی نہر شاہ جہان کے نام سے علاقہ سورانی میں بہتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ محمد اکرم خان درانی کا آبائی گاؤں ہے۔ شاہ شجاع نے اپنے دور سلطنت میں یہ علاقہ سکھوں کے حوالے کیا لیکن وہ حکومت کرنے میں ناکام رہے۔ دلیپ سنگھ پسر رنجیت سنگھ نے انگریزوں سے مل کر اس علاقے کا نام دلیپ گڑھ رکھا اورلوگوں کو قابو میں رکھنے اور اپنی حفاظت کے لئے دریائے کرم کے کنارے دلیپ فورٹ تعمیر کیا جس کو بعد میں ایڈورڈ فورٹ اور آج کل بنوں فورٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بنوں کے لوگوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ مسلمان قائدین کی آواز پر لبیک کہا اور اُن کی آواز کو اپنی آواز سمجھا۔ انگریز دشمن کے خلاف حاجی میرزا علی خان المعروف فقیر آف ایپی کی تحریک کو جنم دینے والا خطہ بنوں ہی تھا۔ فقیر آف ایپی نے پہلی بار انگریزوں کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کیا ۔ انہوں نے انگریزوں کو پاک سر زمین پر کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے سے نہ صرف روکا بلکہ دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا۔ بنوں کی اس تاریخی پس منظرسے یہ بات کُھل کر سامنے آتی ہے کہ یہاں جتنے بھی فاتحین آئے انہوں نے قتل و غارت کے ساتھ ساتھ یہاں کی خوب صورتی کو بھی تار تار کیا۔ بنوں کی خوب صورتی ، زرخیزی اور جنگلات کی وجہ پانی کی بہتات ہے کیوں کہ دریائے کرم اور دریائے ٹوچی اسی علاقے میں بہتے ہیں۔ جنگلات کی کثرت کی وجہ سے اسے ’’بنوں‘‘ کہا جاتا ہے جو کہ لفظ ’’بَن ‘‘ کی جمع ہے جس کے معنی جنگل کے ہیں۔ جیسا کہ علامہ محمد اقبال اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں۔
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں‘ بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

پاکستان بننے کے بعد بھی اس تاریخی اور خوب صورت شہر کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک راوا رکھا گیا۔ جب 2002 ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے تو اس شہر کی قسمت جاگ اُٹھی۔ محمد اکرم خان درانی خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ بنے جس نے بنوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ریکارڈ ترقیاتی کام کئے۔ اس کارکردگی کی بناء پر عوام نے 2008 ء اور 2013 ء کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن اور محمد اکرم خان درانی کو بالترتیب قومی اسمبلی کی سیٹوں پر کامیاب کروایا۔ گزشتہ دس برسوں ، یعنی 2008 تا 2018 میں یہاں کے عوام نے ایک بار پھر محسوس کیا کہ انہیں اپنے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اور اُن کے منتخب نمائندے انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ پس بنوں کے عوام نے اپنی تاریخی روایات اور فطری طبیعت کے باعث حالیہ انتخابات میں اپنا ووٹ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران احمد خان نیازی کو اس قوی اُمیدپر دیا کہ وہ اُن کی وابستہ توقعات پر پورا اُتریں گے اور اُن کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124262 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 656

Comments

آپ کی رائے