سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کامشاورتی اجلاس

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

انتخابات میں شکست چاہے دھاندلی سے ہویابغیردھاندلی کے آسانی سے برداشت نہیں ہوتی۔سال دوہزارتیرہ کے انتخابات میں شکست کے بعدعمران خان نے بھی دھاندلی کاشورمچایاتھا۔ اس نے مخصوص حلقے کھولنے کامطالبہ کیا۔انہوں نے اپناموقف منوانے کے لیے اسلام آبادمیں دھرنے بھی دیئے۔سال دوہزاراٹھارہ کے انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کوشکست برداشت نہیں ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکست خوردہ سیاسی جماعتیں ایک ہورہی ہیں۔اس سے پہلے جب ملک میں مسلم لیگ ق کی حکومت بنائی گئی تھی اس وقت بھی اقتدارسے محروم سیاسی پارٹیاں نواب زادہ نصراللہ خان (مرحوم) کی قیادت میں متحدہوگئیں تھیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی بھی اسی سیاسی اتحادکاحصہ تھیں۔متحدہ مجلس عمل اس دورحکومت میں خیبرپختونخوا (سرحد) میں اقتدارسے لطف اندوز ہورہی تھی۔اس وقت متحدہ مجلس عمل کی قیادت مولاناالشاہ احمدنورانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھی۔ اس وقت ڈبل ایم اے کی قیادت مولانافضل الرحمن کے پاس ہے ۔جس وقت ایم ایم اے کی قیادت مولاناالشاہ احمدنورانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھی اس وقت مشرف ایم ایم اے کورام کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا ۔ مولانا الشاہ احمدنورانی کی شہادت کے بعد یہی متحدہ مجلس عمل مشرف کے آگے ڈھیرہوگئی۔ہردورحکومت میں اقتدارکے مزے لینے والے مولانافضل الرحمن موجودہ انتخابات میں شکست سے دوچارہوئے توحکومت کاحصہ بننے کاامکان بھی ختم ہوگیا۔ مسلسل اقتدارمیں حصہ داررہنے والے کواس طرح شکست کاسامناکرناپڑے تواس کاردعمل ایسا ہی آناتھا جوآل پارٹیزکانفرنس کی صورت میں مولانافضل الرحمن کاآیا۔عام انتخابات کے انعقاد کے بعدستائیس جولائی سال دوہزاراٹھارہ کو ڈبل ایم اے کے سربراہ مولانافضل الرحمن کی صدارت میں منعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا۔ کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اسمبلی اجلاس میں حلف نہ اٹھانے کی تجویزپیش کی جسے ن لیگ کے سربراہ شہبازشریف کے علاوہ اے پی سی میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیاجب کہ شہبازشریف نے حلف نہ اٹھانے کے بارے میں کہا کہ پارٹی راہنماؤں سے مشاورت کے بعدردعمل دیں گے اورایک دن کی مہلت مانگ لی۔آل پارٹیزکانفرنس کے اختتام پرمیڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ہم انتخابای نتائج کومکمل طورپرمستردکرتے ہیں۔یہ عوام کامینڈیٹ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ پرڈاکہ ڈالاگیا۔دوبارہ انتخابات کے لیے تحریک چلائیں گے۔تحریک چلانے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوریت کویرغمال نہیں بننے دیں گے اورانتخابی دھاندلی کے خلاف سڑکوں پربھرپوراحتجاج کریں گے۔دھاندلی کے تحت وجودمیں آنے والی اسمبلی کے ارکان کوایوان میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔حلف نہ اٹھانے کی تجویز سے مکمل اتفاق ہے ۔فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری جدوجہدجمہوریت کے لیے ہے۔ہم کسی کے مہرے کوحکومت نہیں کرنے دیں گے۔دیکھیں گے کہ یہ پارلیمنٹ کیسے چلاتے ہیں ۔خبرہے کہ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کوانتخابی نتائج پرتحفظات کے باوجودپارلیمنٹ میں جانے پرراضی کر لیا ہے ۔دونوں جماعتوں کے وفودکے درمیان ہونے والی ملاقات میں ن لیگ کی جانب سے شاہدخاقان عباسی، ایازصادق اورمشاہدحسین سیّدشامل ہوئے جب کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے خورشیدشاہ ،نویدقمر،یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویزاشرف شیری رحمان اورقمرزمان کائرہ موجودتھے۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے راہنماؤں نے انتخابات کے نتائج پرشدیدتحفظات کااظہارکیااورمعاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کافیصلہ کیا۔دونوں جماعتوں کے ارکان نے حلف نہ اٹھانے کی تجویزمستردکردی۔اس سے قبل پیپلزپارٹی کے راہنماخورشیدشاہ کاکہناتھا کہ شہبازشریف کوبتادیا کہ پیپلزپارٹی انتخابی نتائج پرتحفظات کے معاملے کوپارلیمنٹ میں لڑناچاہتی ہے۔پی پی راہنماؤں نے جے یوآئی ف کے سربراہ مولانافضل الرحمن اورن لیگ کے راہنماایازصادق سے بھی ملاقاتیں کیں اورصورت حال پر تبادلہ کیا۔مولانافضل الرحمان نے اسمبلی میں کرداراداکرنے کے حوالے سے کہا کہ اس پرفیصلہ آل پارٹیزکانفرنس میں کریں گے۔خورشیدشاہ کاکہناتھا کہ دونوں جماعتوں کی کمیٹیاں مشترکہ طورپرایم ایم اے کی قیادت کے علاوہ اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی،محموداچکزئی اورفاروق ستارسے بھی ملاقاتیں کریں گی ۔ راہنماپیپلزپارٹی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کواسمبلیوں سے حلف نہ اٹھانے فیصلہ واپس لینے پرقائل کیاجائے گا۔اسلام آبادمیں سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کی رہائش گاہ پرمسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اوراے این پی کے راہنماؤں کامشترکہ اجلاس ہوا۔جس میں شہبازشریف ، ایازصادق، خواجہ آصف، خواجہ سعدرفیق، مشاہدحسین سیّد ، عبدالقادربلوچ، شاہدْخاقان عباسی اوردیگرن لیگی راہنماشریک ہوئے۔پیپلزپارٹی کے وفدکی قیادت خورشیدشاہ نے کی ۔جس میں شیری رحمان، نویدقمر، قمرزمان کائرہ، راجہ پرویزاشرف اوریوسف رضاگیلانی شامل تھے۔جب کہ غلام احمدبلور، میاں افتخار، مولانافضل الرحمن اورمولاناانس نورانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اورمتحدہ مجلس عمل کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس پراتفاق ہوگیا ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ مشترکہ اجلاس میں قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے اندراورباہرسخت احتجاج اوراے پی سی طلب کرنے پراتفاق ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مولانافضل الرحمان نے حلف اٹھانے کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ظاہرکیے تاہم وہ ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پررضامندہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانافضل الرحمان کے اصرارپرحکومتی نمبرگیم کوآن رکھنے پربھی اتفاق ہواہے۔جب کہ انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں اپوزیشن میں ایک وائٹ پیپرجاری کرنے پراتفاق کیاگیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گرینڈاپوزیشن الائنس کے لیے بلوچستان کی جماعتوں کوبھی اعتمادمیں لینے اورشامل کرنے کی کوشش پراتفاق کیاگیا ہے۔مشاورتی اجلا س میں مولانافضل الرحمن نے جے یوآئی کی مجلس شوریٰ میں ہونے والے فیصلوں سے بھی آگاہ کیااورکہا کہ جے یوآئی کی مجلس شوریٰ نے تجویزپیش کی ہے کہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی سیٹ پرپیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن سمیت دیگرجماعتوں سے بھی بات کرلی جائے اور متفقہ امیدوارکھڑاکیاجائے۔جے یوآئی کی مجلس شوریٰ کی رائے ہے کہ اپوزیشن کامشترکہ امیدواربرائے وزرات عظمیٰ ، سپیکروڈپٹی سپیکرلایاجائے اورحلف والے دن پارلیمنٹ کے اندراورباہربھرپوراحتجاج کیاجائے۔دوسری جانب مشترکہ اجلاس کے بعدمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے راہنمااورسابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ سال دوہزاراٹھارہ کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے۔جن کوہم مستردکرتے ہیں۔ایسے دھاندلی زدہ الیکشن تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے اورہم ان کی مذمت اورمستردکرتے ہیں۔مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ہم پارلیمنٹ کے اندراورباہرحکمت عملی بنائیں گے اورمشترکہ حکمت عملی مل کرطے کریں گے۔تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعدپارلیمنٹ کے اندراورباہراحتجاج کریں گے۔اس موقع پرراجہ ظفرالحق نے کہا کہ الیکشن کاانعقادکراناالیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری تھی جس پروہ ناکام رہا۔ہم نے گزشتہ حکومت میں الیکشن کمیشن کومضبوط اورخودمختاربنایا لیکن الیکشن کمیشن نے ہمیں مضبوط مایوس کیا ۔ الیکشن کمیشن کے تمام ارکان اپنی ناکامی پرمستعفی ہوں ۔ہم نے فضل الرحمان سے بھی درخواست کی ہے وہ تمام سیاسی جماعتوں کے رابطوں کوبڑھائیں اوراپنالائحہ عمل ان تک پہنچائیں۔اس موقع پرمولانافضل الرحمن نے کہا کہ پوری دنیااورقوم کویہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ الیکشن کے خلاف جس طرح آج آوازیں اٹھ رہی ہیں تاریخ میں ایسی نہیں اٹھیں۔آج تک پوری قوم نے اس طرح متفق ہوکرانتخابات کودھاندلی زدہ قراردے کرردنہیں کیاجیسے آج کیاجارہا ہے۔الیکشن سے پہلے ہم سب ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑرہے تھے۔لیکن الیکشن سے اگلے روزہی تمام جماعتوں نے متفق ہوکرکہا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے ۔ ہر ووٹراپنی توہین پرسیخ پاہے۔مولانافضل الرحمان نے کہاکہ یورپی یونین مبصرگروپ نے بھی کہا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی۔میڈیاپربھی پابندی لگائی ہے۔ میڈیاکوبدترین سنسرشپ کاسامناہے۔سارے ملک کے اندرالیکشن میں دھاندلی کے خلاف نعرے بازی ہورہی ہے لیکن میڈیاپرکوئی خبرنہیں آرہی۔پیپلزپارٹی کے راہنماخورشیدشاہ نے بھی میڈیاپرسنسرشپ کی مذمت کی ہے تاہم خورشیدشاہ اورمولانافضل الرحمن نے یہ نہیں بتایا کہ میڈیاپرسنسرشپ کس نے لگائی ہے ۔ مولانافضل الرحمن نے کہا کہ صحافی حضرات بھی ہم سیاست دانوں کے ساتھ مل کریہ جنگ لڑیں اوراس سنسرشپ کوختم کرائیں۔اس حوالے سے ہماری مشاورت کاعمل جاری ہے۔ہم یہ جنگ مل کرلڑیں گے۔جس کے لیے حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔اے این پی کے غلام بلورنے کہا کہ الیکشن میں پورے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔پاکستان کے نام پراس الیکشن میں جودھبہ لگاہے اس کودھویانہیں جاسکتا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے سپیکراورڈپٹی سپیکر کا مشترکہ امیدوارلانے کافیصلہ کرلیا۔ مرکزمیں حکومت سازی کافیصلہ آل پارٹیزکانفرنس میں ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن۔ اے این پی اورایم ایم اے کے راہنماؤں کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں سپیکراورڈپٹی سپیکرکے لیے مشترکہ امیدوارلایاجائے گا۔مولانافضل الرحمان اورن لیگ کے راہنمادیگرسیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے۔اجلاس میں حکومت سازی کے لیے وزیراعظم کامشترکہ امیدوارلانے کی تجویزبھی دی گئی تاہم پیپلزپارٹی نے اس پررضامندی نہیں دی اورکہا کہ فیصلے کااختیاران کے پاس نہیں ہے۔اتحادی حکومت بنانے کی تجویزبلاول بھٹوزرداری پہلے ہی مستردکرچکے ہیں۔مشترکہ اجلاس میں شریک پیپلزپارٹی کے راہنماؤں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کامشترکہ امیدوارلانے کی تجویزمرکزی قیادت کے سامنے رکھیں گے اورپارٹی کے فیصلے سے آگاہ کیاجائے گا۔اجلاس میں دیگرامورپراتفاق کے لیے اے پی سی بلانے کابھی فیصلہ کیاگیا۔مولانافضل الرحمن نے دھاندلی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہرسخت احتجا ج کی تجویزپیش کی تاہم اس پرکوئی فیصلہ نہیں ہوا۔اجلاس میں سراج الحق نے پارلیمنٹ سے حلف نہ لینے کی مولانافضل الرحمن کی تجویز مسترد کر دی ۔ جماعت اسلامی کے مرکزمنصورہ میں پریس کانفرنسکے دوران سراج الحق نے کہا کہ مخالفت برائے مخالفت کے قائل نہیں ۔ پورے وقارکے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھیں گے اوربھرپوراپوزیشن کاکرداراداکریں گے۔کراچی سے دیراورچترال تک انتخابی نتائج بروقت جاری نہ کیے جاسکے۔الیکشن کے پورے عملے کومشکوک بنایاگیا ۔ افسوس کہ پولنگ ایجنٹس کوباہرنکال کرووٹوں کی گنتی کاعمل شروع کیاگیا۔سراج الحق نے کہا کہ جمہوریت کی گردن پرانگوٹھارکھ کراس کی روح نکالنے کی کوشش کی گئی۔تاہم شدیدتحفظات کے باوجودنئی حکومت کوکام کرنے کاموقع دیناچاہتے ہیں۔پاکستان کومدینہ جیسی ریاست بنانے کے عمران خان کاوعدہ پوراہونے کا انتظارکریں گے۔پارلیمنٹ کے اندراورباہرجمہوریت کے استحکام کے لیے بھرپوراپوزیشن کاکرداراداکریں گے۔

سیاسی جماعتوں کوپارلیمنٹ میں جانے کے لیے قائل کرنے کااعزازپیپلزپارٹی کے پاس ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انتخابات میں تحفظات کے باوجودپیپلزپارٹی نہ صرف کسی بھی غیرجمہوری اقدام کی مخالفت کرتی ہے بلکہ غیرجمہوری اقدام اٹھانے والوں کوبھی اپنافیصلہ واپس لینے پرقائل کرلیتی ہے۔ مسلم لیگ ن نے بھی پیپلزپارٹی کاساتھ دے کرجمہوریت پسندہونے کاثبوت دیا ہے۔گرینڈاپوزیشن الائنس میں شامل سیاسی جماعتیں انتخابات کے انعقاد پر شدید تحفظات رکھتی ہیں۔ اس کے باوجودوہ پارلیمنٹ میں جانے اوراپناجمہوری کرداراداکرنے پربھی رضامندہوگئی ہیں۔مولانافضل الرحمن جو دھاندلی زدہ انتخابات جیتنے والوں کوایوانوں میں داخل ہونے سے روکنے کااعلان کررہے تھے وہ ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پرراضی ہوگئے ہیں۔مولانافضل الرحمن ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پرتوراضی بھی ہوگئے ہیں اورکہتے ہیں کہ حلف اٹھانے نہ اٹھانے کافیصلہ اتفاق رائے سے کریں گے۔ جب گرینڈاپوزیشن الائنس اورپارلیمنٹ میں جانے پراتفاق ہوگیا ہے توحلف اٹھانے نہ اٹھانے کافیصلہ کرنے کاکیاجوازرہ جاتا ہے۔گرینڈ اپوزیشن الائنس نے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرنے کادرست فیصلہ کیا ہے۔شدیدتحفظات کے باوجودپارلیمنٹ میں جانے کافیصلہ کرکے انتخابات کوغیراعلانیہ طورپرقبول کرنے کافیصلہ بھی کرلیاہے۔سیاسی جماعتیں حلف نہ اٹھانے کی تجویزمستردکرچکی ہیں مولانافضل الرحمن کوبھی اس سلسلہ میں حلف اٹھانے کی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کاساتھ دیناچاہیے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 155185 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 304

Comments

آپ کی رائے