ہمارا معاشرہ بے اعتدالی اور افراط و تفریط کا شکار کیوں؟

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:صبا نزہت، کراچی
کسی بھی خطے میں رہنے والے افراد جب باہم مل جل کر رہتے ہیں تو ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں ۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف معاشرے قائم ہیں لیکن بنیادی طور پر ہم انہیں دو طرح سے تقسیم کر سکتے ہیں ۔ ایک مذہب کے لحاظ سے اور دوسرے شرح تعلیم و ترقی کے لحاظ سے ۔ مذہبی لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلم اور غیر مسلم معاشرہ واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں اسی طرح ترقی یافتہ یا مہذب معاشرہ بھی ترقی پزیر معاشرے سے یکسر مختلف نظر آتا ہے ۔ہم اپنے معاشرے بات کریں تو الحمد ﷲ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں کے رائج رسم و رواج اور قوانین انسانوں کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ اﷲ رب العالمین کے وضح کردہ ہیں جو تمام کائنات کا اصلی مالک ہے مگر بدقسمتی سے ہم صرف اسلام کے نام لیوا ہیں۔

ہم اﷲ کو تو مانتے ہیں مگر اﷲ کی نہیں مانتے ۔ یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر لا قانونیت اور نفس پرستی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ اسلامی کہلانے کے باوجود بے اعتدالی اور افراط و تفریط کا شکار نظر آتا ہے۔ یہاں شخصی آزادی کے نام پر ہر فرد اپنی من مانی کرتا نظر آتا ہے اور اسلامی طرز فکر چھوڑ کر اپنی اپنی سوچ پر کاربند ہے ۔ اس کے لیے اس کی اپنی ضروریاتِ و مفادات ملک کی ضروریات و مفادات سے زیادہ اہم ہیں ۔ یوں خرابیاں پھیلتی ہی جا رہی ہیں اور ہمارا نام نہاد اسلامی معاشرہ تیزی سے تنزلی کی طرف گامزن ہے ۔ اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں ۔ ایسی کون سی برائی ہے جو ہمارے معاشرے میں نہیں پائی جاتی؟ جن پر اقوام گزشتہ غضب الہی کا شکار ہوئیں ۔ ناپ تول میں کمی، ملاوٹ، چوری، سود، جھوٹ، رشوت، منافقت، زنا، عریانی، فحاشی، قتل و غارت غرض یہ کہ اخلاقی معاشی سیاسی ہر اعتبار سے گراوٹ کا شکار ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی اصلاح کیسے ہو؟ یاد رکھیے’’ معاشرہ سنوارو ‘‘کے موضوع پر بڑے بڑے سیمینار منعقد کروانے سے ہمارے اندر معاشرتی اقدار پیدا نہیں ہو سکیں گی ۔ میڈیا پر معاشرتی بگاڑ کا رونا رونے اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے اور دست و گریباں ہونے سے کوئی نہیں سدھرے گا اور نہ ہی نیا پاکستان بنانے سے ملک کی اصلاح ہو سکے گی ۔
باہمہ ذوق آگاہی ہائے رے پستی بشر
سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر

جی ہاں معاشرے میں سدھار ہرگز پیدا نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہم اپنے فکر و عمل میں تبدیلی نہ لائیں کیونکہ پر ایک فرد دراصل معاشرے کی اکائی ہے اور افراد کی خرابیوں میں ہی پورے سماج کو خراب کر رکھا ہے لہذا اگر ہم ایک ترقی یافتہ اور صحت مند معاشرے کے متمنی ہیں تو ہمیں پہلے اپنی خرابیوں سے نجات حاصل کرنی ہو گی اگر ہر شخص اپنے فرائض پورے کرنے لگے تو ہر ایک کو خودبخود اپنے حقوق ملنا شروع ہو جائیں گے اس بات کو اقبال نے اپنے شعر میں یوں بیان کیا ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اب سوال یہ ہے کہ سب اپنی اصلاح کن اصول و قوانین کے تحت کریں؟ نہ تو ہم خود سے اپنے من پسند قوانین بنا کر معتدل معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں نہ خود جائز و ممنوع احکامات کو متعین کر سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ اسلام اور مغربی افکار کو ملا جلا کر قوانین کا ملغوبہ بنا کر ایک بہتر معاشرے کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا ۔لہذا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بننے کی بجائے فلاح بس اسی میں ہے کہ ہم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں کیونکہ جب ہم اﷲ کے نام لیوا ہیں تو اﷲ کی مان لینے ہی میں عافیت اور سلامتی ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو صاف صاف اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ جھوٹ بولنے والا، ملاوٹ کرنے والا، کم تولنے والا، ذخیرہ اندوزی کرنے والا، دھوکا دینے والا، پڑوسی کی حق تلفی کرنے والا اور اپنے مسلمان بھائی پر تلوار اٹھانے والا ہم میں سے نہیں ۔ تاریخ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ جب مسلمان میں یہ سب برائیاں نہیں تھیں تو وہ اپنے عہد کی سپر پاور سمجھے جاتے تھے مگرافسوس صد افسوس کہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

آج ہمارا معاشرہ زبوہ حالی کا شکار ہے ۔ ہر شخص اپنے ماضی پر نادم حال سے پریشان اور مستقبل سے خوف زدہ نظر آتا ہے ۔ ظلم، حق تلفی اور استحصال کا رونا روتے نظر آتا ہے مگر شاید کہ راکھ کے ڈھیر میں دبی کوئی چنگاری ابھی باقی ہے۔تن ِ مردہ میں زندگی کی کوئی رمق باقی ہے۔ اس لیے اصلاح کی کوشش ترک نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر ہم واقعی اصلاح حال کے خواہش مند ہیں تو اﷲ کی رسی کو تھام کر ہی تباہی کے گڑھے سے نکلا جا سکتا ہے ۔ امر بن معروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو سر انجام دیتے رہنے سے ہی معاشرے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور جہاد بالنفس اور بالقلم سے ہی معاشریکی کھوکھلی جڑوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہمارا شمار بھی ان قوموں میں ہو جنہیں دنیا اقوام گزشتہ کے نام سے پہچانتی ہے اور جس کے کھنڈرات دنیا کے لیے محض عبرت کا نشان بن چکے ہیں ۔ ہمیں بدلنا ہو گا۔اس سے پہلے کہ وقت ہمارا محاسبہ کرے ۔ ہمیں خود اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ہاں ہمیں جاگنا ہوگا۔
آٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519581 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2018 Views: 341

Comments

آپ کی رائے