عفوودرگزر سنت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی روشنی میں

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)

حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لئے (جنت میں) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کر ے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑے ۔(مستدرک)

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اﷲ تعالیٰ درگزر فرمانے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔(مستدرک)

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پر نور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی :اے میرے رب، تیرے بندوں میں سے کون تیری بارگاہ میں زیادہ عزت والا ہے ؟ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے ۔(شعب الایمان)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہابیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطیکہ اﷲ کی حدود نہ پامال کی جائیں اورجب اﷲ کی حد پامال کی جاتی تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے اورآپ کو جب بھی دوچیزوں کا اختیار دیاگیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔(جامع الترمذی)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو دوچیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ، رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اﷲ کی حد پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے ۔ (سنن ابوداؤد)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملا، میں نے ابتداً آپ کا ہاتھ پکڑلیا اورمیں نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے ، آپ نے فرمایا : اے عقبہ ، جوتم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو ، جو تم کو محروم کرے ، اس کو عطاکرو، اورجو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔(مسند احمدبن حنبل)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب لوگ حساب کے لئے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا: جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے ۔پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے ۔پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے ۔منادی کہے گا : ان کا جو لوگوں (کی خطاؤں )کو معاف کرنے والے ہیں۔ پھر تیسری بار منادی اعلان کرے گا:جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے ۔تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد)

عفو ودرگزر کے چند واقعات:
میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی باندی ایک پیالہ لے کر آئی جس میں گرم گرم سالن تھا ، ان کے پاس اس وقت مہمان بیٹھے ہوئے تھے، وہ باندی لڑکھڑائی اوران پر وہ شوربا گرگیا، میمون نے اس باندی کو مارنے کا ارادہ کیا، تو باندی نے کہا اے میرے آقا، اﷲ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کیجئے ’’والکاظمین الغیظ‘‘ میمون نے کہا:میں نے اس پر عمل کرلیا (غصہ ضبط کرلیا)اس نے کہا :اس کے بعد کی آیت پر عمل کیجئے’’والعافین عن الناس ‘‘میمون نے کہا: میں نے تمہیں معاف کردیا، باندی نے اس پر اس حصہ کی تلاوت کی’’ واللّٰہ یحب المحسنین‘‘میمون نے کہا :میں تمہارے ساتھ نیک سلوک کرتا ہوں اورتم کو آزاد کردیتا ہوں۔(الجامع الاحکام :تبیان القرآن)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے ، اچانک ایک دیہاتی نے آپ کی چادر مبارک کو پکڑ کر اتنے زبردست جھٹکے سے کھینچا کہ آپ کی مبارک گردن پر خراش آ گئی، وہ کہنے لگا:اﷲ تعالیٰ کاجو مال آپ کے پاس ہے آپ حکم فرمائیے کہ اس میں سے کچھ مجھے مل جائے ۔حضور پر نور صلی اﷲ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا دئیے ،پھر اسے کچھ مال عطا فرمانے کا حکم دیا۔(بخاری، کتاب فرض الخمس)

امام زین العابدین علی بن حسین رضی اﷲ عنھما کی لونڈی وضو کرواتے ہوئے ان پر پانی ڈال رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے برتن آپ رضی اﷲ عنہ کے چہرے پر گر گیا جس سے چہرہ زخمی ہو گیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی:اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’ وَالْکٰظِمِینَ الْغَیظ‘‘اور غصہ پینے والے، امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنا غصہ پی لیا۔ اس نے پھر عرض کی’’ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ‘‘ اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ارشادفرمایا: اﷲ تعالیٰ تجھے معاف کرے ۔ پھر عرض گزار ہوئی’’ وَاﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ‘‘ اور اﷲ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، ارشاد فرمایا: جا ! تو اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے ۔(ابن عساکر، ذکر من اسمہ علی، علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت اُم حبیبہ رضی اﷲ عنھانے مجھے انتقال کے وقت بلایا، میں اُن کے پاس گئی تو مجھ سے کہا:ہمارے درمیان کوئی بات ہوجایا کرتی تھی تو جو کچھ ہوا ہے اﷲ تعالیٰ مجھے بھی معاف کرے اور آپ کو بھی، میں نے کہا : اﷲ تعالیٰ آپ کی ایسی ساری باتیں معاف فرمائے ، اور اُن سے درگزر فرمائے اور اُن باتوں کی سزا سے آپ کو محفوظ فرمائے، حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا نے کہا:آپ نے مجھے خوش کیا، اﷲ آپ کو خوش فرمائے ! پھر حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا نے پیغام بھیج کر حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کو بلایا اور اُن سے بھی یہی کہا۔

حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ آئے ، اُنہوں نے اپنا کپڑا پکڑ رکھا تھا، جس سے اُن کے گھٹنے ننگے ہورہے تھے اور اس کا اُنہیں احساس نہیں تھا، اُنہیں دیکھ کر حضور نے فرمایا: تمہارے یہ ساتھی جھگڑ کر آرہے ہیں،حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے آکر سلام کیا اور عرض کیا: میرے اور ابن الخطاب کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، جلدی میں میں اُن کو نامناسب بات کہہ بیٹھا، لیکن پھر مجھے ندامت ہوئی، جس پر میں نے اُن سے معافی مانگی، لیکن اُنہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا، تو میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ہوں،حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! اﷲ تمہیں معاف فرمائے! اِدھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو ندامت ہوئی تو اُنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے گھر آکر پوچھا: یہاں ابوبکر رضی اﷲ عنہ آئے ہیں؟ گھر والوں نے کہا: نہیں! تو وہ بھی حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے، اُنہیں دیکھ کر حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کا چہرہ بدلنے لگا، جس سے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ ڈر گئے اور اُنہوں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دو دفعہ عرض کیا: یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اﷲ کی قسم! قصور میرا زیادہ ہے، پھر حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ نے مجھے تم لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا، تو تم سب نے کہا تھا تم غلط کہتے ہو، لیکن اُس وقت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے کہا تھا آپ صل اﷲ علیہ وسلم ٹھیک کہتے ہیں، اُنہوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ میرے ساتھ غم خواری کی، پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دو دفعہ فرمایا: کیا تم میرے اِس ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑ دو گے ؟ چنانچہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد کسی نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔

یہ ہیں اسلام کی وہ مبارک اور نورانی تعلیمات کہ جن کی برکت اور نورانیت کی وجہ سے ہمارا یہ انسانی معاشرہ باہمی رنجش و ناراضی اور خفگی و ناخوش گواری سے چھٹکارا حاصل کرکے اخوت و بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کرسکتا ہے ، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اس نکتے پر آکر کھڑا ہونا ہوگاکہ اسلام کی ان روشن اور مبارک تعلیمات کو سینے سے لگانا ہوگا اور اُنہیں مذہب اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا، تب کہیں جاکر ہمارے اس معاشرے اور ہماری اس اجتماعی زندگی سے نفرت، حقارت اور دُشمنی کا خاتمہ ممکن ہوگا اور اخوت و بھائی چارگی اور اُلفت و محبت کا بول بالا ہوگا۔اﷲ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کوسمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے(آمین بجاہ سید المرسلین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 106912 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2018 Views: 1071

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ