خاموشی کی زبان

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

کہتے ہیں خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ اگر زبان ہے تو خاموش کیسے ہو سکتی ہے اور اگر صنف نازک کی بات ہو تو پھر ناممکنات میں سے ہے ہاں اگر کوی شوہر نامدار ہو تو تسلیم کیا جا سکتا ہے وہ بھی مخصوص حالات میں مان بھی لیں کہ خاموشی کی زبان ہے تو اس کے حروف تہجی کیا اور کتنے ہیں مگر کئ جگہ آکر مجھے مانا پڑا کہ واقعی خاموشی کی زبان ہوتی ہے-
ایک زمانے میں روزانہ کام کے درمیان ایک ریسٹورنٹ میں کچھ دیر چاے کے لیے بیٹھا کرتا تھا بچپن کے کینٹین کی یاد تازہ کرنے کے لیے۔ وہاں مجھے ایک نیا تجربہ ہوا زندگی کا کہ انجانے لوگوں سے بھی ایک انجانا سا تعلق بن جاتا ہے اور آپ بات کیے بغیر اُن کے دکھ سکھ میں شریک سے ہو جاتے ہیں قلبی طور پر جو کہ کبھی عملی شکل بھی اختیار کر جاتا ہے سلام دعا بھی ہو جاتی ہے

عام زندگی میں اچھا خاصا محتاط اور پرحجاب reserve سا تھا مگر وہاں میں لوگوں میں دلچسپی لینے لگا وہاں کچھ جوڑے ایسے بھی تھے غالباً منگیتر یا کچھ اور۔ وہ گھنٹوں خاموش ایک دوسرے میں مگن آمنے سامنے اُداس محبت میں بیٹھے رہتے۔ صدیاں بیت جاتیں ۔وقت رک جاتا ۔اور میرا اپنا کہا ہوا شعر یاد آتا

خیال سے خیال ملے دل سے ملا دل
ہو رہی تھی بات دیوار سے کیا کیا

وہ بھی خاموش تھا ہم بھی تھے چُپ چاپ
دل نے کہی بات دیدار سے کیا کیا

اُنھیں دیکھ کر میں بھی زمان ومکاں کی قید سے کچھ دیر کے لیے آزاد ہو جاتا پھر کسی موبائل کی ترنگ پر واپس لمحہ موجود میں آ کر اُن کو ان کے "حال" پر چھوڑ کر اپنا "حال "درست کرنے کے لیے پھر کام پر نکل پڑتا

بات ہو رہی تھی خاموشی پر اور اس کی زبان پر جو ہوتی ہے اور خوب ہوتی ہے اور بعض مسائل کا حل گفتگو کے بجاے خاموشی سے بھی نکل آتا ہے اور کسی نا مناسب بات کے جواب میں اگر کوئ خاموش ہو کر صبر کرلے تو غیبی مدد کا امکان بڑھ جاتا ہے خاموشی آدمی کے ظرف کی نشانی بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ اقبال کہتے ہیں

کہ رہا تھا شورِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

کہتے ہیں خاموشی میں عافیت ہے اور ویسے بھی وہ الفاظ جو کسی کا دل دکھایں ان سے تو بہتر خاموشی ہی ہےاور ایسے بھی ہوتا ہے

کچھ بھی نہ کہا اور کہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
اور کبھی ایسے

کچھ کہ بھی نہیں سکتے
چپ رہ بھی نہیں سکتے

میری مراد اُس خاموشی سے ہرگز نہیں جو کسی کا شعر ہے

وہ تو خاموش تھا جہالت سے
لوگ اُسے فلسفی سمجھتے ہیں

اور ایسا بھی موقع محل ہوتا ہے جہاں خاموش رہنا جرم ہے خاص طور پر جہاں دوسرے کی صفائ پیش کرنا ہو۔ اب اگر وکیل خاموش ہو جاے تو چل گئ وکالت اور نتیجہ یہ کہ

ہم تو ڈوبے ہیں صنم
تم کو بھی لے ڈوبیں گے

خاموشی ایک ہتھیار بھی ہے جس کا فائدہ ازدواجی زندگی میں خوب اُٹھایا جا سکتا ہے کسی کا کہنا ہے کہ اگر آپ جنت میں رہنا چاہتے ہیں اسی دنیا میں تو اپنی بیگم کی ہاں ہاں ملایں خاموشی کے ساتھ

ایک خاموشی وہ ہے جسے رضامندی سمجھا جاتا ہے دلہن کی خاموشی جو اس کی ایک بار اور آپ کی ساری عمر کے لیے اور اس میں فیض صاحب کا شعر بھی کام نہیں آتا

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

میڈیا بھی خاموش نہیں رہ سکتا مگر جس طرح آج کل بےلگام بولا جا رہا ہے وہ بھی کچھ ایسا پسندیدہ نہیں اور درست یہ بھی نہیں کہ اُسے آمر کے ڈنڈے سے ایسا خاموش کر دیا جاے کہ آواز ہی نہ نکلے

خاموشی ادب بھی ہے جو کسی جگہ بہت ضروری ہوتی ہے اور قوت بیان کی اپنی منفعت ہے اور کوی بولے تو اچھا بولے

وقولو للناس حُسنا

اور لوگوں سے اچھی بات کہنا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 232 Articles with 87639 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2018 Views: 283

Comments

آپ کی رائے