آزادی وطن کے تقاضے ،قومی ذمہ داریاں اورعصرحاضر !

(Hafeez Ch, )

پاکستان اپنی عمر کے 73ویں برس میں داخل ہو چکا ہے۔آزادی وطن ایک نعمت عظمیٰ ہے۔جو جذبہ ابتدا میں تھا وہی جوش آج بھی قائم و دائم ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت اجسام غلام تھے۔ اذہان آزاد تھے۔آج اذہان و اجسام دونوں غلام ہیں۔جب پاکستان معرض وجود میں آیا تھا تو مسلمانوں نے شکرانے کے نوافل ادا کئے تھے۔ آج یوم آزادی کی رات آتش بازیوں واخلاق رذیلہ کواپنا کر، اور دن کو ہر چوک و بازار میں ،گلی محلہ میں آزادی بڑی دھوم سے ناچ رہی ہوتی ہے۔ اخبارات و میڈیا میں تجدید عہد کے خوبصورت اشتہارات لگوائے اورسجائے جاتے ہیں،کہ من حیث القوم ہم نئے سرے سے ،غیر اخلاقی ، غیر قانونی ،غیر شرعی اصولوں و قوانین پر نہیں چلیں گے ۔ہر دم ،ہر قدم، ہر سانس، ہر گھڑی ملکی ترجیحات سامنے رہیں گی و غیرہم۔

اب شرعی لفظ نکال دیا گیا اور دیگر عہد و پیمان بھی 14اگست کی شام رخصت ہوئے ہی الوداع ہو جاتے ہیں ۔کیونکہ ہم نے ہر بات کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا!ہمیں اپنی زندگی بھی عیش وعشرت کے ساتھ گزارنی ہے ، وطن کے رکھوالے اوربھی تو ہیں۔

پاکستان ایک نظریاتی ،فلاحی اسلامی مملکت کے طور پر قائم ہوا تھا۔ وقت آزادی کے وعدے،دعوے صفحہ قرطاس پر موجود ہیں ۔ آزادی کا تقاضا ہے کہ اسکی حیثیت بر قرار رکھی جائے اور ہر رخ و سطح پر اپنی خود مختاری پر آنچ نہ آنے دی جائے۔نظریاتی اعتبار سے قوم کی ذہنی آبیاری کی جاے۔بابائے قوم کا مشہور بیان ہے کہ ہم پاکستان کو اسلامی تجربہ گاہ بنائیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے جانشینوں نے الفاظ کا مفہوم غلط سمجھا اور اسلامی حدود پر ہی زیادہ نشترلگائے اور دفعات اسلامی تختہ ء مشق بنتی رہیں۔

الحمد اﷲ ہم آزاد اور خود مختار خطے میں رہ رہے ہیں۔اس میں ہمیں کبھی الجھا ؤ پیش نہیں آیا ہے۔آزاد قومیں اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتی ہیں۔یہ بھی شکر ہے کہ ترقی کے اعتبار سے پاکستان کسی سے کم نہ ہے۔اس میں مسلم قوم کی طرح غیر مسلم اقلتیں بھی پُر سکون ہیں۔ان کے حقوق کبھی کسی نے نہیں چھینے۔ عوام الناس میں وطنیت کا جذبہ کم نہیں ہے ۔ہر مذہب و مسلک اپنی مرضی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ یہ الگ بات ہے کبھی اقلیت اکثریت پر بھی غالب آجاتی ہے۔

پاکستان کا شہری ہونے کی نسبت سے قومی سوچ و فکر، قومی طرزِ عمل اپنائیں ۔وطن عزیز کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ذاتی اور علاقائی ایشوز پس پردہ جانے چاہیں۔پانچ دہایاں ہونے کو ہیں کہ ابھی تک مقامی سیاست نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا۔ارباب اقتدار جب بھی ایوان اقتدار سے رخصت ہوتے ہیں تو کئی پانامے ساتھ ہی جاتے ہیں۔ ایک سابق صدرنے جب بیت المال کیلئے کثیر رقم دی تو ساتھ ہی بیت المال کے وزیر سے کہا میرا بھی حصہ رکھنا ہے۔وزیر نے کہا جناب صدر! یہ تو یتیموں کا حق ہے۔تو صدر صاحب نے کہا میں یتیم ہوں ۔ جب ہر شعبہ اسی انداز میں چل رہا ہو تو پھر قومی مفادات اور رعایا کو کس طرح حق ملے گا۔یا اُن کا تحفظ کس طرح ہو سکے گا ۔اقتدار تو شاید کسی کو معاف کردے ،یقیناتاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

قیام وطن کے بعد ترقی کو بریک لگ گئی ،جس سے ہم لوگ آگے کی بجائے پیچھے ہٹتے گئے۔وہ ٹولہ اقتدار کی کرسی پر قابض رہا جس کو وطن سے زیادہ طویل عرصہ حکمرانی کا شوق رہا ۔اور اس دوران اندھے کی مٹھائی کے مصداق طرز حکمرانی رہی اور انڈا دینے والی مرغی کی طرح شور برپا رہا ۔وراثتی حکومت اور خاندانی سیاست کے جنون نے وہ ذہن قوم کو نہ دیا، جس کی ضرورت و طلب تھی۔

عصر حاضر میں پاکستان کی اہمیت مادی طور پر سپر پاور سے زیادہ نہیں تو یقیناً کم بھی نہیں ہے۔جس طرح سامراجی طاقتیں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔ درحقیقت یہ جیت ہے ہار نہیں کفر نے کبھی کسی مسلم سلطنت کو اس انداز میں معاف نہیں کیا کہ وہ آگے چل کر اپنے پاؤں پر کھڑی رہ سکتے۔دنیا میں کسی بھی جگہ اہل اسلام کیلئے معافی نہ ہے۔ ہرسطح اور رُخ پر حالات خراب کئے ہیں۔ہر ملک اہلیان اسلام کیخلاف قانون سازی میں سبقت کیلئے کوشاں ہیں ۔اور اس مقابلہ بازی میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔

جس قدر دُنیا میں امن کے لئے پاکستان نے کردار ادا کیا ہے۔شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔دہشت گردی کا ساراملبہ جو اسرائیل بھارت برما کا بنتا ہے ۔وہ پاکستان پر گرایا جا رہا ہے۔عجیب منطق ہے کہ یہ ممالک اپنی دھرتی پر مسلمانوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں ۔خون مسلم کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔مسلمانوں کا جان مال ناموس محفوظ نہیں بلکہ ایک کھیل سمجھ کر تباہ کئے جا رہے ہیں۔یہ ممالک نہ تو گرے لسٹ میں آتے ہیں اور نہ ہی یہ دہشت گرد ہیں !اور پاکستان جس نے عالمی طاقتوں کا ساتھ دیا ۔اپنے ہزاروں لاکھوں فوج کے جوان شہید کروائے۔اپنا اربوں روپے کا سرمایہ خرچ کیا ۔جہاں غیر مسلم کمیونٹی کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی بن رہے ہیں۔وزیر مشیر رکھے جا رہے ہیں۔ان کا مال جان ناموس ہر طرح محفوظ ہے۔پاکستان کبھی گرے گرے لسٹ میں آرہا ہے ۔کبھی دہشت گردی کی لائن لگ رہی اور کبھی دھمکیاں سنائی جا رہی ہیں۔دوسرے لٖفظوں میں قربانیاں بھی ہم نے دیں۔ دہشت گردبھی ہم ہی ٹھہرے،جو مسلم ملک ترقی کے لئے کسی بھی شعبہ میں کام شروع کرتا ہے۔اسے کسی نہ کسی طرح نا کام و ختم کرنے کے منصوبے منظر عام پر لے آتے ہیں۔جیسا کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستان کیساتھ ہو رہا ہے۔اس میں دہشت گردی کی پروڈیکشن کرنے والے پر امن ممالک شامل ہیں۔

دنیا ایک گلوبل ولیج ضرور ہے۔لیکن آزادی وطن کا تقاضا اور اسے ہر صورت بر قرار رکھنا ازحد ضروری ہے۔آزاد مُلک کو آزاد پالیساں ہی سجتی ہیں۔قوانین اسلام کو تختہء مشق بنانے کی بجائے ہمیں ملکی وراثت میں ملے ہوئے فر سودہ نظام کو بدلنے کی کوشش کرنی چائیے۔جس میں طبقاتی تقسیم و کشمکش کا وافر حصہ موجود ہے۔دنیا ئے کفر اپنے مذہبی اقدار سے اگر بیزار ہوئی ہے۔تو اس میں انکی دیکھا دیکھائی اپنا دینی تعلق ترک نہیں کر دینا چاہیے۔کیونکہ ہماری پہچان یہی ہے۔اپنی خود داری کو ترک کر دینے سے کچھ نہیں ملے گا۔آزادی کا تحفظ ہمیشہ با ضمیر قومیں ہی کرتی ہیں۔

تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدوجہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم انکی شناخت کو منوانا تھا۔ جس کیلئے علیحدہ مملکت کی ضرورت تھی۔ تحریک پاکستان وہ تحریک تھی جو ہمارے اسلاف کے لہو سے وضو کر کے تحریر ہوئی۔ ایک وقت تھا کہ پورے ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کا طوطی بولتا تھا۔ برصغیر میں مسلمان اور ہندو ہزار برس سے زائد عرصہ ایک ساتھ مل کر رہے۔ برصغیر میں مسلمان حاکم اور ہندو محکوم تھے۔ مسلمانوں نے کبھی حکومتی و غیر حکومتی سطح پر جان بوجھ کر ہندوؤں کو جبراً مسلمان نہیں کیا اور نہ ہی انکے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کا ہندوؤں سے اچھا سلوک تاریخ کے اوراق میں بکھرا پڑا ہے۔

لیکن اپنے مرکز سے ہٹنے کے نتائج بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کی عیاشیوں، غفلتوں ، اﷲ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانیوں اور مذہب کے نام پر اپنائی گئی خرافاتی چیزوں نے مسلمانوں سے ان کا ہزار سالہ اقتدار چھین کر منوں مٹی تلے روند دیا۔ بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد مسلمان ہر میدان میں روبہ زوال ہوگئے۔ 1757 میں مسلمان حکمرانوں کو انگیریز تاجروں کے ذریعے شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کی حکومت پر قابض ہوگئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کی غرض سے کلکتہ میں ایک دفتر قائم کیا تھا۔ آہستہ آہستہ ہندوستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دیے اور مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے تخت و تاج چھین کر حکمران بن گئی۔ انگریزوں نے برصغیر میں داخل ہوکر ہندوؤں کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ ہندوستان کی سرزمین پر مسلمان حاکم و ظالم جبکہ ہندو محکوم و مظلوم رہیں گے۔ انگریزوں نے اپنی کوششوں کی کامیابی کیلئے ہندوؤں سے گٹھ جوڑ لی اور ہندوؤں سے ایک سازش کے تحت کانگریس قائم کروائی جس کا صدر ایک انگریز لارڈ ہیوم تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس مسلمانوں کی بیخ کنی اور ہندوؤں کی سرپرستی کرتی رہی یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے بڑی حوصلہ شکن اور مایوس کن تھی۔

قارئین محترم !آج بھی اگر ہم لوگ جاگ جائیں، مصور پاکستان،بانی پاکستان اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے بن جائیں تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنی کھلی آنکھوں سے اسلام کا بول بالا اور کفر کا منہ کالا ہوتا دیکھیں گے ۔تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے ،مگر ہم لوگ اس سے سبق حاصل نہیں کرتے ۔

آزادی وطن کے تقاضے ،قومی ذمہ داریاں اورعصرحاضر کا تقاضایہی ہے کہ ہم اپنے کردار کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال پر بھی غور کریں اور اپنے آپ کو سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کے طرززندگی کے مطابق ڈھال لیں یقینا کامیابیاں ہمارے قدم چومیں گی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Ch

Read More Articles by Hafeez Ch: 11 Articles with 4537 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2018 Views: 241

Comments

آپ کی رائے