معاشی طور پر ہم غلامی کے دور سے گزر رہے ہیں

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 مملکتِ خدادا کا 71وان یومِ آزادی ہر پاکستانی کو ،چاہے اُس سے محبت کے رشتے ہیں یا ذہنی اختلاف ہے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔پاکستان ہماری آن بان ہماری شان ہے۔اس کی جانب اُٹھنے والے ہر ناپاک قدم کو ٹوڑنے کی صلاحیت میری قوم کے تمام بزرکوں جوانوں بچوں، مائیوں بہنیوں اور بیٹیوں میں ہے۔کوئی ہمارے وقتی اختلاف کو ہماری کمزوری نہ سمجھے!دشمن کے لئے ہم سب سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونگے۔اس حوالے سے ہمای یکجہتی کا کوئی امتحان لینے کی کوشش نہ کرے۔ہمیں علم ہے۔ہمارا دشمن ہمیں ہر لمحہ مٹانے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔میری قوم کا نمبر تو دشمن کے ارادے مسمار کرنے کے لئے بعد میں آئے گا’’میرے فوجی جواں ،جراء توں کے نشان‘‘ہی پاکستان کے ہر دشمن کو اُس کے قدم اُٹھانے سے پہلے ہی اُسے نشانِ عبرت بنانے کے لئے کافی ہیں۔ یہ پاک وطن ہمارے اجداد کی بھاری قربانیوں کا ثمر ہے۔جس پر ہم دوبارہ دشمن کو بری نظر ڈالنے نہیں دیں گے۔کسی نے آزادی کی قدر جاننا ہے تو ان چار کروڑ کے قریب کشمیریوں سے پوچھے۔جو گذشت سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ہندو سامراج کے خلاف آزدی کی جنگ میں مصروف ہیں اورہر روز قربانیاں دے رہے ہیں۔اس ضمن میں پاکستان کے سوائے اُ ن کا کوئی پرسانِ حال اور حمائتی بھی نہیں ہے۔ آزادی کی قدرہندوستان کے مسلمانوں سے پوچھو ۔جو ہندوستان کی آزادی کے 71سالوں کے بعد بھی اپنے ہی ملک (ہندوستان) میں دوسرے نمبر کے شہریوں سے بد تر ین زندگی گذار رہے ہیں ۔اور ہندو اکثریت کا مسلسل تشدد بر داشت کر رہے ہیں۔

ہماری بد نصیبی یہ ہی ہے کہ آزادی کی جنگ لڑنے والی لیڈر شپ کے منظر سے ہٹتے ہی سیاست دانوں اور فوجی حکمرانوں نے اس ملک میں لوُٹ مار کا وہ بازار گرم کیا اور ملک کو چیل کووں کی طرح نوچ نوچ کربے حال کرکے شطر بے مہار کی طرح آج تک دندانے پھر رہے ہیں۔جس نے اس ملک کی بہتری کا تصور رکھا اُسے کھڈے لائین لگا کر عبرت کا نشان بنانے میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا گیا۔ہمارے ہاں پارلیمنٹوں کا وجود تو ہوامگر اکثروہ طالع آزماؤ کے نشانے پر رہیں۔جنہوں نے ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا ۔آج کی لنگڑی لولی جمہوریت نے لشٹم پشٹم دس سال تو مکمل کئے۔مگر اس کو طاقت نہیں پکڑنے دی گئی۔اس میں شائد مقتدر لوگوں کا بھی کچھ نہ کچھ قصور تھا اور بعض طاقتور لوگ بھی اس سے کھلواڑ کرتے رہے۔ میں اُس قوم کا رونا رو رہا ہوں جس کو قدرت نے ہر ہُنر کے لوگوں اور ہر نعمت سے نوازا ہوا ہے۔بس کمی ہے تو ربِ کائنات کی شکر گذاری اور قناعت کی!جو ہمارے ہاں کہیں بھی ڈھونڈھے سے نہیں ملتی ہے۔میں اپنے طن کے اُن نوجونوں کو سلیوٹ کرتا ہوں جو اس سب کے باجود ملک کے ہر ہر گوشے میں سبز ہلالی پرچم اُٹھائے فخریہ انداز میں قوم کو آزادی کی خوشیوں کی نوید دیتے پھر رہے ہیں! اور 71سال بعد بھی آنے والے کل کی بہتری کی امیدیں آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔

اس وقت معاشی طور پر ہم غلامی کے دور سے گذر رہے ہیں۔کیونکہ پاکستان کی معاشی بد نظمی کے اس دور میں تحریکِ انصاف کی آنے والی حکومت اور اپوزیشن کو وطن عزیزکے وسیع تر مفاد کے لئے ذمہ دارانہ سیا سی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔کیونکہ اس وقت ملک کی معیشت بے حد زبوں حالی کا شکار ہے اور ہم گرے لسٹ سے نکل کر بلیک لِسٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ملک کے بیرونی اور اندرونی قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں،ڈالر کو پر لگے ہوئے ہیں ۔معاشی طور پر ہم غلامی کے گرداب میں پھنسا چاہتے ہیں۔گذشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی بتدریج اس تیزی کے ساتھ آگے بڑھی ہے کہ جس کی مثال تلاش کرنا مشکل ہے ۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ملک کو خطر لا حق ہیں۔جوکسی بھی قسم کے سیاسی، سماجی اور معاشی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔لہٰذاتما م ادارے مل جل کر کام کریں اور پاکستان کے جمہوری عمل میں رخنہ اندازی سے پرہیز کریں ۔توعدم استحکام سے بڑی حد تک نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ آنیوالی کمزورحکومت کو بھی بہت سنبھل کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ ملک کو ہر حال میں عدم استحکام سے بچانے کی ضرورت ہے۔ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے کچھ انڈیکٹر سامنے آ تو رہے ہیں جن میں اسلامی بینک پاکستان کی معیشت میں معاون ہونے کے لئے تیار ہے دوسری جانب سعودی حکومت بھی نئی آنیوالی حکومت کے لئے معاشی معاونت کے لئے تیا ہے۔جو اچھے انڈیکیٹرز ہیں۔

اس وقت معاشی طور پر ہم غلامی کے دور سے مملکتِ خدادا کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کرنا ہر ایک کا فرضِ اولین ہے۔ پاناما کے معاملے میں جو وقتی تیزی آئی تھی اُس میں436 میں سے ایک حلقے کو تو خوب دھویا گیا۔ مگربقیہ لوگ اب بھی چین کی بنسی بجا کرپوری قوم کا منہ ہی تو چڑا رہے ہیں۔ نیب نے بظاہر تیزی تو دکھائی ہوئی ہے مگر اس تیزی کے اثرات ہر جانب نہیں ہیں۔احتساب کا عمل بلا کسی تخصیص کے چلنا چاہئے۔اس سے ہر قسم کے سیاسی امتیاز کا خاتمہ کیا جانا بے حدضروری ہے۔یہ بات ہر پاکستانی کے علم میں ہے کہ کرپٹ لوگوں نے اس دھرتی کو جو نقصان پہنچایا ہے ۔ وہ ہمارے دشمن بھی ہمیں نہیں پہنچا سکے ہیں۔ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے،جو فی الوقت ایسے لوگوں کے خلاف بھر پور انداز میں ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔عمران خان نیازی کی تحریکِ انصاف کی بننے والی حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو ہی ملک کے عظیم تر مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اس وقت شدید ضرورت ہے۔کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب بھی ہیں، ہماری سیاست ہمارا اقتداروغیرہ․․․․․․․
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 117432 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2018 Views: 204

Comments

آپ کی رائے