عمران خان اور نیا پاکستان

(محمد یوسف راهی, Karachi)

محترم پڑھنے والوں کو میرا آداب
الحمد اللہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات 2018 پاکستان کی پولیس اور رینجرز کے تعاون , پاک فوج کی زیر نگرانی اور سب سے بڑھ کر عوام کی بھرپور شرکت کی بدولت بالآخر مکمل ہوگئے پچھلے کئی دنوں سے دشمنان پاکستان کی طرف سے اس الیکشن کو سبو تاس کرنے کی پوری کوشش کی جارہی تھی الیکشن سے پہلے اور چند دن قبل جو واقعات رونما ہوئے جن میں ملک کے نامی گرامی سیاستدانوں اور کئی بیگنہ لوگوں نے جام شہادت نوش کی یہ اس بات کی ایک کڑی تھی لیکن الیکشن کمیشن , پاک فوج اور عوام کی بھرپور حمایت نے الیکشن کو وقت مقررہ پر منعقد کروا کر یہ ثابت کردیا کہ پاکستان کی یہ بھادر عوام دہشت گردوں اور دشمنان پاکستان کے ان اوچھے ہتکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں اور اس ملک کی بقا اور جمہوریت کی بالادستی کی خاطر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں .

اوراب سب سے پہلے کامیاب ہونے والے سیاستدان اور کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں کو میں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمن جناب عمران خان کو بھاری اکثیریت سے کامیابی حاصل کرنے پر بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ جیتنے والی جماعت کے سربرہ نے کھلے دل سے ہارنے اور اعتراض کرنے والوں کو دوبارہ گنتی کروانے موقع فرہم کیا اسی طرح پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی پہلی دفع دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی شخص پانچ مختلف حلقوں اور علاقوں سے کھڑا ہوا ہو اور پانچوں جگھوں سے کامیاب ہوا ہو یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ تحریک انصاف کے چیئر من جناب عمران خان نے جب مختصر اور معنی خیز تقریر کی تو یہ وہ وقت تھا جب پوری دنیا کی نظریں اور کان خان صاحب کی طرف تھے اور اس تقریر کے بعد جس طرح سے ملکی اور بین الاقوامی طور پر خان صاحب کی تقریر کو سرہا گیا اور جس طرح مبارک بعد کے پیغامات آنا شروع ہوئے اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ لوگوں کی نظروں میں عمران خان کا کیا رتبہ ہے اردن ایران افغنستان چین سعودی عرب اور ہمارے پروسی ملک بھارت کی طرف سے جناب عمران خان صاحب کو مبارک باد کے فون اور پیغامات آنا شروع ہوگئے اور انہیں الیکشن جیتنے پر پیشگی مبارک باد دی .

گویا پاکستان کے بیس کڑوڑ عوام کی ٹیم کو ایک کپتان مل گیا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس ٹیم کے کس کھلاڑی کوکس جگھ کھلاتےہیں اور کس طرح اس ملک کو کامیابی کے ایک نئے راستے پر گامزن کرتےہیں .

جب سے پاکستان بنا تب سے لے کر آج تک ہمارے ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ الیکشن میں ہارنے والے لوگ اور جماعتیں کبھی خوش دلی سے اپنی ہار تسلیم نہیں کرتیں اور الیکشن کے مکمل ہونے سے پہلے ہی دھاندلی کا شور کرکے واویلا مچانا شروع کردیتے ہیں اور جمہوریت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے لوگ جمہوریت کے پہلنے پہولنے کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیتے ہیں آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا اور ایسا کرکے ہم دنیا کو کیا پیغام دینا چہتے ہیں ہم اپنے ارد گرد دوسرے ممالک سے بھی سبق نہیں سیکھتے جہاں الیکشن میں ہارنے والے لوگ نہ صرف اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے خود ہی مستعفی ہوجاتے ہیں بلکہ جیتنے والے کو گلے مل کر مبارک بھی دیتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ جب وزیر اعظم کے چناؤ کی تقریب ہوئی تو اسمبلی کا وہ حال تھا کہ جیسے مچھلی بازار اور یہ صرف اس وقت نہیں بلکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ ہو وزیر اعلی پنجاب کا چناؤ ہو یا وزیر اعظم کا چناؤ ہر جگھ ہارنے والی ایک مخصوص جماعت کا یہ ہی رویہ دیکھنے میں آیا .

اس وقت اقتصادی اور معاشی اعتبار سے اس ملک کا جو حال ہے اسے ٹھیک کرنے کے لئیے جناب عمران خان اور ان کی ٹیم کو بڑے بڑے چیلنجزکا سامنا ہے اور ان کا ذکر جناب عمران خان نے وزیر اعظم کی حیثیت سے ہونے والے اپنے پہلے خطاب میں تفصیل کے ساتھ کیا اور یہ بات صاف دکھائی دے رہی ہے کہ اس ملک کو اس بحران سے نکالنے میں پانچ سال کا عرصہ بہت کم ہے کیوں کہ اس ملک کا اس وقت وہ حال ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ آوے کا آوا بگڑجانا لیکن وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے اپنا پہلاجو خطاب کیا اس کو سن کر لوگ حیران ہوگئے ایسا کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ کسی ملک کا وزیراعظم اپنی قوم سے مخاطب ہے بلکہ ایک سادہ سا انسان عام لوگوں سے مخاطب نظر آیا جس نے اپنے خطاب کا آغاز مدینے کی ریاست کے ذکر سے کیا اور اختتام بھی مدینے کی ریاست کے ذکر سے کیا جس نے یہ باور کروایا کہ یورپ کے کئی ممالک صرف اس لئیے آگے ہیں کہ انہوں نے ان اصولوں کو اپنایا ہوا ہے جو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے کی ریاست بناتے وقت اپنائے تھے اور ہم مسلمان ہوکر بھی ان اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہے جناب عمران خان صاحب کا خطاب کو سن کر ہر عام شخص کو یہ حوصلہ ضرور ملا ہے کہ کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور ہوگی اور اگر اچھے کاموں کی شروعات بھی ہوگئی تو پہر یہ سلسلہ چل نکلے گا .

محترم پڑھنے والوں میں نے اپنی زندگی کے کئی سال اس ملک کو دئیے ہیں اور کئی الیکشن اور مارشأللہ کے ادوار بھی دیکھے اور جب بھی کوئی سیاسی جماعت الیکشن میں اکثیریت حاصل کرکے آتی تومیں یہ کہتا تھا کہ اگر جمہوریت کی خاطر آنے والی حکومت کا ساتھ دیا جائے تو یہ ملک صحیح سمت چل نکلے گا اور یہ سوچ صرف میری نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی تھی اسی وجہ سے اس ملک کی باگ دوڑ کا سہرہ ایک سے زیادہ مرتبہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سر رہا اور یوں کراچی میں ایم کیو ایم کے سر رہا عوام کا ساتھ اور عوام کے ووٹ کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوسکا میں کبھی کسی بھی سیاسی جماعت کا خاص طور پر حامی نہیں رہا لیکن جمہوریت کی خاطر میں ہمیشہ یہ ہی سوچتا تھا کہ آنے والی حکومت کا ساتھ دینا چہئیے صرف ملک کی خاطر لیکن 2013 کے الیکشن کے بعد اس ملک کے عوام کے اندر اس وقت تبدیلی نظر آئی جب عمران خان صاحب نے 126 دنوں کا دھرنا دیا اور لوگوں میں یہ شعور بیدار کیا کہ اب بہت ہوچکا اور اب ان مخصوص لوگوں کو بہت آزما لیا جمھوریت کے نام پر ان لوگوں نے جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ آج سب کے سامنے ہیں قومی خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے جس طرح لوٹا ہے اور اس ملک کو جس حال تک پہنچایا ہے اس کے لئیے لوگوں کو اٹھنا ہوگا بہر نکلنا ہوگا خاموشی بلیک میلینگ اور دباؤ سے نکل کر اس ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا گو کہ اس معاملے میں عمران خان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اپنی اس مہم میں سیسا پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے اور لوگوں میں جسمیں بچے بوڑھے جوان اور نوجوان سبھی شامل تھے عمران خان کی آواز پر اٹھ کھڑے ہوئے جس کا اندازہ اس وقت ہوا جب الیکشن مہم کے دوران مختلف سیاسی لوگوں کو اس وقت پریشانی کا سامنا ہوا جب لوگوں نے ان سے ان کی پچھلی کارکردگی کے بارے میں یاد دلاتے ہوئے ان سے سوالات کی بوچھاڑ کردی اور یوں ان کو بھاگنا پڑگیا اور یہ مناظر ہر جگھ دیکھنے اور سننے کو ملے جبکہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور اسی طرح اس کے بعد 2018 کے الیکشن میں جس طرح لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دئیے اور ملک کے تینوں صوبوں اور کراچی جیسے شہر میں جس طرح اکثیریت ملی وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ عمران خان کی باتوں کو سمجھے اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے گھروں سے نکلے اور ان کو ووٹ دیا اور صرف ووٹ ہی نہیں دیا بلکہ ان کو وزارت عظمی کے منصب تک بھی پہنچا دیا .

اس میں کوئی شک نہیں کہ نئی حکومت کے لئے کافی مشکل اور سخت چیلینجز کا سامنا ہے اور عوام کو عمران خان صاحب پر Extra Ordinary Expectations ہیں لیکن اس ملک کی اس انتہائی خراب حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے جناب عمران خان صاحب کے پاس کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں وقت کے ساتھ ساتھ ان تمام مسائل کا حل اور اس خرابی کا خاتمہ ہوگا جس طرح کی باتیں جناب عمران خان صاحب نے قوم سے خطاب میں کی ہیں , جس طرح کی امیدیں عوام کو دلائی ہیں اور جو عظم لیکر عمران خان اور ان کی ٹیم پاکستان کی پچ پر اترے ہیں اس سے لوگوں میں بڑا اطمنان اور سکون پیدا ہوتا نظر آیا ہے اس ملک کے ایک مخصوص عوامی طبقے کو یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ اگر پانچ سالوں میں اس ملک کے اس بگڑے حا لات کو یہ حکومت ٹھیک نہ کرسکی تو کم از کم شروعات تو ہوگی اور اگر شروعات ہوگئی تو اس بات کو بھی اس حکومت کی کامیابی سمجھا جائے گا پاکستان میں یہ پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ حکومت اور اس کے وزرأ نے کھلے دل سے opposition کو دعوت دی کہ آئیں اور ہم آپ کے مشوروں اور رہنمائی سے اس ملک کو ترقی کی رہ پر گامزن کریں گے میرا ماننا ہے کہ جب سخت اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن دور سے نظر آتی ہے تو ہمیں اس روشنی کی طرف دیکھنا چہئیے اور اگر اس ملک کو عمران خان جیسی روشنی کی کرن نظر آئی ہے تو دیکھنا چہئیے کہ یہ روشنی اس ملک کو کتنا روشن اور منور کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور ہمیں اس کے ہر اچھے کام میں اس کی حمایت اور رہنمائی کرنی چہئیے میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس ملک کے تمام مسائل کو اپنی قدرت اور اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ وطفیل حل کرنے میں حکومت وقت کی غیب سے مدد فرمائے اور اس ملک کو دنیا کے لئیے اور خاص طور پر عالم اسلام کے لئیے ایک مثال بنادے آمین.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد یوسف راهی

Read More Articles by محمد یوسف راهی: 23 Articles with 11682 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2018 Views: 317

Comments

آپ کی رائے