ماں اور خدا

(Sami Ullah Malik, )

خدا سے تجارت کون کرے؟حالانکہ اسلامی تہواربالخصوص عیدین کے ایام خدا سے کاروبار کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں اور ایسا کاروبار جس میں غلطیوں اور گناہوں کی میلی گٹھڑی کے عوض ثواب و استغفار کا بلا سود پیکیج نہایت آسان اور معمولی شرائط پر دستیاب ہے لیکن لالچ ، خود غرضی ، ریاکاری ، فریب اور ہوس کی چیک پوسٹیں اور چنگیاں بندے کو آسمانی یوٹیلیٹی سٹور تک پہنچنے سے پہلے ہی کنگال و کھوکھلاکرچکی ہوتی ہیں ۔ان اسلامی تہواروں میں خدا کے ساتھ اہل زمین عموما وہی کرتے ہیں جو ناخلف اولاد ماں کے ساتھ کرتی ہے۔ ماں سے کوئی مشورہ نہیں کرتا لیکن سب کچھ اسی کے نام پر ہوتا ہے۔ ماں کا عملی مصرف بس یہ ہے کہ کونے میں عزت سے بیٹھی رہے اورہرآتاجاتااس سے دعائیں اورآشیرواد لیتا، سرپرہاتھ پھروا کے آگے بڑھ جائے۔
خدا کی مخلوق، خدا کے ہاتھوں فروخت ہونے کے بجائے خدا کے نام کو فروخت کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتی ہے۔اس کے نام پر اربوں روپے کی اشتہار بازی ہوتی ہے۔اسی کے نام پر اسی کے نام لیوا اسی کے نام لیواؤں کو ایرکنڈیشنڈ اور سادہ عمرہ وحج پیکیجز بیچتے ہیں۔پیسہ اپنی جیب میں،ثواب آپ کی جیب میں......ہرآڑا ٹیڑھا ترچھا مال جو سال بھر بیچنا مشکل ہوتا ہے دوران ِ رمضان وحج آسانی سے سرشار عبادت گزاروں کو منہ مانگے دام منڈھا جا سکتا ہے۔حج کے نام پرایسی لوٹ اوردھوکہ دہی،الامان والحفیظ!پاکستانیوں کی حرمین شریفین میں جو درگت بنائی گئی اس کی تومیڈیا پر ساری دنیا میں تشہیر ہوئی کہ کس طرح موجودہ حکمرانوں کی ناخلف اولادیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اربوں روپے لوٹ کر چلتے بنے اوراب بھی میڈیا میں ایسی ہی خبریں گردش کررہی ہیں کہ حج کے نام پر کس طرح حکومت کے مقررکردہ ایجنٹ اربوں روپے کی رقوم لوٹ کررفوچکرہوگئے ہیں۔ادھرتمام خوردنی وغیر خوردنی مصنوعاتی برانڈزسبز پگڑی باندھے خصوصی آفرزکی پرکشش تسبیح گھماتے ہوئے سادہ مسلمان کی جیب سے آخری سکہ تک نکالنے کے لیے عیدین کی چراگاہ میں کودپڑتے ہیں۔چالیس روپے درجن کے کیلے خدا رسول کی قسم کھا کر ایک سو بیس روپے درجن بیچنے والا دوکاندار بھی مسلمان اور اپنے بچوں کے لیے جیب سے کچھ میلے کچیلے نوٹ اور ریزگاری نکال کر چھ کیلے بھی دس بار سوچ کر خریدنے والا گاہک بھی مسلمان ہے۔

چاند رات سے عید اوریوم عرفہ اورعید الاضحیٰ کی شب تک اپنے پیاروں سے بات کیجئے، صرف ایک روپیہ ننانوے پیسے میں۔ ثوابِ عید ین کال پیکیج کے لیے ابھی کال کیجیے چار دو صفر پر ........اور ڈان لوڈ کیجئے اپنی پسندیدہ نعت ، حمد،حج کی تلبیہ اوراذان کی رنگ ٹونزاورلوٹ لیجیے دونوں ہاتھوں سے ثواب کے مزے،کیا کہا ؟ رات دیر تک ٹی وی بیہودہ پروگرامز اوراخلاق باختہ فلمیں دیکھنے کے بعد نیند نہیں آتی اور نماز فجر کیلئے بیدار ہونے میں دقت ہوتی ہے ؟ تویہ ہے نیا طاقتور سہراب اسپرے .... رمضان اور ذوالحج بھرکی ساری راتیں''مچھر اورپسو''ابلیس کی طرح آپ سے دوررہنے پرمجبور.......رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ دار کے منہ سے خوشبو کیوں نہ آئے؟ ہم لائے تو ہیں آپ کے لیے خصوصی مسواکی ٹوتھ پیسٹ ،جوسحرتاافطارآپ کے منہ کو دس طرح کے خطرناک جراثیم سے پاک ومعطررکھتاہے،اب روزے کے دوران بلڈ پریشرکم زیادہ نہیں ہوگا؟سحروافطارمیں استعمال کیلئے حکیم بڈھن کاتیربہدف خمیرہِ زنجبار.....تین بوتلوں کی خریداری پرشربتِ روح فرساکی ایک بوتل مفت اورعید الاضحی پرقربانی کاوافر گوشت ودیگرمرغن کھانے جی بھر کر کھائیے مگر بد ہضمی، کھٹے ڈکارسے بچنے کیلئے''بابا چورن''یا''ْقصوری پھکی'' حاضر ہے،ہاں اگردونوں ہاتھوں سےلوٹی ہوئی قومی دولت کو چھپانامقصود ہے تو اس کیلئے سوئٹزرلینڈ ودیگریورپی بینکوں کی ایک ایک لمبی فہرست توحاضرہے،ہاں اگردونوں ہاتھوں سے لوٹی ہوئی ہوئی قومی دولت کوچھپانامقصودہےتواس کیلئے سوئٹزرلینڈ ودیگر یورپی بینکوں کی ایک لمبی فہرست توآپ کے پاس پہلے ہی موجودہے۔

ابھی تو ہمیں رمضان لمبار ک کے وہ مناظر نہیں بھولے جب ڈیزائنرزشیروانیاں اورٹوپیاں پہن کرمیک اپ زدہ مسخرے خدا کے نام پر کروڑوں روپے کے سیزنل کنٹریکٹ سائن کر کے ٹی وی کے منبرپربیٹھ عجزوانکسار،تقویٰ اورپرہیزگاری کے گیت گارہے تھے،گلوگیریت چہرے پرسجائے ناداروں سے محبت،یتیموں سے شفقت اورمسکینوں سے قربت کی تلقین فرمارہے تھے ،جب تازہ پھلوں کے خالص جوس کے ساتھ افطاروسحرٹرانسمیشن کے محل نما سیٹ پرلگے روحانی دربارمیں آنسوبیچتے ہوئے خداکے نبی کی تنگی وعسرت بھری حیات کا تذکرہ ہوتاتھا تودیکھنے سننے والے روزہ دارکے ہاتھ سے نوالہ گرہی توپڑتاتھا۔میراکریم رب یہ منظرتیس روزدلچسپی سے دیکھتارہا،انتظارکرتااورمسکراتارہالیکن رحیم ورحمٰن رب نے عید کے روز مہربانیوں کاساراسٹاک اپنے ناشکروں میں اس امید پربانٹ دیاشاید اگلی عید یعنی ذوالحج پر ہی کوئی بھولابھٹکامجھ تک پہنچ جائے۔

لیکن یہ کیا؟ہم تواللہ کومنانے کیلئے لاکھوں روپے کی گائے،بیل یابچھڑا گلے میں ہارڈالے میڈیاکی یلغارمیں قربان گاہ تک لے آئے اورکیمروں کو گواہ بناکرسنت ابراہیمی کی ان اداؤں کو تصاویرکی شکل میں ڈھال کرمعاشرے میں پارسائی کا دعویٰ کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔باقی رہی سہی کسرمیڈیا اپنے عید کے پروگرامزمیں دکھاکراپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مصروف ہیں۔
ماں اورخدا.......آج دونوں کے پاس اپنے دنیاداربچوں کے انتظار کے سوااور ہے ہی کیا ؟؟
افلاس ہے رقص کناں جن کی ٹوٹی پھوٹی کٹیاؤں میں
تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاؤں میں
وہ افغانی کہساروں میں جن کے ماں باپ شہید ہوئے
ان معصوموں کی چیخیں ہر سو، پھیل رہی ہیں فضاؤں میں
بھارت کے ظلم کی دھوپ میں وہ کشمیری قافلے پا پیادہ
ہے جن کی طلب کہ آکر بیٹھیں ، پاکستان کی چھاؤں میں
وہ بنگلہ دیشی کیمپوں میں جوروزدعائیں کرتے ہیں
اس پاکستان سے الفت کی زنجیر ہے جن کے پاؤں میں
اس مسجد اقصی کی چھت پراورصحن میں جن کابسیراہے
وہ سارے کبوترجومحصورہیں،خوں آشام بلاؤں میں
تم اپنی عید منا کران کوبھول نہ جانادعاؤں میں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226833 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Aug, 2018 Views: 399

Comments

آپ کی رائے