گستاخانہ خاکے اور مسلمانوں کی خاموشی

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

جب تک حضرت محمد ﷺ ہمیں اپنے ماں باپ،اولاد اور جان و مال سے بڑھ کر عزیز اور پیارے نہ ہو جائیں ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا کیونکہ ان کی تعظیم ہمارے ایمان کا حصہ ہے کوئی بھی مسلمان اس سے انکار نہیں کر سکتا چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں رہائش پذیر ہوکفار اسلام یہ سب جانتے ہوئے ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ایسا وہ جان بوجھ کر کرتے ہیں ایسے لوگ جو کسی مذہبی شخصیات یا مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں وہ دنیا کے امن کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں تمام حکومتوں کو اس طرح کا کھیل کھیلنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دینی چاہیئے یورپ میں آزادی رائے کی مکمل آزادی ہے لیکن اس کی آڑ میں کسی کے جذبات سے کھیلنے کی ہر گز اجازت نہیں ہونی چاہیئے مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں اور دنیا میں ہم امن چاہتے ہیں پاکستان نے ہالینڈ اور یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے لیکن اگر اس کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو پاکستان میں ان کی ایمبیسی کو بند کر دیا جائے اور انہیں ملک سے بے دخل کیا جائے دوسرا ہالینڈ کی بنی اشیاء کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی جائے تا کہ مالی خسارا دیکھتے ہوئے وہ باز آ جائیں ہمیں ہر صورت ان خاکوں کی نمائش کو روکنا ہو گا اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمان ممالک کے سربراہ مل کر کوئی لائحہ عمل طے کریں ۔ایک اخباری خبر کے مطابق ہالینڈ کی حکومت نے اپنے آپ کو اس نمائش سے الگ کر لیا ہے لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ان خاکوں کی نمائش کو روکا جائے اور ایسے اقدمات کئے جائیں کہ دوباری کوئی بھی ایسی جرات نہ کر سکے اس کے علاہو عالمی ادروں جیسے یو این او وغیرہ ہیں ان سے بھی رابطہ کیا جائے تا کہ وہ ہالینڈ کو اس شیطانی کام سے روک سکیں۔

یہ شیطانی ذہن رکھنے والے افراد کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں اوران کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جائے تا کہ وہاں کے شہری مسلمانوں کو برا سمجھیں تا کہ کوئی بھی مسلمان ان کے ملک میں داخل نہ ہو یہ سب ان کی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے یقناً یہ ایک انتہائی خطرناک کھیل ہے جس سے دنیا بھر کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے ہم سب مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت کے لئے ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا میں کوئی بھی ملعون دوباری ایسی حرکت نہ کرے ۔

مسلمان ملکوں میں جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے وہاں کے مسلمان یورپ ممالک کا رخ کرتے ہیں تا کہ انہیں وہاں پناہ مل سکے تو یہ گستاخانہ خاکے بھی اسی کا شناخسانہ ہو سکتے ہیں تا کہ یہاں کے مقامی لوگ مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کریں اور انہیں اپنے ممالک میں پناہ نہ دیں ہالینڈ اور یورپ کی حکومتوں کو ایسے افراد پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو آزادی اظہار کی آڑ میں شیطانی کھیل کھیل رہے ہیں جس سے دنیا بھر کا امن برباد ہو سکتا ہے اس لئے انہیں روکنا ضروری ہے ۔

ہالینڈ میں اس سے پہلے بھی گستاخی کی گئی جس کی وجہ سے پورے عالم اسلام کے لوگوں کی دل آزاری ہوئی لیکن اس کے باوجود دوبارہ ایسی حرکت کرنا اس سے انتہا پسندی کو بھی ہوا ملے گی اور دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس لئے ایسی حرکتوں سے یورپ کو باز رہنا کی ضرورت ہے ہالینڈ کی حکومت فوری طور پر اس نمائش کو روکے تا کہ مسلمانوں کے جذبات مجروع نہ ہوں تمام مسلمان ممالک کے سربرہان ہالینڈ سے سخت احتجاج کریں تا کہ دوباری کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے لیکن افسوس کہ مسلمان ممالک کی جانب سے ابھی تک خاموشی اختیار کرنا مسلمانوں کے لئے مزید تکلیف کا باعث بن رہا ہے سوشل میڈیا پر یہ تحریک زور پکڑ رہی ہے کہ ہالینڈ کی اشیاء کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور یہ ضروری بھی ہے ہم سب اس وقت تک اپنے پیارے نبیﷺسے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے رہیں گے جب تک ہماری آخری سانس بھی چلتی رہے گی سوشل میڈیا پر یہ اظہار اس لئے بھی ضروری ہے تا کہ ہالینڈ کی حکومت کو پتا چل سکے کہ حضرت محمد ﷺ مسلمانوں کے لئے کتنے معتبر ہیں اور دوسرا ہمارا پیغام ان شرپسندکفار تک پہنچ جائے اس لئے سوشل میڈیا پر اس مہم کو اور تیز کر دیں تا کہ ہالینڈ کی حکومت اس سے دستبردار ہو جائے اور انہیں روکنے پر مجبور ہو جائے ہم ذاتی طور پر بھی ہالینڈ کی حکومت سے پر زور احتجاج کرتے ہیں کہ ان خاکوں کی نمائش کو فوری روکا جائے آخر میں میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان گستاخوں اور شر پسند کفار کو غرق کرے آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1337945 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
02 Sep, 2018 Views: 304

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ