دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا شکار معصوم مسلمان

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

روہنگیا مسلم بچوں کی تعلیم و تربیت ضروری
گذشتہ چند برسوں کے دوران عالمی سطح پر مسلم بچوں کی شکست خوردہ نسل تیار ہورہی ہے۔ ایک طرف عراق، شام، یمن وغیرہ میں لاکھوں کی تعداد میں معصوم نونہال مسلم بچے اشیاء خوردونوش اور ادویات سے محروم ہورہے ہیں، انکی تعلیم و تربیت کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ان لاکھوں بچوں کے ساتھ ساتھ اب روہنگیاکے مسلم بچے بھی شامل ہوچکے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ ناکافی سہولتوں کے باعث بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں روہنگیا مسلمانوں کی محروم اور شکست خوردہ نسل تیار ہو رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال ’ یونیسیف‘ کے بنگلہ دیش میں نمائندے ایڈوآرڈ بیگبیڈر نے کہا ہے کہ اگر روہنگیا مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم نہ کی گئیں تو وہ جنگ عظیم اول میں برباد ہونے والی نسل کی طرح پروان چڑھیں گے جنہیں اْس زمانے میں Generation Lost کہا جاتا تھا۔یونیسیف بنگلہ دیش کے نمائندے نے کہا کہ نئی نسل جس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہے اس سے ان کی شخصیت تباہ اور نفسیات بُری طرح متاثر ہوئی ہے، محرومی اور شکست خوردگی سے بربادی کے دہانے پر پہنچنے والی نسل کو بچانے کیلئے تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔یونیسیف نمائندے نے عالمی اداروں، بڑی طاقتوں اور مخیر حضرات سے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کے شکار روہنگیا مسلم بچوں کی تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے امداد فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں 7 لاکھ افراد مقیم ہیں جن میں بچوں کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے جنہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔عالمی سطح پر روہنگیا مسلم بچوں کی صحت اور انکی تعلیم و تربیت کیلئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شام اور یمن کے حالات بھی اسی طرح ہے کئی لاکھ بچے مختلف ممالک میں اپنے والدین اور عزیز و اقارب کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جن کا کوئی پرُسان حال نہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ کیا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال کے کہنے پر عالمی سطح پر معاشی امداد مہیا کی جائینگی۔ امداد مہیا کئے جانے کے بعد اس پر خصوصی نظر رکھیں کے کیا واقعی یہ امداد مستحقین تک پہنچ پارہی ہے یا نہیں۔ کیونکہ عالمی سطح پر غزہ کو دی جانے والی امداد صیہونی مملکت اسرائیل کے فوجی اور سیکیوریٹی کی اجازت ضروری ہے اور اس میں سے کتنی امداد ان مستحقین کو پہنچ پاتی ہے اس کا اندازہ کرنا محال ہے اسی طرح روہنگیا کے مسلم بچوں کو دی جانے والی امداد پر بھی خصوصی نظر رکھیں تاکہ میانمار کی فوج اور دیگر سیکیوریٹی عہدیدار ان مستحقین کو دی جانے والی امداد پر نظر رکھیں۔گذشتہ دنوں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سبکدوش ہونے والے سربرہ زید رعد الحسین نے کہا ہے کہ میانمار کی رہنماء آنگ سان سوچی کو فوج کی جانب سے روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف پرتشدد مہم چلانے پر مستعفی ہوجانا چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آنگ سان سوچی نے ایسی جگہ بہانے بنائے جہاں مذمت کی جانی چاہیے تھی۔ رعد الحسین کا مزید کہنا تھا کہ امن کا نوبل انعام یافتہ سوچی کو برما کی فوج کے ترجمان کے طور پر بولنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں تھیں اور اس وقت وہ خاموش رہ سکتی تھیں یا اس سے بھی بہتر کہ وہ مستعفی ہوجاتیں۔ برخلاف اسکے انہوں نے برما کی فوج کے ترجمان کی حیثیت سے اپنا رول ادا کیا ہے۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے باعث اگست2017سے اب تک ساتھ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش جاچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے فوج کی تائید و حمایت کی ہے جو قابلِ مذمت ہے عالمی ادارہ نے بھی اس کی مذمت کی ہے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین فوجی افسران سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے تفتیش کی جانی چاہیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ سو سے زائد تفصیلی انٹرویوز پر مبنی ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے میانمار کے حکام کے خلاف اب تک روہنگیا مسلمانوں کے معاملے میں کی گئی یہ سب سے کڑی تنقید ہے۔ اس رپورٹ میں فوج کے چھ اعلیٰ افسران کے نام دیئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔اور تجویز دی گئی کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجا جائے۔ رونگیا مسلمانوں کا قتلِ عام، عصمت ریزی اور بچوں پر حملے کئے گئے اور گاؤں کے گاؤں جلائے گئے ان تمام ظلم و بربریت کے خلاف کی جانے والی تحقیق جو سچ ثابت ہوچکی ہے اس کے خلاف اب دیکھنا ہیکہ عالمی سطح پر میانمار حکومت اور فوج کے خلاف کچھ کارروائی ہوتی ہے یا نہیں۰۰۰

ایران امریکی پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتا ہے؟
ایک ایسے وقت میں جبکہ ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ عائد کی جانے والی پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اس میں اسے سرخرو ہونے کاعندیہ دیا ہے ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں سے ایرانی قوم میں مزید اتحاد و اتفاق پیدا ہو گا۔ایرانی صدر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اُن کی حکومت اقتصادی چیلنجز کامقابلہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں مقیم ایران مخالف عناصر کو بتائے گی کہ اُن کی پابندیاں ناکام ہو گئی ہیں۔ حسن روحانی نے واضح کیا کہ وہ امریکی پابندیوں یا اقتصادی مسائل سے خوفزدہ نہیں ہیں۔حسن روحانی کے اس بیان کا اثر امریکہ ، سعودی عرب اور دیگرممالک پر کس طرح پڑتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتایا گا۔اتنا ضرور ہے کہ ایران پر عائدکی جانے والی پابندیوں کا اثر دیگر ممالک خصوصاً ہندوستان پر بھی پڑے گا۔

ایرانی حکومت منشیات کی کاشت کیلئے حوصلہ افزائی کرنے پر مجبور؟
ایران کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہیکہ ایرانی حکومت عوام کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہورہی ہے۔ ایران کے محکمہ وزارتِ کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت ملک میں منشیات کی کاشت کیلئے کاشت کاروں اور کسانوں کو قرضے جاری کرنے کے ساتھ مختلف دیگر پہلوؤں سے ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ضلع کوھکیلویہ میں دانا زرعی آرگنائزیشن کے چیئرمین فضل اﷲ اذرفر اور جنوب مشرقی ایران میں تنظیم کے عہدیدار بویر احمد نے انکشاف کیا کہ حکومت نے امام خمینی ریلیف کمیٹی کے توسط سے ماریجوانا(بھنگ) کی کاشت کے لیے کاشت کاروں کو 40 کروڑ تومان کی رقم قرض کے طورپر فراہم کی ہے۔فضل اﷲ کا کہنا تھا کہ کسانوں کی بحالی کا فنڈ تین سال سے بند تھا مگر ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب پتا چلا کہ ایک کسان نے 40کروڑ تومان بھنگ کی کاشت کے لیے حکومت سے قرض کے طور پر لیے ہیں۔تاہم امام خمینی کمیٹی کی طرف سے بھنگ اور دیگر منشیات کی کاشت کے لیے فنڈز کی فراہمی یا قرض جاری کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔کمیٹی کی طرف سے تردید کے باوجود میڈیا میں آنے والی تصاویر میں پولیس کی موجودگی میں لوگوں کو بھنگ کی کاشت کرتے اور اس سے منشیات تیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران میں حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے
ایران کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز سے نئے مظاہروں کا اٰغاز ہوچکا ہے۔ صوبہ خراسان کے شہر مشہد کے سٹی ہال کے سامنے ایک مرتبہ پھر سیکڑوں ٹرک ڈرائیور احتجاج کے لیے اکٹھے ہورہے ہیں۔وہ مال برداری کی فیس میں اضافے ، کم کرایوں اور کاروباری لاگت میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جبکہ ایرانی معیشت مسلسل زبوں حالی سے دوچار ہے۔اصفہان شہر میں بھی ٹرک ڈرائیور کم اجرتوں اور فاضل پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔اہواز میں نیشنل اسٹیل گروپ سے وابستہ کمپنیوں کے سیکڑوں ملازمین نے گذشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائی کے خلاف مظاہرہ کیا۔انھوں نے اس موقع پر حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا ملک چوروں کی آماجگاہ ہے ،یہ دنیا میں اس کا ایک ماڈل بن چکا ہے‘‘۔ایران میں گذشتہ چند دنوں کے دوران میں سرکاری ملازمین ، بے روزگاروں اور ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات نے مہنگائی ، افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور ملکی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں واقع شہر چغداک میں رات سینکڑوں شہریوں نے واٹر اتھارٹی کے دفتر کے سامنے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس صوبے میں گذشتہ بیس روز سے پانی کی قلت پائی جارہی ہے اور حکام نے آب رسانی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔اس سے قبل میروان میں شہریوں نے بلدیہ میں بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔اس شہر میں سڑکیں اور بازار کوڑا کرکٹ سے اٹے ہوئے ہیں۔مظاہرین نے احتجاج کے دوران میں کوڑے دانوں کو آگ لگا دی۔دریں اثناء ایران کی وزارت برائے اقتصادی امور کے سابق انڈر سیکریٹری حسین سمسامی نے اپنے طور پر خبردار کیا ہے کہ ملک کو آیندہ مہینوں میں بدترین افراطِ زر کا سامنا ہوسکتا ہے۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’’ کرنسی کی سیکنڈری مارکیٹ کی اسٹیبلشمنٹ کی پیدا کردہ افراط زر نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا ہے اور دودھ ، اسٹیل ، لوہے ، لکڑی کی مصنوعات اور بہت سی دوسری اشیاء کی قیمتیں دُگنا ہوچکی ہیں‘‘۔اس طرح امریکہ کی جانب سے دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد ایران معاشی بحران کا شکار ہورہا ہے۔ جبکہ ایرانی صدر امریکہ کو باور کرارہے ہیں کہ ایران قوم اس بار بھی اپنے حوصلوں کو بلند رکھتے ہوئے امریکہ کو شکست دیدیں گے۔کاش ایسا ہوتا۰۰۰۰

شام میں شدت پسندوں کی جانب سے کیمیائی حملے
روسی حکومت کی جانب سے باغیوں کے زیر تسلط شامی صوبے ادلب میں شدت پسند کیمیائی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔اتوار کو روسی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ادلب صوبے میں شدت پسند شہریوں پر کیمیائی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ اس کا الزام شامی حکومت پر عائد کیا جا سکے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک نجی برطانوی ٹھیکیدار مبینہ کیمیائی حملے کی تیاری میں شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔اگر واقعی شدت پسند کیمیائی حملے کرینگے تو اس سے عام شہریوں کو خطرہ لاحق ہوگا اور پھر وہی ہلاکتوں کا سلسلہ پھر سے ایک مرتبہ شروع ہوجائے گا ۔

ملکی معیشت پر حملوں کا توڑ صرف عوام کے پاس ہے ‘ اردغان
ترک صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے کہ ترکی کی اقتصادیات پر کیے جانے والے حملوں کے توڑ کی ضمانت صرف ترک عوام کے عزم اور مستقل مزاجی ہی سے ممکن ہوسکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق ترکی میں جاری کرنسی کے حالیہ بحران کے تناظر میں ترک صدر کا یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔ ایردوان نے کہا کہ ترکی کو اپنے 2023ء ، 2053ء اور 2071ء کے اہداف تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حالیہ کچھ عرصے میں ایشیائی منڈیوں میں ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسرائیل ،مشرق وُسطیٰ کے کسی بھی مقام کو نشانہ بناسکتا ہے
اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسا میزائل نظام تیار کر رہا ہے جو مشرق وْسطیٰ میں کسی بھی مقام کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو گا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ اسرائیلی ملٹری انڈسٹری اس میزائل کی تیاری میں مصروف ہے اور یہ میزائل آئندہ چند برسوں میں اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ایوگڈور لیبرمن کے مطابق جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل یہ میزائل سسٹم اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو گا۔ لیبرمن کے مطابق اس منصوبے پر سینکڑوں ملین شیکل خرچ کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیلی کرنسی شیکل 3.63 امریکی ڈالرز کے برابر ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع ایگڈور لیبرمن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس میزائل نظام کا کچھ حصہ پہلے ہی تیاری کے مراحلے میں ہے جبکہ کچھ حصہ ابھی تحقیق کے آخری مراحل میں ہے۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ہم ایک ایسا جدید اور درست نشانہ بنانے والا فائر سسٹم حاصل کر رہے ہیں جو آئندہ چند برسوں میں اسرائیلی دفاعی افواج کو علاقے کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کے قابل بنا دے گا۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 261 Articles with 102690 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2018 Views: 305

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ