گستاخانہ خاکوں کا عملی جواب

(Sohail Azmi, Dera Ismail Khan)

یہودونصٰاری اکثر امت مسلمہ کے جذبہ ایمانی کو جانچنے کے لئے ہمارے نبیؐ،اسلامی شعائر اور سنتوں کا مذاق اڑانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں ۔حال ہی میں ہالینڈ میں نو مبر کے ماہ میں خاکوں کی نمائش کا اعلان کیاگیا جس کے جواب میں پوری امت مسلمہ کے دو ارب کے قریب مسلمان طیش میں تھے ۔پاکستان ،بنگلہ دیش ،بھارت ،ترکی ،سوڈان ،انڈونیشیا ،ملائشیاودیگر کئی اسلامی ممالک میں عوام اور حکمرانوں کی طرف سے رد عمل دیکھنے میں آیا پاکستان کی سینٹ میں اس سازش ،مکروہ ناپاک حرکت کے خلاف قرارداد پاس کی گئی ۔دیگر قومی وصوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں بھی تقاریریں کی گئیں ۔ہالینڈ کے سفیر کو بلا کر احتجاج کیاگیا ۔او آئی سی کا اجلاس بلوانے کی درخواست کی گئی ۔ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں ہالینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے ،معاشی بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا ۔سوڈان کے صدر نے ہالینڈ کا سفارتخانہ بند کرکے اس کی جگہ مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا ۔ترکی نے عملی طور پر اپنا سفیر وآپس بلوالیا اور ہالینڈ کے اشیاء کے خلاف عملی بائیکاٹ ترکی ہی میں شروع ہوا ۔امت مسلمہ کے اس جارحانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے ہالینڈ کی حکومت نے نبیؐ کی شان کے خلاف گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر پابندی لگادی یہ تو ہے تصویر کا ایک رخ ۔ہمارے بھر پور جارحانہ رویہ کے باعث ہالینڈ کو یہ نمائش ختم کرنی پڑی ۔دوسرا رخ تصویر کا یہ ہے کہ ہم امت مسلمہ اگر اسوہ حسنہ ؐ کو اپنی زندگی میں اپنا لیں تو اس سے ناصرف ہمارے معاشی ،اقصادی ،سیاسی ،دفاعی حالات بہتر ہوجائے گی بلکہ اس کے اثرات پانچ ارب غیر مسلموں پر بھی پڑیں گے ۔بدقسمتی سے جب ایک غیر مسلم ہمارے نبیؐکا یا ان کی سنتوں کا مذاق اڑاتا ہے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے لیکن جب مسلمان تمام زندگی اسوہ حسنہؐکے خلاف اپنی زندگی گزارتا ہے نہ صر ف گزارنا بلکہ اس زندگی پہ فخر کرتا ہے تو ہمیں اس کا کوئی رنج وغم نہیں ہوتا ۔ہمارے نبیؐ کی شان بروز قیامت تک قائم ودائم رہے گی اور ان کا لایا ہوا دین حق اسلام ہے کچے پکے گھر میں پہنچ کر رہے گا ہمیں یہود ونصٰاری کی ان گھناؤنی ،مکروہ اور ناپاک سازشوں ،حرکتوں کا جواب عملی طور پر اپنی طرز زندگی میں تبدیلی لاکر دینا ہوگا ۔آج اگر امت مسلمہ اسوہ حسنہ پر چلنے لگے توہمارے تمام تر دینوی واخروی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ہم نے غیروں کے طریقوں کو اپنا نے میں اپنی کامیابی سمجھی جس کے باعث ہماری مثال آدھا تیتر اورآدھا بٹیر والی ہوگئی ۔اغیار نے ہم پہ اتنی محنت کی کہ ہمارے گھر گھر میں عریانی ،فحاشی ،مخلوط زندگی کے لوازمات پہنچا دیئے اور ہماری اسلامی طرز زندگی کو شدید متاثر کیا حالانکہ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق تمہارا دین اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک تمہیں اپنی جان ومال ،اولاد سے زیادہ محبت نبیؐ کی ذات سے نہ ہو۔ماشاء اﷲ ہم تمام مسلمان آپؐ سے محبت کرنے کے دعویدار ہیں لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہے صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ۔میرے نبیؐ نے فرمایا کہ تم اپنے پانچوں کو ٹخنوں سے اونچا رکھو جوایسا نہیں کرتا وہ نہ صرف دنیا میں اﷲ کی رحمت سے محروم ہے اور بروز قیامت بھی محروم رہے گا لیکن یہود نصاری کے فیشن کے مطابق ہم نے گھٹنوں تک اپنے پانچے ننگے کرلیے ۔میری نبیؐ نے فرمایا نماز اداکرو نوے فیصد نماز سے دور 98 فیصد زکواۃ سے ۔انہوں نے سودی نظام سے بچنے کو کہا ہماری معیشت اور ہم اس میں جکڑے ہوئے ہیں ہمیں عدل وانصاف پر مبنی نظام پر چلنے کو کہا گیا ۔ہمارا نظام عدل سراسر ظلم وزیادتی کی آخری حدود کو چھورہا ہے ہمیں ایک حدیث ؐکے مطابق کہا گیا کہ تم جس قوم کی مشابہت اپناؤ گے قیامت میں انہی کیساتھ اٹھائے جاؤ گے ۔ہمارے مشابہت تو ہے ہی یہود ونصاری والی لیکن جو اگر دین کے مطابق مشابہت ،زندگی اپنانا بھی چاہتا ہے تو اس کا اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑیا جاتا ہے ۔حال ہی میں ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسن نے داڑی اور حجاب کے بارے میں بڑی ہی مضحکہ خیز اور احمقانہ بیان دیا جبکہ وہ ایک دوسرے انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ وہ اب میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ موویز ،گانے ،ڈراموں وغیر ہ کو پروموٹ کریں گے ۔حجاب کے بارے میں یورپ میں نو مسلم خواتین ایک بڑی حوصلہ اور ایمان افزاء جدوجہد کررہی ہیں اور اسلامی ملک کے وزیر اطلاعات کے یہ خیالات میں ہم یہود ونصاریٰ کو اپنے عمل سے ایسا جواب دے سکتے ہیں کہ جس کا توڑ ان کے پاس نہیں ہے کیونکہ جب ہم اﷲ کے حبیب ،خاتم النبین کی زندگی کو ساتھ لے کر چلیں گے تو پھر اﷲ کی مدد ونصرت ہمارے ساتھ ہوگئی آج ہم تو سودی نظام کے باعث اﷲ کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں ۔اﷲ کی ذات سے کون جنگ لڑ سکتا ہے ہم جب تعداد میں کم اور نہتے تھے ہم نے اپنے سے کئی گناہ زیادہ اور قوی لشکروں ،حکمرانوں کو شکست دی لیکن آج ہم تعداد میں زیادہ ہیں 57 کے قریب ممالک اسلامی ہیں لیکن کراچی کے برابر چھوٹے سے اسرائیل نے ہمیں تگنی کا تاج نچایا ہوا ہے ۔حضورؐنے ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓسے فرمایا کہ عنقریب ایسا وقت بھی امت مسلمہ پہ آئے گا کہ یہودونصاری تم پر ایسے ٹوٹیں گے جسے لوگ کھانے پر ایک دوسرے کو بلاکر ٹوٹتے ہیں وہ تمہیں اس طرح قتل کریں گے ۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام ،فلسطین ،عراق ،لیبیا ،مصر ،ہندوستان ،کمشیر ،برما ،افغانستان ،پاکستان میں کیا ہورہا ہے ۔امت مسلمہ کا قتل عام جاری ہے ۔صحابہ کرامؓ نے سوال کیا کہ کیا ہم تعداد میں کم ہوں گے ۔آپ نے فرمایا تم تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے لیکن حب جاء اور حب مال کی حرص تمہیں تباہ وبرباد کردے گی ۔ہمیں ہر طرف نشانہ بنایا جارہا ہے ایسا صرف ہمارے دین سے دوری ہے امت مسلمہ جو کہ اغیار کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے خود اپنے آپ کو نہیں بچا پارہی ہے ۔ایک کے بعد ایک مسلمان ملک کی باری آرہی ہے ۔برماجیسے چھوٹے ملک میں مسلمانوں کو زندہ چلایا گیا ۔ان کے ٹکڑے کیے گئے لیکن کسی اسلامی ملک نے ماسوائے ترکی کہ برما کی حکومت کی سرزنش نہ کی ہماری اوآئی سی صرف کاغذی اور اجلاس کی حد تک ہے عملی طور پر ہمیں ہمارا دین اور دین کی اجتماعی محنت ،اسوۃ حسنہؐ پر چلنا ہی تمام تر کفریہ سازشوں سے بچاسکتا ہے ۔اس کے بغیر ہمیں آگے بھی ہالینڈ ہی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
٭٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Azmi

Read More Articles by Sohail Azmi: 154 Articles with 72198 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Sep, 2018 Views: 468

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ