☆☆"اوڑھنی "☆☆( پانچویں قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

زنان خانے سے نکلتے ہوئے تنویر کی زوردار ٹکر کسی قد آور شخص سے ہوگئی ۔تنویر نے سر اوپر کیا تو بے ساختہ ہی خوشی سے جھوم گیا ۔اس کے بڑے بھیا نجف الرحمان عرف آکا بھیا اس کے سامنے کھڑے تھے ان کے ساتھ اس کے چچا زاد سبتین علی بھی موجود تھے ۔یہ دونوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ابھی ابھی پہنچے تھے ۔اس کا ثبوت ان کے سفری بیگ اور ان کے بستر بند تھے۔ جو نوکروں نے اٹھائے ہوئے تھے ۔تنویر باری باری دونوں سے بغل گیر ہوا ۔دونوں نے باری باری اس کو مبارکباد دی ۔ تنویر نے ان کو زنان خانے میں سلام کرنے کے بعد مردان خانے میں پہنچنے کی درخواست کی۔
تنویر کو ابھی مردان خانے میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے کچھ وقت ہی ہوا تھا تو اس نے دیکھا کہ اس کے دونوں وجیہہ اور شکیل بھائی شیروانیاں زیب تن کیے ۔سر پر علی گڑھ کیپ رکھے محفل میں داخل ہوئے ۔ ان کے چند دوست بھی مہمان خانے سے برآمد ہوئے ۔ان لوگوں نے ایک کونے میں بیٹھ کر گپ شپ لگانی شروع کردی ۔تنویر کے کانوں میں انگریزی راج ختم کرنے کی آواز پڑی تو خودبخود اس کے کان ان لوگوں کی باتوں پر لگ گئے ۔باتوں سے پتا چلا کہ وہ سب مسلم لیگ کے مستعد کارکن تھے، اور کسی مسٹر محمد علی جناح کو مسلمانوں کا نجات دہندہ مانتے ہیں ۔ اس کے کانوں میں پہلی بار مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کی ضرورت اور افادیت کا نظریہ بھی سننے کو ملا ۔
تنویر کے دماغ میں کھلبھلی مچ گئی ۔اس کے ذہن میں اس کے دوستوں ہرمیندر سنگھ، راجندر کمار، اشوک شرما، سرپال سنگھ، اقبال سنگھ کے چہرے آگئے ۔وہ کیسے اپنے بیلیوں کو چھوڑ کر ایک انجان زمین پر جا کر بس سکتا تھا ۔اس کو بلقیس کور اپنے جگری یار اقبال سنگھ کی بے بے یاد آگئی جو اس کو بھی اپنا بیٹا مانتی تھی ۔اس کو راجندر کمار کی چھوٹی بہن سمترا یاد آگئی جو ہر راکھی پر اس کو راکھی باندھتی تھی اور ہمیشہ اس کو ویر جی کہہ کر مخاطب کرتی تھی ۔اس کے ذہن میں پہلی بار آکا بھیا اور سبتین بھیا کے خلاف کدورت آئی، اس نے سوچا
دونوں بھیا علی گڑھ جاکر بدلیں ہیں ۔میں تعلیم کے لئے علی گڑھ ہرگز نہیں جاونگا ۔
اس نے اپنی توجہ بھیا لوگوں کی باتوں سے ہٹا کر اپنے دوستوں کی طرف مرکوز کرلی۔
تقریب کے اختتام کے بعد جب سب لوگ اپنی اپنی خواب گاہوں میں چلے گئے ۔تو تنویر کے کانوں میں بے بے اور باوجی ،چچی امی اور چچا جان کے بولنے کی آوازیں آئیں ۔اس کا خیال تھا کہ شاید سکینہ اور اس کے نکاح کے متعلق بات ہورہی ہو مگر پتا چلا کہ کہ گھر کے بڑے آکا بھیا اور سبتین بھیا کو جلد از جلد بیاہ کے بندھن میں باندھنا چاہ رہے ہیں تاکہ ان کے دماغوں سے سیاست کا بخار اترے اور گھر گرہستی کی طرف توجہ جائے ۔دور پار کے ایک عزیز بنارس میاں کی دو بیٹیوں ثریا اور شکیلہ کو اس کا رخیر کے لئے چنا گیا ۔تنویر نے دونوں بہنوں کو نہ صرف دیکھا ہوا تھا بلکہ اردو اور فارسی ان سے پڑھی تھی ۔دونوں اپنے رنگ و روپ میں یکتا تھیں ۔تنویر کو اپنے بزرگوں کی فہم و فراست پر یقین آگیا ۔ وہ زیر لب مسکراتا اپنی خوابگاہ کی جانب چل پڑا ۔آج کی رات سپنے سجانے کی تھی ۔
کیا یہ شادیاں دو جوانوں کو ان کے نصب العین سے ہٹا سکیں گی ۔پڑھئے اگلی قسط میں ۔
( باقی آئندہ )۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178341 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
04 Sep, 2018 Views: 266

Comments

آپ کی رائے