"اوڑھنی " ( چھٹی قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

صبح کا سویرا لال حویلی کے مکینوں کے لئے جہاں خوشیوں کا سویرا لایا وہاں آکا بھیا اور سبتین علی کے لئے اضطراب لایا، ان دونوں نے حتی الامکان بہانے بنا کر شادی سے انکار کی کوشش کی، مگر بزرگوں کے آگے ان کی ایک نہ چلی ۔آخرکار ایک رنگیلی رات میں ان دونوں کے سہرے کے پھول کھل ہی گئے ۔ چچا جان نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنے بھائی جی کے پاس امرتسر کے اس نواحی گاوں میں نقل مکانی کرکے آباد ہوجائنگے، تاکہ نوجوان لڑکوں پر نظر رکھی جاسکے ۔
اچانک تنویر کی یادوں کے تسلسل کو شاہ زیب کی آمد نے درہم برہم کردیا ۔تنویر نے شاہ زیب کے کھنکارنے پر اس کی طرف دیکھا ۔اس کا بیالیس سالہ بیٹا آج اپنی عمر سے کئی گنا بڑا لگ رہا تھا۔ اس کی چھ فٹ قامت ایسے لگتا تھا کسی نادیدہ بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔ وہ تنویر کی آرام کرسی کے نزدیک اس کے پیر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ تنویر نے دیکھا اس کے جگر گوشے کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔وہ ایک لاچار، تنہا ،ہارا ہوا جواری لگ رہا تھا۔ تنویر کے دل کو ہاتھ پڑا ۔وہ بے اختیار بولا:
"پتر! یہ حالت تو میری تب بھی نہ ہوئئ تھی، جب میں اپنے پیاروں کی لاشیں بے گور و کفن چھوڑ کر ،امرتسر سے لاہور تیری ماں کا ہاتھ پکڑ کر آیا تھا"
شاہ زیب بے اختیار تنویر کی گود میں سر رکھ کر سسک سسک کر رو پڑا۔
'اباجی ! آپ مجھے معاف کردیجیے، میں آپ کی اور امی کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرپایا ۔امی مجھ سے ناراض ہی دنیا سے چلی گئیں ۔ آپ مجھے خدارا معاف کردیں ۔میں لالچ میں اندھا ہوگیا تھا، آج میرے پاس سب کچھ ہے مگر درحقیقت میں ایک تہی دامن اور تہی دست شخص ہوں۔ میری بیوی، بچے ایک ایسی تہذیب کے پیروکار بن چکے ہیں، جو معصیت کے دروازے کھولتی ہے۔میں نے اپنا ماضی،حال ، مستقبل سب ہار دیا۔"
تنویر کی آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا گئیں ۔اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ شاہ زیب کے سر پر رکھ کر اس کو تھپکا اور بھرائئ ہوئی آواز میں گویا ہوا:
میرے بیٹے! میں اور سکینہ کبھی بھی تجھ سے ناراض نہیں تھے، بس تجھے چوٹ لگنے کے خیال سے خوفزدہ تھے ۔ہم تجھے ایسے ہارتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے، جیسے آج تو ہار کر میرے پیروں میں بیٹھا ہے۔"
شاہ زیب نے بے خودی میں تنویر کے جھریوں زدہ ہاتھوں کو بارہا بار چوما اور بولا:
اباجی! مجھے اس اندھیرے سے نکالیے ۔میرے بیوی بچوں کو ڈوبنے سے بچائیے ۔
تنویر ایک سرد آہ لے کر بولا:
"چلو بیٹا! آج پھر تحریک آزادی کا یہ مجاہد اپنے جہاز کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے تیرے ساتھ الحاق کرتا ہے اور دشمن کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔"
شاہ زیب کی آنکھوں میں امید کی نئی جوت جاگ اٹھی اور سالوں بعد دونوں باپ بیٹے نے اکٹھے فلک شگاف نعرہ لگایا:
لے کر رہینگے آزادی!
دونوں باپ بیٹے گلے لگ کر کھلکھلا کر ہنس پڑے جیسے دو ہانی کسی مہم پر اکٹھے ہونے پر خوش ہوتے ہیں ۔
یہ آزادی کی جنگ کیا ہے؟
اس راز سے پردہ اگلی اقساط میں ہی اٹھ سکے گا ۔
(باقی آئندہ )۔●●●
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175109 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
05 Sep, 2018 Views: 287

Comments

آپ کی رائے