"اوڑھنی " ( ساتویں قسط)☆☆☆

(Mona Shehzad, Calgary)

آج کی صبح عجیب تھی۔ شاہ زیب ولا نے یہ بھی دن دیکھا کہ آج تنویر ناشتے کی میز پر موجود تھا۔ صوفیہ بیگم کو تو اسے دیکھ کر پتنگے لگ گئے۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنی این جی او کی میٹنگ کے لئے چلی گئی ۔علیشاہ اور ہاشم بھی ٹھٹھکے، مگر شاہ زیب کو آتے دیکھ کر رک گئے ۔ شاہ زیب نے آج اپنی کرسی تنویر کے لئے کھینچی اور کہا:
"اباجی آپ اس گھر کے سربراہ ہیں ۔یہی آپ کی جگہ ہے۔"
علیشاہ اور ہاشم کو شاہ زیب کی دماغی حالت پر شک ہورہا تھا ۔ شاہ زیب نے ان کی طرف دیکھا تو وہ پھرتی سے اپنی اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ناشتے کے دوران تنویر بچوں اور شاہ زیب سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا رہا۔ ناشتے کے اختتام پر تنویر نے ہاشم کو مخاطب کرکے کہا:
"اپنے دوستوں کو بلا لو میں اپنے ماضی کی کہانی تم سب کو سنانے کے لئے راضی ہوں "
ہاشم کو ایسا لگا جیسے گوہر مقصود اس کے ہاتھ آگیا ہوں۔ وہ ویسے بھی علیشاہ کی نسبت اپنے دادا سے زیادہ دلی لگاو رکھتا تھا۔
علیشاہ کو بھی پہلی بار لالچ ہوئی کہ اگر اس کو بھی اس ڈرامہ میں کوئی کردار مل گیا تو شاید اس کا شوبز میں جانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے ۔اس نے بھی فورا دادا ابا سے جھوٹی لگاوٹ کا مظاہرہ کیا۔
آج ہاشم کالج پہنچا تو اس کے پیر زمین پر ہی نہیں ٹک نہیں رہے تھے ۔ اس نے سب سے پہلے سویرا کو یہ خوش خبری سنائی ۔ سویرا تو خوشی سے جھوم اٹھی ،ان کے سارے گروپ نے دادا ابا کی ہدایت کے مطابق چار بجے شام میں اس کے گھر آنے کا وعدہ کیا ۔آج کا دن گزارنا سب کو کارمحال لگ رہا تھا ۔مگر آخرکار دن گزرا اور شام کو سب نے ہاشم کے گھر کی راہ لی۔ جب وہ سب پہنچے ،تو نوکروں نے بتایا کہ ہاشم اور دادا ابا پائیں باغ کی بارہدری میں بیٹھے تھے۔ وہ بارہدری پر پہنچے توسورج ہلکا سا نیچے ہوا تھا ،دھوپ چھٹی نہیں تھی، مگر پنکھے چلنے سے اور حوض میں چلتے فوارے سے ٹھنڈک کا احساس تھا ۔جہاں بچے آج دادا ابا کو مسکراتے دیکھ کر چونکے وہاں دادا ابا بھی ان کو دیکھ کر حیران ہوئے مگر اپنی حیرت کو مسکراہٹ میں عمدگی سے چھپا گئے ۔تمام لڑکوں نے شلوار کرتے پہنے ہوئے تھے، جبکہ لڑکیوں نے بھی شلوار قمیضیں اور لمبے لمبے دوپٹے اوڑھے ہوئے تھے ۔دادا ابا ان کے چھل فریب سے واقف تھے ۔مگر انھوں نے بے نیازی کا مظاہرہ کیا۔سب لڑکے، لڑکیاں بڑی سعادت مندی سے چاندنی پر بیٹھ گئے ۔دادا ابا نے حقے کو گڑگڑایا اور ماضی کے دریچے کو کھولنے لگے۔
تنویر اپنے کس ماضی سے پردہ اٹھانے والا تھا ۔اس کا انکشاف اگلی اقساط کے دوران ہی ہوگا ۔
(باقی آئندہ ☆☆)۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178583 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
06 Sep, 2018 Views: 451

Comments

آپ کی رائے