خلش صہبائی کا شعری مجموعہ گنجینہ ئِ زر

(واجد نواز ڈھول , Bhakkar)
ایک زمانہ تھا جب بھکرکی فضائوں میں لکھنئو کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اُن دنوںتھل کے ریگزاروں میں اثر ترمذی، شاد بخاری، حیا رام پوری، بشیر احمد بشر، شکیب جلالی ، باقر بخاری، جیسے شعراء کا طوطی بولتا تھا۔ ان بڑے شعراء کے ہم نوالہ و ہم پیالا ایک اور بڑا ادبی آفتاب بھی بھکر کے لکھنئو میں پوری آب و تاب کے ساتھ دمک چمک رہا تھا۔ ادبی اُفک پر ابھرنے والے اس آفتاب کو محترم خلش صہبائی کے نام سے جانا جاتاتھا۔70ء کی دہائی میں خلش صہبائی مرحوم شعر و ادب کی دنیا میں اپنا آپ منواچکے تھے۔۱۹۸۲ء میں خلش صہبائی دار فانی سے کوچ کرگئے مگر جاتے جاتے انور اقبال انور اور نیئر اقبال کے روپ سروپ میں اپنا اثاثہ چھوڑ گئے۔ انور اقبال انور معروف ماہر تعلیم، ادیب اور شاعر ہیں ، انور اقبال انور کے فرزند نیئر اقبال بھی بھکر کے مشہور مزاحیہ شاعر ہیں۔ یوں مرحوم خلش صہبائی کی ’’ پیڑھی ‘‘ کا یہ ادبی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

شعری مجموعہ گنجینہ ئِ زر کا عکس

ایک زمانہ تھا جب بھکرکی فضائوں میں لکھنئو کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اُن دنوںتھل کے ریگزاروں میں اثر ترمذی، شاد بخاری، حیا رام پوری، بشیر احمد بشر، شکیب جلالی ، باقر بخاری، جیسے شعراء کا طوطی بولتا تھا۔ ان بڑے شعراء کے ہم نوالہ و ہم پیالا ایک اور بڑا ادبی آفتاب بھی بھکر کے لکھنئو میں پوری آب و تاب کے ساتھ دمک چمک رہا تھا۔ ادبی اُفک پر ابھرنے والے اس آفتاب کو محترم خلش صہبائی کے نام سے جانا جاتاتھا۔70ء کی دہائی میں خلش صہبائی مرحوم شعر و ادب کی دنیا میں اپنا آپ منواچکے تھے۔۱۹۸۲ء میں خلش صہبائی دار فانی سے کوچ کرگئے مگر جاتے جاتے انور اقبال انور اور نیئر اقبال کے روپ سروپ میں اپنا اثاثہ چھوڑ گئے۔ انور اقبال انور معروف ماہر تعلیم، ادیب اور شاعر ہیں ، انور اقبال انور کے فرزند نیئر اقبال بھی بھکر کے مشہور مزاحیہ شاعر ہیں۔ یوں مرحوم خلش صہبائی کی ’’ پیڑھی ‘‘ کا یہ ادبی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
شیش ناگوں کا شب و روز کڑا پہرا ہے
رُخِ زیبا تیرا گنجینہء زَر ہو جیسے

بذریعہ نیئر اقبال نیئر، محترم خلش صہبائی مرحوم کے شعری مجموعہ ’’ گنجینہ زر‘‘ کے اوراق سے موتی پرونے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ شعری مجموعہ جناب انور اقبال انور کی کاوشوں سے مرحوم خلش صہبائی کی وفات کے ۱۵ سال بعد شائع ہوا۔ اس شعری مجموعہ کی ابتداء خدوند وند بزرگ و برتر کی حمد سے کی گئی ہے اور آقا دو جہاں ﷺ پر دورو سلام پیش کرتے ہوئے خلش صاحب دھیمے دھیمے سے آگے بڑھتے ہوئے شہید کربلا حضرت امام حسین ؑکے حضور سلام عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔اس خوبصورت شعری مجموعہ میں غزلیں، قطعات، اور سحر انگیز نظمیں شامل ہیں۔

شاعر کی اپنی دُنیا ہوتی ہے اور وہ اپنا دربار سجا کر خود سے ہی ہم کلام رہتا ہے۔کبھی خود کو منصب صدرات پر بٹھا کر باتیں کرتا ہے تو کبھی خود کو مظلوم بنا کر زمانے کی ستم و ظریفی کی باتیں کر تا ہے۔کبھی خود سے شکوے و شکایات تو کبھی خالق سے اپنے من کی باتیں کرتا ہے اور زمانے کی ناانصافیوں کے بارے اپنے پیدا کرنے والے سے شکایات کے طورپر کہہ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔تو کبھی محبوب کی محبوبیت اور حسن و شادابی کی شالیں گلے میں ڈالے یوں اظہار کرتے دکھائی دیے۔
ہم اُن دنوں سے اُس کے پرستار ہیں خلش
وہ اپنے حُسن سے ابھی واقف ہوا نہ تھا

خلش صہبائی ایک سادہ دل انسان ہونے کے ساتھ ساتھ سادگی کا پرچار بھی کرتے رہے۔ ادب اور شاعری میں دیوانگی کی حد تک جہد مسلسل کرتے رہے۔
دیوانوں کی بھی کاش کوئی انجمن بنے
بیٹھیں خلش کبھی کبھی مل کر بَہم کہیں

اپنے خالق سے دوستانہ انداز میں محو گفتگو ہیں اور شکوے شکایات کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی زمانے کی ستم ظریفیاں عیاں کرتے ہیں اور دل کی دنیا کے پردے چاک کرتے ہیں۔خلش صاحب کہیں مدعی بن کر اپنا مدعا بیان کرتے ہیں تو کہیں مدعا علیہ کا روپ دھار لیتے ہیں۔
تخلیق کائنات کا خود مدعا ہوں میں
قبلہ اگر نہیں بھی تو قبلہ نُما ہوں میں

خلش صہبائی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ اپنے دل کا حال لفظوں کی صورت بیان کرتے تھے۔کبھی دل کی بات کو دل ہی میں ’’ خلش ‘‘ بنالیتے تھے۔
تِشنہ ہمیشہ اُن سے مُلاقات رہ گئی
یہ بات رہ گئی کبھی وہ بات رہ گئی
پی کر اگر نہ بہکا تو کچھ بات رہ گئی
توقیرِ، ظرفِ رند خرابات رہ گئی
یزداں حدود، مسجد و منبر میں گھِر گیا
اور بندگی اسیرِ مقامات رہ گئی

کہیں تو خلش صاحب دنیا ما فیھا کے معاملات سے بالکل بے خبر ہوجاتے ہیں۔
دنیا سے رابطہ ہے نہ اپنی خبر مجھے
بے خود بنا گئی ہے فقط اِک نظر مجھے
مرحوم خلش صہبائی کا یہ شعر دیکھیے کہ
بغیر منزلِ مقصُود چل پڑا ہوں خلشؔ
فضائے دشت میں بھٹکی ہوئی صَدا کی طرح

حالات کی سنگینیوں اور وقت کی سختیوں کا مردوانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جب کوئی اپنا دل کی کیفیات سمجھ نہیں سکا تو ایسے میں خلش صہبائی کا قلم اٹھ گیا۔
گھٹا ہے تُو ہے اور لبریز بادہ جام ہے ساقی
تیری چشمِ کرم ہے آج اِذنِ عام ہے ساقی
نہیں منصُور و مُوسی رازِ اُلفت کو کریں رُسوا
تیرے رِند اور بہکیں یہ غلط الزام ہے ساقی
بقولِ حضرتِ واعظ مئے کوثر ہے جنت میں
تو پھر اس خشک مُلا کا وہاں کیا کام ہے ساقی
خلش اُٹھا تو اُٹھ جائے گی دُنیا سے وضعداری
ہمارے بعد محفل میں خدا کا نام ہے ساقی

خلش صہبائی کی شاعری عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف لے جاتی ہے۔آپ اپنی شاعری میں زمانے کے دردوغم بیان کرتے رہے۔ گنجینہ زر کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ آپ کی شاعری بامقصد اور معیاری ہے۔ خلش صہبائی نے دیگر شعراء حضرات کی طرح جدائی،ہجر ووصال،محبوب کے ستم،محبوب کے نخروں کی باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے اپنی شاعری کو حقیقت کا روپ دیا۔آپ زمانے کی بے انصافیوں کو شاعری میں خوبصورتی سے بیان کرتے رہے۔گنجینہ زر کا مطالعہ کریں تو آپ کو اس بات اندازہ بھی ہوگا کہ خلش صاحب نے ہر صاحب دل اور صاحب ادب کے دل پر چوٹ بھی خوب لگائی اور محسوس بھی نہیں ہونے دیا ۔آپ بھی اس کتاب کا مطالعہ کریں یقینا سرورق سے لے کر کلام اور الفاظ کے چنائو میں آپ کو ایک اچھوتا پن نظر آئے گا۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو ، پاکستان زندہ باد۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 43202 views »
i like those who love humanity.. View More
05 Sep, 2018 Views: 1090

Comments

آپ کی رائے