چیچہ وطنی کا بیٹا رانا وقاص خاں

(Babar Alyas, Chichawatni)
ماں کی آغوش کا تارہ, باپ کی عظمت کا نشان, بہن کے سر کی چادر, بھائی کا بازو, چیچہ وطنی شہر کی رانا برادری کے سر کا تاج, اہل گاؤں کے لیے بہادری کا علم, دوستوں کا بھروسہ, ایم ایس ایف صدر رانا وقاص خاں اس بیمار معاشرے کی نفرت ؤ منافقت کا شکار ھو گیا! نہ جانے کتنی ماؤں کے لال, کتنے والدین کے بڑھاپے کا سہارا بننے والے بچوں کو یہ کالج کی تنظیمں اپنی بھوک کا نوالہ بنا گیں... اس ملک کے کمزود سسٹم اور جنگل کے قانون کی نظر ھو گئ... اللہ کے لیے اس وطن کی ماؤں پر رحم کرو اور کالج میں نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرو انکے ہاتھوں سے نفرت, منافقت, بدمعاشی کے علم چھین لو..... اور ہر قسم کی سیاسی ؤ غیر سیاسی وابستگی والی تنظیم پر فوری پابندی لگا دو... اللہ کے لیے اہل وطن کے حکمرانون توجہ کرو....

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‎
اللّہ پاک وقاص بھائی کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے ...آمین ... یا رب العامین
2 ستمبر کی شام چیچہ وطنی گل چوک میں دو گروپ میں فائرنگ ایم ایس ایف صدر رانا وقاص خاں جاں بحق.....دوسرے گروپ سے بھی ایک جاں بحق ھوا... مگر یہ واقعہ بہت سارے سوال شہر کے اہل علم سے کر گیا!
ڈهونڈوگے اگر ملکوں میں نہیں ملینگے نایاب ہیں هم..
جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم ...

لالہ وقاص خان,رانا وقاص ,کسی کا بھائی ,کسی کا لالہ ,کسی کا چوہدری, کسی کا ویر ,کسی کا جینے کا مقصد اور پورے شہر کے بچوں نوجوانوں اور بزرگوں کے لیے محبتوں کا سفیر لقب پانے والا شہر کے تمام گلی کوچوں کو ویران کر گیا...
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ
خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ
بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ
شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ
مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستم گروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ
وہ مے کدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ
وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
صدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ
وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

ہاں بالکل یہ وہی شخص ہے جس نے چیچہ وطنی شہر کے نوجوانوں میں یوم آزادی کے دن کو منانے کا احساس دلوایا جبکہ یوم دفاع پر اپنے ملک کے لیے تمام سٹوڈنٹس کو لے کر پاکستان کے لیے ریلیاں بھی نکالی اور یہی وہ شخص تھا جو دو حریفوں میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے انکی آپس میں صلح کروا دیتا تھا اسی بات کی وجہ سے یہ شخص نہ صرف اپنے شہر چیچہ وطنی میں مقبول ہوا بلکہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی اس شخص نے لوگوں کے دلوں میں اپنی الفت پیدا کی یہی وجہ تھی کہ درندوں کو اس کی یہ مقبولیت ایک آنکھ نہ بائی اور ان بھیڑیوں نے یکجا ہو کر منافقوں کی طرح اتحاد کر کے ہمارے بھائی کو ہم سے چھین لیا آج میں یوم دفاع کی مناسبت سے اہل چیچہ وطنی نے اپنے بھائی کو ,بیٹے کوتمام شہروں کے طلبا کی طرف سے شہید کا لقب دیا اور تمام دوستوں سے گزارش کی کہ ہمارے بھائی کے اچھے کاموں کو یاد رکھتے ہوئے اس کے لیے مغفرت کی دعا کی اپیل بھی کی....

اہل چیچہ وطنی چیف جسٹس پاکستان اور وزیراعلی پنجاب سے گزارش کرتے ہیں کہ چیچہ وطنی شہر میں جو درد ناک سانحہ پیش آیا جس میں دو نوجوان اپنی جان سے ایک کے جسم پر 38 گولیاں مار کے اسکو قتل کیا گیا ....اس سانحہ کے ملزموں کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے.... ہماری طلبا تنظمیں ملک سروں پر موت کے کفن باندھ کر گھروں سے جو نکلی ھوئی ہیں انکو کنڑول کرنا ھو گا تاریک سفر سے روشن منزل کی طرف لانا ھو گا.اللہ پاک درجات بلند فرمائیں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے .

چیچہ وطنی کا بیٹا رانا وقاص احمد خاں سابق صدر ایم ایس ایف کی نماز جنازہ 3ستمبر کی صبع ان کے آبائی گائوں 110بارہ یل کے مرکزی جناز گاہ میں ادا کی گئی اور اسی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا
نمازہ جنازہ میں چیچہ وطنی سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، سیاستدان، تاجر ، صحافی ، سٹوڈنٹس تنظیموں کے ممبران ، اہل دیہ سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی.

کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود تھی ۔

مقتول رانا وقاص احمد خاں کو سینکڑوں سوگواروں کی موجود گی میں سپرد خاک کردیا۔
وہ محبت کو میری روح سے نچوڑ کر لے گیا __ !!
چهوڑ گیا مجهے عشق کی گلیوں میں دیوانہ کر کے __!!

دنیا میں انسانوں سے غلطی یا گناہ سرزد ہوجانا ایک فطری عمل ہے۔ اکثروبیشتر ہم میں سے ہر شخص سے دانستہ یا نادانستہ طور پر بھول چوک اور غلطی ہو ہی جاتی ہے ہمارے بھائی نے دنیا میں اگر کسی کی دل آزاری کی ہو تو میں اپنے بھائی کیطرف سے معافی کا طلبگار ہوں اللہ کی رضا کے لیے ہمارے بھائی کو معاف کر دینا اللہ پاک آپکو اس کا اجر ضرور دے گا دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے بھائی کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90786 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
08 Sep, 2018 Views: 632

Comments

آپ کی رائے