حضرت فاروق اعظم ؓ کی سیرت کردار اور خلافت

(Faisal Tufail, Jahanian)

 اگر دریائے فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی بھوکا مر گیا تو اس کا بھی قیامت کے دن مجھ سے مواخذہ ہو گا یہ الفاظ بائیس لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والے اس خلیفتہ المسلمین کے تھے جس کے متعلق
نبی آخر الزماںﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ یقینا عمر ؓ ہوتا ۔مراد رسولؐ حضرت عمر فاروق ؓ کی پیدائش آخری فجار عظیم سے چار سال پہلے ہوئی تھی آپ ؓ کا نام عمر بن الخطاب ؓ ہے آپ ؓ کی
کنیت ابوحفص اور آپ ؓ کا لقب فاروق ہے آپ ؓ کی صفت و ہیئت کے متعلق حضرت عبید بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ طویل و جسیم تھے سر کے بال کم تھے رنگ زیادہ سفید تھا آنکھیں بہت زیادہ سرخ تھیں
داڑھی خفیف تھی بالوں کے کنارے سرخ تھے آپ ؓ کم ہنسا کرتے تھے کسی سے مزاح نہ کرتے آپ ؓ شان سے چلا کرتے تھے آپ ؓ بائیں ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی استعمال کرتے تھے ۔

حضرت عمر فاروق ؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلا م مزید مضبوط ہوگیا حضرت عمر ؓ کے حلقہ حق میں آنے کے لیے حضور ؐ نے دعا کی تھی کہ اے اﷲ عمر بن خطاب ؓ یا ابوجہل بن ہشام میں سے جو تجھے پسند ہے اس کو میرا ساتھی بنا دے تیرے دین میں جان پڑ جائے گی چنانچہ اﷲ تعالیٰ کو حضرت عمر ؓ پسند تھے اس لیے آپؓ کو اسلام کی دولت سے سرفراز کیا ۔حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ مشرف بہ اسلام ہوئے تو آسمانوں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں چھبیس سال کی عمر میں ذی الحج کے مہینے نبوت کے چھٹے سال دولت ِ اسلام سے سرفراز ہوا آپؓ کے اسلام لانے سے پہلے مسلمان چھپ چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے لیکن آپ ؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے اعلانیہ عبادت شروع کر دی ۔حضرت ابن عباس ؓفرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے اسلام لاتے ہی فرمایا کہ
یا رسول اﷲ ؐ کیا ہم حق پر نہیں ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں یقینا ہم ہی حق پر ہیں تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا تو ہم پھر یہ چھپ چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آپ ؓ نے اعلانیہ عبادت کرنے کا اعلان کیا۔
حضرت عمر کی فضیلت۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ آپ ؐ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا عمر ؓ کوسلام کہہ دیں اور ان کو یہ بھی بتا دیں کہ ان کی رضا عزت اور ان کا
غضب حکم ہے ۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ عمر ؓ کے غصے سے بچو اگر عمر ؓ ناراض ہو جائے تو اﷲ تعالیٰ بھی ناراض ہو جاتے ہیں ۔حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ حضور ؐ نے حضرت جبرائیل ؑ سے پوچھا کہ آسمان والوں کے ہاں عمرؓ کا مقام کیا ہے ذرا بیان کیجیے تو حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا یا رسول اﷲ ﷺ اگر میں آپ ؐ کے ساتھ حضرت نوح ؑکی عمر ساڑھے نو سوسال کی مقدار میں بیٹھ کر حضرت عمر ؓ کی فضیلت سنانے لگوں تو ان کی ایک فضیلت بھی پوری نہ ہوگی۔

حضرت علی ؓ سے ہی روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ ؐ کے پہلو میں بیٹھا تھا اتنے میں ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ وہاں سے گزرے تو حضورؐ نے مجھ سے فرمایا کہ قریب ہو جاؤ میں آپ ؐ کے قریب ہوگیا پھر آپ ؐ نے فرمایا کہ تم ان دونوں کو دیکھ رہے ہو یہ دونوں اہل جنت کے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں ۔حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ؐ کو یہ فرماتے سنا کہ کوئی منافق ابوبکر اور عمر ؓ سے محبت نہیں کرے گا اور کوئی مومن ان دونوں کے ساتھ بغض نہیں رکھے گا ۔کسی نے حضرت حسن بصری ؒ سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے محبت کرنا سنت ہے آپؒ نے فرمایا نہیں بلکہ فرض ہے۔
آپ ؓ کے دورِ خلافت کے امتیازات۔(۱)اسلامی تاریخ ہجری کا اجراء کیا(۲)مقام ابراہیم کو اس کی صحیح جگہ پر رکھا(۳) قرآن کریم کو مصحف میں محفوظ کیا (۴) نمازِ تراویح کو باجماعت پڑھنے کا حکم دیا (۵)شراب نوشی پر اسی کوڑوں کی سزا مقرر کی (۶)کثیر فتوحات حاصل کیں(۷) شہر بسائے (۸) عہدتہ القضاء مقررکیا (۹) مسجد نبوی ؐ کی توسیع کی ابتدا آپ ؓ نے کی(۱۰) جزیرہ عرب سے یہودیوں کو نکال کر شام کی طرف دھکیل دیا (۱۱) فتح بیت المقدس ۔

آپؓ اپنے دورِ خلافت میں گلیوں میں گشت کرتے تھے آپ ؓ اپنی رعیت کے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے رات کو گشت کرتے وقت آپ ؓ لوگوں کی سرگرمیوں اور ان کے حالات و واقعات سے آشنا ہوجاتے۔

ایک دفعہ آپ ؓ مدینہ کی گلی میں گشت کر رہے تھے تو اس د وران آپ ؓ ایک گھر کے پاس سے گزرے تو ایک عورت اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھی کہ بیٹی دودھ میں پانی ملا دو تو اس کی بیٹی نے آگے سے جواب دیا کہ
امیرالمومنین نے حکم صادر کیا ہے کہ دودھ میں پانی نہ ملایا جائے تو اس کی ماں نے کہ امیر المومنین کو ن سا اس وقت دیکھ رہا ہے لڑکی نے کہا کہ امیر المومنین تو نہیں دیکھ رہا لیکن اس کا رب تو دیکھ رہا ہے لڑکی کی ایمانداری نے حضرت عمرؓ کو بہت متاثر کیا آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت عاصم ؒ کی شادی اس لڑکی سے کروا دی اس لڑکی کے بطن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اور اس لڑکی کے بطن سے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ پیدا ہوئے ۔

فتوحات۔ابو معشر ؒ کا قول ہے کہ آپؓ کے خلافت کی مسند پر رونق افروز ہونے کے پانچ ماہ بعد شام کا علاقہ فحل فتح ہوا رجب ۱۴ ہجری میں دمشق فتح ہوا جنگ یرموک آپ ؓ کے دور حکومت میں ہوئی جس میں
مسلمانوں نے زبر دست کامیابی حاصل کی عمواس اور جابیہ ۱۶ ہجری میں فتح ہوئے ۱۷ ہجری میں سرغ فتح ہوا ۱۹ ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی قیادت میں جلولاء اور حضرت امیر معاویہؓ کی قیادت میں
قیساریہ فتح ہوا ۲۰ ہجری میں حضرت عمرو بن العاص کی قیادت میں مصر فتح ہوا ۲۱ ہجری میں نہاوند حضرت نعمان بن مقرن اعزنی کے زیرِ کمان فتح ہوا ۲۲ہجری میں آذر بائیجان حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے
ہاتھوں اسلامی سلطنت میں شامل ہوا ۲۳ ہجری میں اصطخر اسلامی امارات کا حصہ بن گیا آپؓ کے دور میں سب سے بڑی فتح بیت المقدس تھی جو کسی خون خرابے کے بغیر حاصل ہوئی۔

شہادت۔ نماز کی امامت کو دوران آپ ؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا آپؓ زخمی ہوئے اور بعد ازاں ۲۴ ہجری یکم محرم کو جام شہادت نوش فرمایا ۔اپنی شہادت سے پہلے آپ ؓ نے پوچھا کس نے مجھے مارا ہے تو حضرت
ابن عباس ؓ نے بتایا کہ آپؓ پر مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولولوء نے حملہ کیا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ شکر ہے کہ اﷲ نے مجھے کسی کلمہ گو کے ہاتھوں شہید نہیں کروایا ۔شہادت کے وقت آپ ؓ کی عمرتریسٹھ برس تھی اور آپ ؓ کی مدت خلافت دس سال چھ مہینے اور چار دن تھی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Tufail

Read More Articles by Faisal Tufail: 17 Articles with 11670 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2018 Views: 371

Comments

آپ کی رائے