مکاتیب ِ اقبال بنام خواتین

(Dr Khalid Nadeem, )

اقبال کے ایک ہزار پانچ سو چوبیس مکاتیب میں سے چوہتر خطوط پندرہ خواتین کے نام ہیں، جن میں سے سترہ ایما ویگے ناسٹ کے نام، گیارہ عطیہ فیضی، دس مس فارقوہرس، آٹھ بیگم گرامی، چار صغرا ہمایوں مرزا، تین لیڈی مسعود، دو دو نینسی آرنلڈ اور بی بی آمنہ اور ایک ایک مسز سٹرے ٹن، کریم بی بی،انوری بیگم، لیڈی آرنلڈ، سردار بیگم، لیڈی امام اور ڈاکٹر حبیب النسا کے نام لکھے گئے۔ ان خطوں میں سے اڑتالیس انگریزی زبان میں، سترہ جرمن زبان میں اور انیس مکتوبات اردو زبان میں ہیں۔ ان خطوط کا دَورانیہ اگست ۱۹۰۲ء سے ۲۸؍اکتوبر ۱۹۳۷ء تک، یعنی پینتیس برس پر محیط ہے۔ پہلا خط ۱۸۹۹ء سے پنجاب یونی یورسٹی کے رجسٹرار اور اورینٹل کالج کے پرنسپل الفریڈ ولیم سٹرے ٹن کی وفات (۱۹۰۲ء)پر ان کی اہلیہ کے نام لکھا گیا اور آخری یکم جولائی ۱۹۳۷ء میں ڈاکٹرحبیب النسا کے نام۔
(۱)
اقبال کے سب سے زیادہ خطوط ایما ویگے ناسٹ(۲۶؍اگست ۱۸۷۹ء۱۶-؍اکتوبر ۱۹۶۴ء) کے نام ہیں، جن سے اقبال نے ہائیڈل برگ میں ۲۰؍جولائی سے اوائل اکتوبر ۱۹۰۷ء تک جرمن زبان کا درس لیا۔ غالباً اقبال نے کیمبرج میں رہائش اختیار کرنے کے فوراً بعد میونخ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹریشن کرا دی، تاہم یونی ورسٹی کے اربابِ اختیار نے انھیں یونی ورسٹی میں قیام سے مستثنیٰ قرار دے دیا اور ساتھ ہی تحقیقی مقالہ جرمن کے بجاے انگریزی زبان میں لکھنے کی اجازت دے دی، البتہ زبانی امتحان کے لیے جرمن زبان کی شرط برقرار رکھی؛ چنانچہ اقبال لندن سے بی اے اور کیمبرج سے بار ایٹ لا کے بعد جرمن چلے آئے، جہاں جرمن زبان سیکھنے کے لیے وہ ہائیڈل برگ میں قیام پذیر ہوئے۔
ایما ویگے ناسٹ گہری نیلی آنکھیں، سیاہ بال، پانچ فٹ سات انچ قد اور غیر معمولی ذہانت کی حامل نہایت خوب صورت اور سلیقہ مند خاتون تھیں اور اقبال سے ملاقات کے وقت ان کی عمر اٹھائیس برس کے قریب تھی، جب کہ اقبال اُس وقت تیس سال کے تھے۔ اقبال کی ازدواجی زندگی ناہموار اور تلخ ہوتی جا رہی تھی، ایسے میں عطیہ فیضی کا التفات انھیں اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کافی تھا (اس پر تفصیلی گفتگو آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائیے)، لیکن اقبال عورت میں جس مشرقیت کے متمنی تھے، وہ انھیں عطیہ کے بجاے ایما میں دِکھائی دی، چنانچہ دونوں میں فاصلے سمٹنے لگے۔ محمد امان ہربرٹ ہوبوہم (Muhammad Amman Herbert Hobohm) اقبال کو ایما کا گرویدہ تو قرار دیتے ہیں، لیکن اس کا سبب وہ محض یہ خیال کرتے ہیں کہ اقبال کی نظروں میں مس ویگے ناسٹ اُن تمام اشیا کی نمائندگی کرتی تھیں، جن کو وہ جرمنی میں محبوب اور قابلِ تعظیم سمجھتے تھے اور جو انھیں جرمنی کے تمدن، اس کے فکر، اس کے ادب اور شاید اس کے تمام طرزِ معاشرت میں اس قدر پُرکشش معلوم ہوتی تھیں، البتہ خرم علی شفیق کے نزدیک، بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقبال اور ایما شادی کرنا چاہتے تھے، مگر ایما نے آخری فیصلہ گھر والوں کی مرضی پر چھوڑا، جن سے وہ بہت جلد بات کرنا چاہتی تھیں۔ ڈاکٹر ڈاکٹر سعید اختر درّانی کو ایما ویگے ناسٹ کے چچازاد کی بیٹی پروفیسر کرش ہوف نے ۲۹؍ستمبر ۱۹۸۴ء کو بتایا کہ ان کے خاندان میں اس بات کا کچھ تذکرہ تھا کہ ایک زمانے میں (شاید ۱۹۰۸ء کے لگ بھگ) ایما ہندوستان جانا چاہتی تھیں، لیکن ان کے بڑے بھائی اور خاندان کے سربراہ مسٹر کارل نے ان کو اس دُور دراز ملک میں تن تنہا جانے سے منع کر دیا تھا۔
اور پھر جب اقبال پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان کے لیے میونخ چلے گئے تو ایک ماہ کے اندر اقبال نے انھیں تین خط لکھے۔ ایما ویگے ناسٹ کے نام اقبال کے خطوط کا دَورانیہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۷ء سے ۲۱؍جنوری ۱۹۳۳ء تک، تقریباً چھبیس برسوں پر محیط ہے۔ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، یعنی ابتدا سے۷؍جون ۱۹۱۴ء تک(۱۹ خطوط)، ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۹ء (۱ خط) اور ۱۵؍اکتوبر ۱۹۳۱ء سے ۲۱؍جنوری ۱۹۳۳ء تک (۷ خطوط)۔ایما کے نام اقبال کے خط خالص دلی جذبات کے عکاس ہیں۔ ان میں نہ علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو ہے، نہ یہ معاشرتی و تہذیبی اور نہ ہی سیاسی و عالمی صورتِ حال سے متعلق، بلکہ صرف اور صرف دو افراد کے مابین بات چیت ہے۔
ایما کے نام خطوط میں اقبال نے بار بار جرمن زبان میں اپنی ناپختگی کا اظہار کیا ہے۔ میونخ سے اپنے پہلے خط مرقومہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۷ء میں لکھتے ہیں:
[ترجمہ] افسوس ہے کہ جرمن زبان سے میری محدود واقفیت ہمارے درمیان ایک دیوار کی طرح حائل ہے۔ اگر میرے خط مختصر ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں، بلکہ یہ کہ میرا ذریعہ اظہار ناقص ہے۔ مَیں یہ بھی نہیں چاہتا کہ اپنی ٹوٹی پھوٹی جرمن سے آپ کی تکلیف پہنچاؤں، لیکن یہ رکاوٹ آپ کے لیے نہیں، چنانچہ مجھے آپ سے مکمل اظہار کی امید ہے۔
اسی خیال کا اظہار بعد ازاں تواتر سے ہوا؛ چنانچہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء، ۲؍دسمبر ۱۹۰۷ء، ۲۱؍جنوری ۱۹۰۸ء، ۲۵؍جنوری ۱۹۰۸ء، ۲۶؍فروری ۱۹۰۸ء، ۳؍ستمبر ۱۹۰۸ء ۱ور ۱۱؍مئی ۱۹۱۱ء کو بھی جرمن زبان بھول جانے کا اور اپنی بات نہ کر سکنے کا ذکر کرتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ ۳۰؍جولائی ۱۹۱۳ء سے اقبال، ایما کو جرمن کے بجاے انگریزی زبان میں خط لکھنے لگے۔ ۷؍جون ۱۹۱۴ء کو انگریزی زبان کے جواز میں لکھتے ہیں، یہ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ مَیں آپ کو آپ کی خوب صورت جرمن زبان میں خط نہیں لکھ سکتا۔ افسوس کہ مَیں اسے بالکل بھول چکا ہوں؛اسی طرح ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۹ء کو لکھتے ہیں کہ مَیں یہ خط انگریزی میں لکھنے پر بڑا معذرت خواہ ہوں، لیکن مَیں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ آپ کو اس خط کا ترجمہ کروانے کی زحمت اٹھانی پڑے، بہ نسبت اس کے کہ مَیں اپنی غلط سلط اور بھونڈی جرمن سے آپ کے کان دُکھاؤں۔
ویگے ناسٹ کے نام خطوں میں اقبال کے بعض جملوں سے ان کے دلی جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ اگر میرے خط مختصر ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں اور کبھی یہ کہ مَیں اُس وقت تک آپ کو خط نہیں لکھوں گا، جب تک آپ مجھے وہ خط نہیں بھیجتیں، جو آپ نے پھاڑ ڈالا ہے۔ کبھی کہتے ہیں، میری شدید خواہش ہے کہ مَیں دوبارہ آپ سے بات کر سکوں اور آپ کو دیکھ سکوں، لیکن مَیں نہیں جانتا کہ کیا کروں اور کبھی یہ کہ آپ سے دوستی کرنے والے کے لیے ممکن نہیں کہ وہ آپ کے بغیر جی سکے ۔ ۲۱؍جنوری ۱۹۰۸ء کے خط میں اقبال نے لکھا:
کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ مَیں تغافل شعار ہوں؟ یہ بالکل ناممکن ہے۔ …… مَیں ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں اور میرا دل ہمیشہ بڑے خوب صورت خیالات سے معمور رہتا ہے۔ ایک شرارے سے شعلہ اٹھتا ہے اور ایک شعلے سے ایک بڑا الاؤ رَوشن ہو جاتا ہے، لیکن آپ سرد مہر ہیں،غفلت شعار ہیں۔ آپ، جو جی میں آئے،کیجیے؛ مَیں بالکل کچھ نہ کہوں گا اور ہمیشہ صابر و شاکر رہوں گا۔
اقبال، ایما سے مبینہ شادی تو نہ کر سکے، لیکن وہ ۱۹۰۷ء سے ۱۹۳۳ء تک ایما ویگے ناسٹ کو پلٹ پلٹ کے آواز دیتے رہے اور دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔۲۶؍فروری ۱۹۰۸ء کو ان کا خیال تھا کہ وہ لندن سے وطن واپس جاتے ہوئے چند روز کے لیے ہائیڈل برگ میں ٹھہریں گے، دوسرا امکان یہ تھا کہ ایما، اقبال سے ملنے پیرس آ جائیں۔ ۳؍جون ۱۹۰۸ء کو اقبال نے اپنی مصروفیات کے پیش نظرمحسوس کیا کہ شاید وہ جرمنی کے راستے سفر نہ کر سکیں گے، لیکن ایما کو لکھا کہ میری یہ شدید خواہش ہے کہ مَیں ہندوستان لوٹنے سے پہلے آپ سے ملوں۔ پھر ۳؍جولائی کو انگلستان سے روانہ ہوئے اور چند روز پیرس میں رُکے۔ ایما کو لکھا:
مَیں اگلے سال یورپ واپس آنے اور آپ سے ملنے کی امید رکھتا ہوں۔ مت بھولیے گا کہ اگرچہ کئی ملک اور سمندر ہمیں ایک دوسرے سے جدا کریں گے، پھر بھی ہمارے درمیان ایک غیر مرئی رشتہ قائم رہے گا۔ میرے خیالات ایک مقناطیسی قوت کے ساتھ آپ کی طرف دوڑیں گے اور اس بندھن کو مضبوط بنائیں گے۔
آنے کو تو اقبال ہندوستان آ گئے، لیکن ایما سے نہ مل سکنے کا انھیں بے حد افسوس رہا۔ ۱۱؍جنوری ۱۹۰۹ء کو اقبال نے اپنے ایک منصوبے کا اظہار کیاکہ یہ کچھ عرصے بعد، جب میرے پاس کچھ رقم جمع ہو جائے گی تو مَیں یورپ میں اپنا گھر بناؤں گا۔ یہ میرا خواب ہے اور مجھے یقین ہے کہ سب پورا ہو گا۔ ہائیڈل برگ میں اپنے قیام کو اقبال ایک خواب سمجھتے تھے اور اسے دہرانا چاہتے تھے، لیکن یہ بھی جانتے تھے …… ہماری تقدیر ہمارے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ کوئی ایسی عظیم قوت ہے، جو ہماری زندگیوں کو منظم کرتی ہے۔ پھر وہ کچھ ناامید سے ہونے لگے، چنانچہ ۱۱؍مئی ۱۹۱۱ء کو لکھا کہ میری بڑی تمنا تھی کہ آپ سے ملنے کے لیے جرمنی کا دوبارہ سفر کر سکوں، مگر معلوم نہیں کہ یہ کبھی ممکن ہو بھی سکے گا۔ ۱۹۱۴ء میں ان کے اگلے برس یورپ جانے کاامکان پیدا ہوا تو ایما کو لکھا کہ اگر مَیں واقعی یورپ آیا تو آپ سے دوبارہ ہائیڈل برگ یاہائیل برون میں ملاقات کو آؤں گا۔ اسی دَوران ۱۹۱۳ء میں ان کی دوسری اور پھر تیسری شادی ہو گئی اور پھر جب جاوید (پ: ۱۹۲۴ء) کم و بیش سات برس کے تھے تو اقبال اکتوبر ۱۹۳۱ء میں گول میز کانفرنس کے لیے لندن پہنچے۔ واپسی پر روم جاتے ہوئے وہ چند پرانے دوستوں سے ملنے کے لیے برلن میں ٹھہرنا اور وہاں سے وہ ایما سے ملاقات کے لیے ہائیڈل برگ جانا چاہتے تھے۔اقبال اُن پُرمسرت دِنوں کی یاد تازہ کرنا چاہتے تھے،جو ہمیشہ کے لیے گزر چکے تھے، لیکن پھر یوں ہوا کہ انھیں اپنے سارا پروگرام تبدیل کرنا پڑا اور وہ لندن سے براہِ راست روم پہنچے، جہاں سے انھیں ۷؍دسمبر کو منعقدہ مؤتمر عالمِ اسلامی میں شرکت کے لیے یروشلم پہنچنا تھا، تاہم انھوں نے اس امکان کا اظہار کیا کہ شاید وہ اگلے سال پھر یورپ کا سفر کر سکیں۔فلسطین میں مؤتمر عالمِ اسلامی میں شرکت کے بعد اقبال وطن پلٹ آئے تو بھی انھیں ایما کی یاد ستاتی رہی، چنانچہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۲ء کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
مجھے بے حد افسوس ہے کہ مَیں جرمنی نہ آ سکا اور اُن سہانے دِنوں کی یادیں تازہ نہ کر سکا، جو مَیں نے آپ کی اور دیگر احباب کی معیت میں ہائیڈل برگ میں بسر کیے تھے۔ یہ کہنے کی شاید ضرورت نہیں کہ اِن تمام برسوں میں مَیں نے آپ کو کبھی فراموش نہیں کیا اور میرے دل میں ہمیشہ یہ تمنا رہی کہ مَیں دوبارہ آپ سے ملوں گا، لیکن بختِ تیرہ کو جو منظور ہوا…… اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!…… خود کو اس ہندی گرد و نواح میں تنہا سا پایا ہے، اس تنہائی کا احساس بھی فزوں تر ہوا ہے، لیکن سواے تسلیم و رضا کے ہمارے لیے اَور کوئی چارۂ کار نہیں اور مَیں نے پوری تسکینِ دل سے کے ساتھ اپنی قسمت کو قبول کر لیا ہے۔
اسی سال کے آخر میں اقبال پھر لندن پہنچے اور ۱۲؍دسمبر کو ایک خط کے ذریعے ایما سے اس کی رہائش کی تصدیق کی۔ ۲۹؍دسمبر کو اسے مطلع کرتے ہیں کہ مَیں ۱۸؍جنوری کو رات دس بج کر تئیس منٹ پر ہائیڈل برگ پہنچوں گا اور اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہائیڈل برگ میں میرے قیام کا واحد مقصد آپ سے اتنے سال بعد دوبارہ ملنا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس مرتبہ بھی اقبال کو اپنا پروگرام تبدیل کرنا پڑا، چنانچہ ۲۱؍جنوری ۱۹۳۳ء کو میڈرڈ پہنچ کر ایما کو مطلع کرتے ہیں کہ افسوس، میرے لیے اس مرتبہ بھی ہائیڈل برگ آنا ناممکن ہو گا…… کیونکہ میرے لیے ضروری ہے کہ مَیں وینس سے ۱۰؍فروری کو روانہ ہونے والے جہاز (کونتے وردی) میں سوار ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ شاید مَیں اپریل میں پھر انگلستان آؤں۔ لیکن پھر کوئی اپریل نہیں آیا کہ اقبال یورپ جاتے یا ایما سے کوئی نیا وعدہ کرتے۔
ٍ ایما کے نام اقبال کے ان تمام خطوں کا اقبال کی دِلی جذبات اور ایما سے ملنے کی شدید خواہش کے اظہار کے علاوہ دیگر موضوعات سے کوئی تعلق نہیں۔ گویا ایما کے نام اقبال کے خطوط ابلاغ کے مسائل، ہائیڈل برگ میں گزارنے ہوئے دِنوں کے خوش گوار تذکرے اور دوبارہ ملاقات کے وعدوں پر محیط ہیں۔
(۲)
عطیہ فیضی سے اقبال کی خط کتاب کا آغاز مارچ ۱۹۰۷ء میں ہوتا ہے، جب انھوں نے کیمبرج سے انھیں لکھا کہ ’مَیں لندن آرہا ہوں اور آپ سے ملنے کا مشتاق ہوں‘، جب کہ آخری دست یاب خط ۲۹؍مئی ۱۹۳۳ء کا تحریر کردہ ہے۔ اس دَوران ۱۴؍دسمبر ۱۹۱۱ء سے آخری خط تک ایک طویل، یعنی بائیس برس کا وقفہ بھی ہے۔ ویگے ناسٹ کی نسبت عطیہ کے نام اقبال کے خطوط بالعموم طویل اور مفصل ہیں۔ ویگے ناسٹ سے اقبال کا تعلق جذ باتی اور قلبی رہا، جس میں دیگر امور کو دخل نہ تھا۔ ان خطوں میں زیادہ سے زیادہ جرمن زبان اور اس کے توسط سے گوئٹے کی فاؤسٹ کا تذکرہ ملتا ہے، لیکن عطیہ بذاتِ خود ایک سماجی، تہذیبی اور کسی حد تک علمی شخصیت تھیں، اس لیے ان سے بات کرتے ہوئے سماجی، سیاسی، تہذیبی، علمی و ادبی موضوعات کا در آنا ناگزیر تھا۔
اقبال انھیں اپنی نظمیں بھیجتے ہیں اور ان پر تنقیدی راے طلب کرتے ہیں۔کبھی انھیں علم الاقتصاد پیش کرنا چاہتے ہیں، کبھی فلسفہ عجم پیش کرنے کے آرزومند ہوتے ہیں اور کبھی غزلوں کا ایک موعودہ مجموعہ ایک ’ہندوستانی خاتون‘ کے نام انتساب کرنے کی اطلاع دیتے ہیں۔ اقبال عوامی اجتماعات اور انجمن حمایتِ اسلام میں دیے گئے لیکچروں سے عطیہ کو آگاہ کرتے ہیں اور اخبارات و رسائل میں اشاعت کی صورت میں انھیں بھیجے کا بھی وعدہ کرتے ہیں۔
عطیہ فیضی وہ واحد مکتوب الیہا ہیں، جن کو اقبال نے اپنی ازدواجی زندگی کے بعض نازُک معاملات سے مطلع کیا۔ ۹؍اپریل ۱۹۰۹ء کے ایک خط میں لکھتے ہیں:
[ترجمہ] وہ مجھ پر میری بیوی مسلط کر رہے ہیں۔ مَیں نے اپنے والد صاحب کو لکھ دیا ہے کہ انھیں میری شادی ٹھہرانے کا کوئی حق نہ تھا، بالخصوص جب کہ مَیں نے ایسے کسی حبالۂ عقد میں داخل ہونے سے دوٹوک انکار کر دیا تھا۔ مَیں اُس کا نان نفقہ برداشت کرنے کو تو ضرور آمادہ ہوں، لیکن اسے اپنے ساتھ رکھ کر اپنی زندگی کو اجیرن بنانے کے لیے قطعی تیار نہیں ہوں۔ ایک انسان ہونے کے ناتے میرا بھی خوشی پر حق ہے۔ اگر سوسائٹی یا نیچر مجھے اس سے محروم کرتی ہیں تو مَیں دونوں کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کرتا ہوں۔ اس مصیبت کا واحد علاج یہی ہے کہ مَیں اس بدنصیب ملک کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ جاؤں یا پھر شراب نوشی کی لت ڈالوں کہ خودکشی کا مرحلہ آسان ہو جائے۔
اقبال کتابوں کے اوراق کی بوسیدگی، رسم و رواج کو جلا دینے اور سپیرا بن کر گلیوں میں گھومنے پھرنے اور یزداں کی نسبت قادرِ مطلق اہرمن پر ایمان لانے کا بھی ذکر کرتے ہیں اورتیرہ بختی سے لذت کشید کرنے لگتے ہیں۔
اقبال اپنے خطوط میں نجی باتوں کو صیغہ راز میں رکھنے اور کسی سے ذکر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور دوسری جانب عطیہ کو یقین دِلاتے ہیں کہ آپ کے خطوط کو مَیں ہمیشہ ایک محفوظ صندوق میں رکھتا ہوں، انھیں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اقبال اپنی ساری ہستی عطیہ سے کھول کر بیان کرنا چاہتے ہیں، حتیٰ کہ ان سے کوئی بات چھپانا گناہ سمجھتے ہیں تو عطیہ بھی ان سے بہت سے سوالات کرنا چاہتی ہے۔
عطیہ کے والد نواب حسن علی فیضی اور ان کی بیگم اقبال کو جنجیرہ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اقبال اس دعوت کو اپنے لیے مسرت و منفعت کی سرمایہ دار قرار دیتے ہیں، لیکن جا نہیں پاتے اور آئندہ آنے کا وعدہ کیے جاتے ہیں۔اقبال عطیہ کو اپنے ناموافق حالات سے آگاہ کرتے رہے، لیکن عطیہ کو ان کی باتوں پر یقین نہ آیا، جس پر اقبال افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ بالآخر وہ شدید ناراضی کی حالت میں کوئی قطعی فیصلہ کر لیتی ہیں۔ انھیں شکایت ہے کہ اقبال اس کی خواہشات کا احترام نہیں کرتے، یہاں تک کہ وہ اقبال پر بھلا دینے اور ریاکاری کا الزام دھرتی ہیں۔ پھر تو ’ملامت نامے‘ آنا شروع ہوئے، جس پر اقبال کو ’وضاحت ناموں‘ کی ضرورت پیش آئی۔ اقبال کی بے دلی اس حد تک پہنچ گئی کہ انھوں لکھنا پڑا:
[ترجمہ] ہمارے درمیان جو غلط فہمی ہوئی ہے، اس کے متعدد اسباب ہیں اور یہی اسباب غیر شعوری طور پر آپ کے دل و دماغ پر مسلط ہیں۔ ان سب اسباب نے میری شومیِ قسمت سے آپ کو مجھ سے اس حد تک بدظن کر دیا ہے کہ اب آپ مجھ پر دروغ بافی کی تہمت طرازی تک اُتر آئی ہیں اور میرے تعلقات کو خلوص و صداقت سے معرا سمجھتی ہیں۔
[ترجمہ] مائی ڈیر عطیہ! میرے متعلق کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجیے اور نہ ہی مجھ پر ایسا عتاب فرمائیے، جو آپ کے( آخری) خط سے ٹپک رہا ہے۔ آپ نے تمام حقیقت تو سنی نہیں۔ آپ کو میری ان مشکلات کا، جو میری روِش کا باعث ہوئی ہیں، کچھ اندازہ ہی نہیں۔ میرے رویے کی مفصل تشریح ایک طویل خط کی طالب ہے، جس کی طوالت ناگواری کی حد تک پہنچ جائے گی اور شاید یہ داستانِ طویل متعدد خطوط کی طالب ہو اور ایک نیاز نامہ اس کا متحمل نہ ہو سکے۔
۱۷؍اپریل ۱۹۰۹ء سے اقبال کی وضاحتوں کا سلسلہ ۷؍اپریل ۱۹۱۰ء تک رہا۔ اس کے بعد یا عطیہ نے خط کتابت ترک کر دی یا اقبال نے جواب دینا۔ بہرحال سوا سال کے وقفے کے بعد ۷؍جولائی ۱۹۱۱ء اور ۱۴؍دسمبر ۱۹۱۱ء کے دو خطوں کے بعد ۲۹؍مئی ۱۹۳۳ء کو لکھا گیا خط ملتا ہے۔ ان میں اندازِ تخاطب میں تو تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن باہمی گفتگو کے موضوعات رسمی رہ گئے۔
عطیہ کے نام اقبال نے ان خطوں میں دو ایک مقامات پر اپنے مقام و مرتبے کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا ہے، مثلاً:
[ترجمہ] وہ خیالات، جو میری رُوح کی گہرائیوں میں ایک طوفان بپا کیے ہوئے ہیں، عوام پر ظاہر ہوں تو پھر مجھے یقینِ واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہو گی، دنیا میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوؤں کا خراج پیش کرے گی۔
[ترجمہ] ہسپانیہ میں میری پرائیویٹ سیکرٹری نے، جو ایک برطانوی لڑکی تھی، میرے متعلق اپنے رویے میں دفعتہ ایک تبدیلی پیدا کر لی اور میری خدمت ایک پرائیویٹ سیکرٹری کے بجاے ایک مرید کی طرح انجام دینے لگی۔ مَیں نے اُس سے اپنی روِش میں اس نہایت واضح تبدیلی کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا کہ اُس نے مجھے ایک فرشتہ پایا ہے اور اقرار کیا کہ وہ مثبت طور پر تو اپنے محسوسات کی وضاحت نہیں کر سکتی؛ البتہ منفی طور پر یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ کوئی بے وقوف نہیں ہے۔
عطیہ فیضی کے نام اقبال کے ان خطوں میں علمی و ادبی اور سیاسی و ثقافتی بحثوں کے علاوہ، جنجیرہ نہ آنے پر عطیہ کی شکایات، بلکہ بعض مقامات پر طعن و تشنیع اور اقبال کی وضاحتیں شامل ہیں۔
(۳)
برطانوی جنگی مساعی میں مدد کے لیے ۱۹۱۴ء میں مس فارقو ہرسن نے National League of England نامی تنظیم قائم کی۔ جنگ عظیم اوّل کے خاتمے پر یہ تنظیم اشتراکیت کے خلاف جدوجہد اور عالمی جنگ کے دَوران عالمِ اسلام سے برطانوی زیادتیوں کے مداوا کے لیے کام کرنے لگی۔ اس سلسلے میں اقبال کے علاوہ برصغیر اور مشرقِ وسطی کی دیگرشخصیات سے فارقوہرسن کی خط کتابت رہی۔ دوسری گول میزکانفرنس کے دَوران ۲۴؍نومبر ۱۹۳۲ء کو اقبال کے اعزاز میں نیشنل لیگ کی طرف سے استقبالیہ دیا گیا۔ اس موقع پر فارقوہرسن نے اقبال کا تعارف کراتے ہوئے کہا:
[ترجمہ] ہم انھیں غیر معمولی صفات کا حامل پاتے ہیں۔ وہ اپنی شاعرانہ بصیرت سے مستقبل میں دُور تک دیکھ سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایک فلسفی کی دِقت نظر اور عمیق فکر سے وہ انسانی مسائل میں پنہاں اصولوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں اور پھر ان میں عملی انسان کی وہ صلاحیتیں بھی موجود ہیں، جن کے سبب وہ گول میز کانفرنس کے رکن بنائے گئے۔
اور پھر ۱۵؍دسمبر کو لیگ کے ایک اَور اجلاس سے اقبال نے خطاب کیا، جس میں برطانوی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے ارکان، غیر ملکی سفیر اور مسلم وفد کے دوسرے اراکین موجودتھے۔
فارقوہرسن کے نام اقبال کی خط کتابت کا سلسلہ ۲۲؍مئی ۱۹۳۲ء سے ۶؍ستمبر ۱۹۳۷ء تک محیط ہے، جس میں ۳؍اکتوبر ۱۹۳۴ء سے ۲۰؍جولائی ۱۹۳۷ء تک ایک طویل وقفہ بھی موجود ہے۔ ان تمام خطوں میں ہندوستان اور فلسطینی مسئلوں پر بحث ملتی ہے۔ فارقوہرسن کے خط کے جواب میں اقبال نے اپنے پہلے خط میں بمبئی فسادات کے پیشِ نظر اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں جمہوریت کا آغاز ایک خوں ریزی کی صورت اختیار کر لے گا۔ اقبال نے برطانوی عہدے داروں کو متلاشیانِ روزگار اور بصیرت سے محروم قرار دیا ہے۔ اقبال کے خیال میں، گاندھی بین الاقوامی یہودی سرمایہ داروں کی سازش میں شامل اور ان کا ایجنٹ ہے۔ اقبال نے سیاست سے گاندھی کی کنارہ کشی اور جواہر لعل نہرو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے ہندوستانی سیاست کے اشتراکیت سے مضبوط ہوتے ہوئے رشتوں کا سراغ لگایا۔ ان خطوں سے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہندستانی اور بعض اسلامی ممالک کی اہم شخصیات سے اقبال کے رابطوں کا پتا چلتا ہے۔ اقبال نے لیگ کی فلسطینی حکمت عملی کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف راے عامہ بیدار کرنے کا مشورہ دیا۔۲۸؍جولائی ۱۹۳۴ء کے خط میں اقبال نے (فلسطینی)عربوں کے لیے لیگ کی خدمات کو ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے بہ نظر ستائش دیکھنے کی بات کی، لیکن ۲۰؍جولائی ۱۹۳۷ء کو اقبال نے فلسطینیوں سے متعلق برطانیہ کی عہد شکنی اور ناانصافی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ فلسطین انگلستان کی کوئی ذاتی جائداد نہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ مسلم ایشیا، جمعیتِ اقوام کو انگریزوں اور فرانسیسیوں کا ایسا ادارہ سمجھتا ہے، جسے انھوں نے کمزور مسلم سلطنتوں کے علاقوں کی تقسیم کے لیے وضع کر رکھا ہے۔ اقبال سمجھتے تھے کہ یہودی فلسطین کو اپنی مرضی سے خیرباد کہہ کے گئے تھے، اس لیے فلسطین پر اب ان کا کوئی حق نہیں۔ ان کے خیال میں صیہونی تحریک کا مقصد یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن حاصل کرنے سے کہیں زیادہ برطانوی سامراج کے لیے بحیرہ قلزم میں ایک ساحلی کنارہ حاصل کرنا ہے۔ اقبال نے خبردار کیا کہ اگر پراپیگنڈے کے زور سے برطانوی قوم کو عربوں کے خلاف دھوکا دیا گیا تو موجودہ حکمت عملی کے نتائج خطرناک ثابت ہوں گے۔ اقبال نے مصر، شام، عراق، ترکی، ایران اور ہندستان میں اس صورتِ حال کے خلاف حکومتی اور عوامی سطح پر ہونے والے شدید ردِ عمل کا ذکر کرنے کے بعد توقع ظاہر کی کہ لیگ انگلستان کو فلسطین سے متعلق سیاسی حماقتوں سے بچالے گی اور یوں وہ انگلستان اور عالمِ اسلام دونوں کی خدمت بجا لائے گی۔
ان خطوں سے آکسفرڈ یونی ورسٹی کی طرف سے رہوڈز لیکچر کے لیے اقبال کو موصولہ دعوت نامے اور اپنی علالت کے باعث ان کے التوا سے آگاہی ہوتی ہے۔ ان میں اقبال نے اپنی مسلسل علالت، علاج معالجے ، عملی زندگی سے کنارہ کشی اور اہل خانہ کی شدید پریشانی کا اظہار کیاہے۔
(۴)
پروفیسر آرنلڈ(۱۸۶۴ء۹-؍جون۱۹۳۰ء) سے اقبال کے تعلقات اور ان کے گھر سے متعلق اقبال کے خیالات کے بارے میں بہت سی معلومات منظر عام پر آچکی ہیں، جن پر اضافہ ممکن نہیں۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ان پُرخلوص تعلقات کا اظہاران کی بیٹی نینسی آرنلڈ کے نام اقبال کے دو خطوط سے بھی ہوتا ہے۔ اقبال کا پہلا خط ایک پوسٹ کارڈ کی صورت میں ہے، جس کی پشت پر جامع مسجد دہلی کی تصویر ہے، جہاں ایک جم غفیر نمازِ جمعہ ادا کر رہا ہے۔ قنات کے اُس طرف خواتین نماز کے لیے کھڑی ہیں۔ شاید اس ہجوم کے پیشِ نظر اقبال نے نینسی کو لکھا کہ یہ رہا ریاضی کا ایک مسئلہ تمھارے لیے۔ وہ تمام مرد [اور عورتیں]، جو دلّی کی مسجد میں مصروفِ نماز ہیں، ذرا گن کر تو دِکھاؤ۔ یہ کارڈ غالباً اس تیرہ سالہ بچی کے دل بہلانے کی غرض سے بھیجا گیا ہو گا، لیکن یہاں اقبال کے اس جذبے کی داد دینی چاہیے، جس کے تحت وہ ایک بچی کے دل میں اسلامی شعار سے متعلق جگہ بناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ نینسی کے نام اقبال کا دوسرا خط کم و بیش دو برس بعد لکھا گیا۔ ۱۱؍جنوری ۱۹۱۱ء کے اس خط میں بھی اقبال نے وہی لہجہ اختیار کیا، جو چھوٹے بچوں سے کیا جاتا ہے۔ یہاں اقبال اپنے استاد کو ’گرو‘ کا نام دیتے ہیں، نینسی سے باٹنی کے اسباق کے بارے میں استفسار کرتے ہیں، استاد اور شاگرد کے مابین قاصد بننے کی درخواست کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
[ترجمہ] جب مَیں آئندہ استادِ گرامی کی قدم بوسی کے لیے انگلستان آؤں گا تو امید ہے، تم مجھے وہاں کی خوب صورت وادیوں میں اُگنے والے تمام پھولوں کے نام سکھا دو گی۔ مجھے اب تک وہ سویٹ=ولیم، بلیوبیل، لیپ ٹیولپس [نامی پھولوں] کے نام یاد ہیں۔ دیکھو تو، تمھارے شاگرد کا حافظہ کچھ ایسا بُرا بھی نہیں۔
[ترجمہ] شاید اب مجھے یہ خط ختم کرنا پڑے، کیونکہ زیریں کمرے میں میرے ملازم کی کالی کلوٹی بچی شور مچاتے ہوئے میرا سکون غارت کر رہی ہے۔ اگرچہ مَیں اس سے بہت تنگ ہوں، لیکن اسے برداشت کرتے ہی بنتی ہے، کیونکہ اس کا باپ میرا بڑا وفادار ملازم ہے۔
اس موقع پر آرنلڈ کی وفات پر لکھے گئے اقبال کے خط کا ذکر ناگریز ہے۔ اس خط سے ایک استاد کے لیے کسی شاگرد کے دِلی جذبات کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں:
[ترجمہ] میرے لیے آپ کو اور نینسی کو یہ بتانا ممکن نہیں کہ جب سرطامس آرنلڈ کی ناگہانی وفات کی خبر ہم تک ہندستان میں پہنچی تو ہم سب کو کس قدر دلدوز صدمہ ہوا۔ آپ بخوبی جانتی ہیں کہ ان سے ان کے شاگرد اور حلقہ احباب ان سے کس قدر محبت کرتا تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ صدمے کے الفاظ آپ لوگوں کے لیے دل جوئی کا سامان نہیں ہو سکتے؛لیکن اتنا یقین دلاتا ہوں کہ نہ صرف انگلستان، بلکہ ہندستان اور اُن تمام ممالک کے لوگ بھی آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، جہاں جہاں ان کا نام بطور مستشرق کے معروف ہے۔یقینا ان کی رحلت سے نہ صرف برطانوی علم و دانش، بلکہ عالمِ اسلام کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کے فکر و ادب کی والہانہ خدمت میں انھوں نے تادمِ آخر کمی نہ آنے دی۔ میرے لیے یہ زیاں ذاتی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ انھی کی صحبت کا اثر تھا، جس نے میری روح کی تربیت کی اور اسے جادۂ علم پر گامزن کیا۔
(۵)
سرسید احمد خاں کے پوتے سید راس مسعود (۱۸۸۹ء۳۰-؍جولائی ۱۹۳۷ء) اقبال کے بڑے مداح تھے۔ اقبال کی ان سے پہلی ملاقات دورۂ جنوبی ہند کے دوران جامعہ عثمانیہ میں ہوئی، جہاں وہ وائس چانسلر تھے۔۱۹۳۳ء کے دورۂ افغانستان میں سید سلیمان ندوی کے علاوہ راس مسعود اقبال کے رفیق سفر تھے۔ اقبال انھی کے مشورے پر اپنے علاج معالجے کے لیے تین مرتبہ (۳۱؍جنوری ۱۹۳۵ء، ۲؍مارچ ۹-؍اپریل۱۹۳۶ء ) حمیدیہ ہسپتال بھوپال گئے۔ان کی ذات پر اقبال کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقبال نے انھیں اپنے بچوں کا نگران مقرر کیا تھا۔راس مسعود کی اہلیہ بھی اقبال کا بے حد احترام کرتی تھیں۔ ان کے نام اقبال کے تین خط ملتے ہیں؛ پہلا خط ۲۵؍فروری ۱۹۳۶ء کا لکھا ہوا، دوسرا یکم اگست ۱۹۳۷ء کا اور تیسرا ۲۸؍اکتوبر ۱۹۳۷ء کا تحریر کردہ۔ ان میں لیڈی مسعود کی فرمائش کی تعمیل، راس مسعود کی رحلت پر اظہارِ تعزیت اور ایک شخص کے سفارش سے متعلق مختلف تجاویز پر گفتگو کی گئی ہے۔
پہلے خط میں اقبال نے اپنے ساتھ امرتسری نان خطائی اور قصوری میتھی لانے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں اپنی ناگزیر شرکت کے باعث بھوپال میں ایک ماہ سے زائد قیام نہیں کر سکیں گے۔
لیڈی مسعود کے نام اقبال کا دوسرا خط سید راس مسعود کی رحلت کے موقع پر لکھا گیا۔ تعزیت کا یہ خط اقبال کی دلی جذبات کا عکاس ہے۔ لکھتے ہیں:
مَیں آپ کو صبر و شکر کی تلقین کیونکر کروں، جب کہ میرا دل تقدیر کی شکایتوں سے لبریز ہے۔ مرحوم سے جو میرے قلبی تعلقات تھے، اُن کا حال آپ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ اس بِنا پر مَیں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں، آپ کے دُکھ درد میں شریک ہوں۔ غالباً مرحوم کے دوستوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہو گا، جس کے دل میں مرحوم نے اپنی دل نوازی، بلند نظری اور سیر چشمی کا گہرا نقش نہ چھوڑا ہو۔ مسعود اپنے باپ دادا کے تمام اوصاف کا جامع تھا۔ اس نے قدرت سے دادا کا دل اور باپ کا دِماغ پایا تھا اور جب تک جیا، اس دِل و دِماغ سے ملک و ملت کی خدمت کرتا رہا۔ خدا تعالیٰ اسے غریقِ رحمت کرے۔ …… زیادہ کیا لکھوں، ہم سب پریشان ہیں اور خدا تعالیٰ سے آپ کے اطمینانِ قلب کی دعا مانگتے ہیں۔
البتہ تیسرے خط میں اقبال نے ریاست بھوپال میں ملازم انور نامی کے خط کے پس منظر میں لیڈی مسعود کو امپیریل پولیس سروس میں انور کی تقرری کے حوالے سے کچھ تجاویز دی ہیں۔
(۶)
۸؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو اقبال نے سیالکوٹ میں مقیم اپنی ہمشیرہ کریم بی بی کو ایک خط لکھا۔ کریم بی بی نے غالباً اپنے خط میں ایک خواب اور شیخ نورمحمد کی طرف سے اس کی تعبیر کا ذکر کیا تھا، جس پر اقبال نے کہا کہ ’میرا بھی عقیدہ یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو نئی زندگی عطا فرمائے گا اور جس قوم نے آج تک اس کے دین کی حفاظت کی ہے، اس کو ذلیل و رُسوا نہ کرے گا‘۔ اقبال نے دعا کو مسلمانوں کی بہترین تلوار قرار دیا اور لکھا کہ ’ہر وقت دعا کرنا چاہیے اور نبی کریمؐ پر درُود بھیجنا چاہیے۔ کیا عجب کہ اﷲ تعالیٰ اس امت کی دعا سن لے اور اس کی غریبی پر رحم کرے‘۔ اس خط میں اقبال اپنی زندگی اور جدوجہد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مَیں جو اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ مَیں نے اپنی عمر یورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خدا تعالیٰ نے مجھ کو قواے دِماغی بہت اچھے عطا فرمائے تھے، اگر یہ قویٰ دینی علوم کے پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسولؐ کی مَیں کوئی خدمت کر سکتا اور جب مجھے خیال آتا ہے کہ والدِ مکرم مجھے دینی علوم پڑھانا چاہتے تھے تو مجھے اَور بھی قلق ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ صحیح راہ معلوم بھی تھی تو بھی وقت کے حالات نے اس راہ پر چلنے نہ دیا۔ بہرحال، جو کچھ خدا کے علم میں تھا، ہوا اور مجھ سے جو کچھ ہو سکا، مَیں نے کیا؛ لیکن دل چاہتا ہے کہ جو کچھ ہوا، اس سے بڑھ کر ہونا چاہیے تھا اور زندگی تمام و کمال نبی کریمؐ کی خدمت میں بسر ہونی چاہیے تھی۔
(۷)
مولانا غلام قادر گرامی (ف ۲۷؍۱۹۲۷ء) اقبال کے دیرینہ اور مخلص دوستوں میں سے تھے۔ وہ لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ حصولِ تعلیم کے بعد اوّل اوّل معلمی کا پیشہ اختیار کیا، بعد ازاں پولیس میں بھی رہے، بالآخر نظام حیدرآباد کے دربار میں ’شاعرِ خاص‘ مقرر ہوئے۔ ۱۹۱۷ء میں وطن لوٹ آئے، جالندھر کو مستقر بنایااور یہیں ان کا انتقال ہوا۔ اقبال کے نام ان کے ۹۰؍خطوط دستیاب ہوئے ہیں۔ مولانا گرامی کی رحلت کے بعد ان کے کلام کی اشاعت کے لیے ان کی اہلیہ اقبال بیگم نے اقبال سے رابطہ کیا۔ اس سلسلے میں اقبال کے آٹھ خط ملے ہیں۔ پہلا خط ۱۳؍ستمبر ۱۹۲۷ء کو لکھا گیا اور ساتواں ۱۰؍اگست ۱۹۳۰ء کو، البتہ آٹھویں خط پر تاریخ درج نہیں۔
پہلے سات خط بالعموم نہایت مختصر ہیں، جن میں ان کے شوہر (غلام قادر گرامی) کے کلام کی ترتیب، کتابت، طباعت، مالی اخراجات، ناشر سے معاہدے کے طریقِ کار، تعداد، قیمت اور پھر ذاتی طور پر چھپوانے جیسے معاملات سے متعلق پوچھے گئے بعض سوالات کے جواب دیے گئے ہیں۔ سات خطوں تک اقبال انھیں بڑے خلوص سے مشورہ دیتے رہے، لیکن آٹھویں خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیگم گرامی نے، اقبال سے متعلق کسی بدگمانی کا اظہار کیا۔ اقبال مولانا گرامی سے اپنی دوستی کا لحاظ کرتے ہوئے نہایت تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایک دو جملوں میں اس بدگمانی کی وجوہ بھی بیان کر جاتے ہیں، لکھتے ہیں:
آپ کا خط ابھی ملا ہے، جسے پڑھ کر مجھے کوئی رنج نہیں ہوا۔ عورتوں کو کسی معاملے کے متعلق مشورہ دینا آسان کام نہیں، کیونکہ ان کو معاملات کی سمجھ نہیں۔ اس کے علاوہ وہ فطرتاً بدظن ہوتی ہیں اور خواہ کتنی ہی سچی بات کیوں نہ کہی جائے، ان کو اس پر اعتبار کرنے میں تامل ہوتا ہے۔
اس کے بعد اقبال نے طباعت و اشاعت سے متعلق ہر ہر نکتے کو بڑی تفصیل سے بیان کیا اور لکھا کہ جب کتاب کی طباعت قریب الاختتام ہو تو مجھے اطلاع دیں، تاکہ مَیں دیباچہ لکھواؤں۔
(۸)
بیجا پور میں مقیم بی بی آمنہ کے نام اقبال کے دو مکتوبات دستیاب ہوئے ہیں، لیکن فی الحال بی بی آمنہ سے متعلق معلومات پردۂ اخفا میں ہیں۔ یہ دونوں خط انگریزی زبان میں لکھے گئے اور جمال الدین (ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر بیجاپور) کی معرفت بھیجے گئے۔ پہلا خط ۲۳؍جون ۱۹۳۴ء کو تحریر کیا گیا اور دوسرا ۳؍جولائی ۱۹۳۴ء کو۔ یہ خطوط بی بی آمنہ کی طرف سے مثنوی مولانا روم کے موعودہ انگریزی ترجمے سے متعلق ہیں۔ اقبال نے مثنوی کے منظوم انگریزی ترجمے کو ایک غلطی قرار دیا اور انگریزی نظم کی تکنیک سے ناواقفیت، گرتی ہوئی صحت اور اپنی ادبی سرگرمیوں کی بنا پر ترجمے کی تصحیح سے معذوری ظاہر کی۔ اقبال نے اپنے صوفی ہونے سے انکار کیا اور موجودہ تصوف کو اسلام کے اخلاقی زوال کا سبب قرار دیا۔ ان کے خیال میں مثنوی مولانا روم جدید دَور کے تشکیک اور دہریت کے زہر کے لیے ایک قسم کے تریاق کا اثر رکھتی ہے۔ انھوں نے مثنوی کے چھبیس ہزار اشعار کے ترجمے کے بجاے عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے انتخاب کا مشورہ دیا۔ اقبال خود بھی ایسا انتخاب کرنا چاہتے تھے، لیکن خرابی صحت سے وہ ایسے کئی منصوبوں سے دست کش ہوچکے تھے۔ اقبال نے لکھا:
مَیں نے اپنے منشی کو ہدایت کر دی ہے کہ جاوید نامہ کا ایک نسخہ آپ کو بھیج دے۔ امید ہے کہ اس کو پڑھ کر آپ کو رومی کے بارے میں میرے نظریے کا کچھ اندازہ ہو جائے گا اور ان اہم مسائل کا بھی، جو دورِ جدید میں اسلام کو درپیش ہیں۔
(۹)
اکتوبر ۱۹۳۱ء میں لندن میں دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے سے پہلے اقبال نے ۲۶؍اگست ۱۹۳۱ء کو سردار بیگم کے نام ایک خط لکھا اور میاں امیر الدین کے حوالے کر دیا۔ یہ تحریر بنیادی طور پر وصیت نامہ ہے، لیکن چونکہ اس میں انھوں نے اپنی اہلیہ سردار بیگم کومخاطب کیا ہے، اس لیے اسے خط کی ذیل میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس خط میں اقبال نے یہ کہتے ہوئے کہ ’چونکہ مَیں گول میز کانفرنس کے سلسلے میں ولایت جانے والا ہوں اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں‘، سات نکات پرمشتمل ایک تحریر سپردِ قلم کی، جس میں جاوید، منیرا، سردار بیگم اور اپنے نام بنکوں میں جمع شدہ مختلف رقوم، اقبال کی عدم موجودگی میں مختلف اخراجات کے بندوبست، جاوید نامہ کی آمدنی کی ملکیت اور سردار بیگم کے حق مہر کی رقم کی تفصیلات بیان کی گئیں اور آخر ی نکتے میں لکھا کہ مَیں تم سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ میری عدم موجودگی میں تم بچوں کی تربیت سے غافل نہ ہو گی۔ ان کی ماں ہونے کے ناتے جو فرائض تم پر عائد ہوتے ہیں، ان کو ادا کرو گی۔
(۱۰)
یونانی اور سنسکرت زبانوں کے عالم پروفیسر الفرڈ ولیم سٹرے ٹن(Alfred William Stratton) ۱۸۶۶ء میں ٹورانٹو میں پیدا ہوئے۔ وہ ۲۴؍نومبر۱۸۹۹ء سے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل اور پنجاب یونی ورسٹی کے رجسٹرار رہے اور ۲۳؍اگست ۱۹۰۲ء کو کشمیر میں بیمار ہو کے وفات پا گئے۔ اس موقع پر اقبال نے ان کی اہلیہ انا بوتھ سٹرے ٹن(Anna Booth Stratton) کے نام اپنے خط میں لکھا کہ انھوں نے ہمارے ذہنوں پر ناقابلِ فراموش نقوش مرتب کیے ہیں۔ اس خط سے تین نکات پر روشنی پڑتی ہے، (۱)ان کی شخصیت کے پیش نظر ہندستانی عوام امریکی عوام اور ان کے بلند اور بے غرض کردار کی طرف متوجہ ہوئے، (۲) ہندستانی عوام امریکہ اور کینیڈا کے باشندوں میں زیادہ امتیاز نہیں کرتے اور (۳) ڈاکٹر سٹرے ٹن کے زیرِ اثر اقبال سمیت بعض ہندستانی طلبہ امریکی یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔
(۱۱)
صغرا ہمایوں مرزا حیدرآباد میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۰۱ء میں بیرسٹر سید ہمایوں مرزا سے بیاہی گئیں۔ ۱۹۳۰ء سے انھوں نے مضمون نگاری اور بعد میں نسواں، مشیرِ نسواں اور زیب النسا جیسے رسائل کی ادارت کی۔ ان کے نام اقبال کے چار خطوط دستیاب ہوئے ہیں، جن کا دورانیہ ۲۸؍نومبر ۱۹۲۲ء سے ۱۲؍جولائی ۱۹۲۸ء تک ہے۔ ان خطوں میں کوئی اہم علمی و ادبی موضوع زیرِ بحث نہیں آیا۔ پہلے خط میں رسالہ النسا بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور رسالے کو مسلمان عورتوں کے لیے سبق آموز قرار دیا۔ دوسرے اور تیسرے مکتوب میں پیامِ مشرق بھیجنے کا وعدہ کیا اور چوتھے میں مکتوب الیہ کے اشعار پر اصلاح سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے اشاعت کے لیے انھیں امرتسر کے رسالے نورجہاں میں بھیجنے کا مشورہ دیا۔
(۱۲)
چند خط نہایت مختصر ہیں، جن میں سے ۲۱؍دسمبر ۱۹۲۹ء کو انوری بیگم کے نام ایک خط دریافت ہوا ہے، جس میں ان کے خیالات کی پاکیزگی اور بلندی کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہ ایک دو روز کے بعد ان کی موصولہ تحریر کی اشاعت کی اطلاع بہم پہنچائی ہے۔ ۳۰؍دسمبر ۱۹۳۴ء کے ایک خط میں اقبال نے بیگم علی امام کی فرمائش پر فارسی زبان کے دو دو اشعار پر مشتمل دو بند اور پانچ مفرد اشعار نقل کر کے لکھا کہ ان میں سے ایک بند منتخب کر لیں۔ یکم جولائی ۱۹۳۷ء کو ڈاکٹر حبیب النسا کے نام خط میں ان کی مطلوبہ کتاب کے کوائف کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
mmm
جہاں تک اقبال کے ان خطوں کے اسلوب کی بات ہے، اقبال خط لکھتے ہوئے مکتوب الیہ کی ذہنی، علمی اور تہذیبی سطح پیش نظر رکھتے ہیں۔ اگرچہ ایما ویگے ناسٹ اور عطیہ فیضی، دونوں علمی شخصیات تھیں، لیکن اقبال نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی افتادِ طبع کا لحاظ رکھا ہے،چنانچہ دونوں کے نام اقبال کے خطوط اس امر کے شاہد ہیں۔ چونکہ زیرِ بحث خطوں کی زبان جرمن، انگریزی اور اردو ہے، اس لیے اسلوب پر بات کرتے ہوئے تمام زبانوں سے اقبال کے شغف کو مدِ نظر ضروری ہو گا۔
اقبال جرمن زبان سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصہ ہائیڈل برگ میں مقیم رہے، پھر یہ بھی ہے کہ انھوں نے جرمن زبان میں سترہ خط تحریر کیے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جرمن زبان سے ان کی شناسائی کس درجے کی تھی؟ محمد امان ہوبوہم کے خیال میں اقبال کی جرمن ٹھیک ٹھاک تھی، البتہ ڈاکٹر سعید اختر درّانی اس بیان کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میری بیوی نے، جو جرمن نژاد ہیں، اقبال کے ان خطوں میں اصل متن میں زبان کی بے شمار غلطیاں پائی ہیں۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ جرمن زبان سے اقبال کی نسبتاً کم واقفیت پر معترض ہونا بالکل نامناسب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اس زبان کے مطالعے اور گفتگو کا بہت کم وقت ملا اور جرمن سے واپسی کے بعد لندن یا ہندستان میں انھیں اس زبان کی تحصیل یا اس سے استفادے کا بھی کوئی موقع میسر نہ آیا۔
جرمن زبان سے ہمارے قارئین کی بالعموم ناواقفیت کی وجہ سے یہاں جرمن متن کے ساتھ اردو ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اقبال کے طرزِ تخاطب کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان خطوں میں اقبال ایما کو Mein liebes Frl. Wegenast، ’میری عزیزہ مس ویگے ناسٹ‘ [My dear Miss Wegenast] کے القاب سے مخاطب کرتے ہیں، تاہم ’میری‘ [Mein]میں اپنائیت کے ساتھ ساتھ ادب کا پہلو بھی موجود ہے۔ محمد امان ہوبوہم کا یہ کہنا بجا ہے کہ اقبال انھیں نہایت ادب سے Sie، یعنی’آپ‘کہہ کر پکارتے ہیں اور ایک مرتبہ بھی بے تکلف Du، یعنی ’تم‘ یا ’تُو‘ کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔
چونکہ ان خطوں کا موضوعاتی جائزہ لیا جا چکا ہے، جس کے تحت کئی ایک اقتباسات بھی پیش کیے جا چکے ہیں، لہٰذا یہاں تکرار سے بچنے کی خاطر اقبال کے اسلوب کی نشان دہی کے لیے محض چند اقتباس نذرِ قارئین کیے جائیں گے۔ایما کے نام زیادہ تر خطوط جرمن زبان پر عدم دسترس یا جرمنی کی خوش گوار یادوں کے تذکرے پر مشتمل ہیں، لیکن کہیں کہیں اقبال کے جذبات و کیفیات اور کہیں کہیں بعض واقعات کی تفصیل ملتی ہے، چنانچہ دو اقتباس ملاحظہ کیجیے:
Ein Funke wachst ein flame und eine Flame eine grosse Brand! Aber Sie sind unparteilich, gleichgultig, Tun Sie was Sie wollen. Ich werde sagen nichts und sein immer geduld.
[ترجمہ] ایک شرارے سے شعلہ اٹھتا ہے اور شعلے سے ایک بڑا الاؤ روشن ہوتا جاتا ہے، لیکن آپ سرد مہر ہیں، غفلت شعار ہیں۔ آپ، جو جی میں آئے، کیجیے؛ مَیں بالکل کچھ نہ کہوں گا اور ہمیشہ صابرو شاکر رہوں گا۔
Meine Landleute gaben mir eine grosse Ehre als Ich ins Indien kam. Es ist nicht moglich fur mich in worter zu erklaren. Vielleicht 40 gedichte von allen Seiten meinem Land zu mir geschickt werden, also grusse von Freunde und andre Leute. Als ich ins Lahore kam Sie gaben mir ein garland von gold, und Ich hatte es um meinem Kopf. Es gab viele tus ande menschen an der Bahnhofen von allen stationen von Bombay zum Lahore und Sialkot wo Ich fand viele Kinder und erwachsen meinen eignen gedichten singend aus der Bahnhof uber dem weg.
[ترجمہ] جب مَیں ہندوستان پہنچا تو میرے ہم وطنوں نے میری جس قدر عزت افزائی کی، وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ملک کے گوشے گوشے سے تقریباً چالیس نظمیں موصول ہوئیں اور اسی طرح میرے دوستوں اور دیگر لوگوں نے تہنیتی پیغامات بھیجے۔ جب مَیں لاہور پہنچا تو لوگوں نے میرے سر پر سونے کا ہار پہنایا۔ بمبئی سے لاہور اور سیالکوٹ تک ہر اسٹیشن پر ہزاروں لوگ جمع تھے، جہاں چھوٹے بڑے میری نظمیں گا رہے تھے۔
عطیہ فیضی کے نام اقبال کے اکثر خطوں میں ان کی نجی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی کیفیات کا اظہار ہوا ہے، ان میں سے ایک خط سے اقتباس دیکھیے،جس سے اپنے جذبات کو قلم بندکرنے میں اقبال کی دسترس کا اندازہ ہوتا ہے:
My own wretched self is a mine of miserable thoughts which emerge snake like from the deep and dark holes of my soul. I think I shall become a snake charmer and walk about in the street with a host of curious boys behind me. Don't think that I am pessimist. I tell you misery is most delicious; and enjoy my misfortune and laugh at those who believe they are happy. You see how I steal my happiness.
[ترجمہ]میرا سینہ یاس انگیز اور غم انگیز خیالات کا خزینہ ہے۔ یہ خیالات میری روح کی تاریک بانبیوں سے سانپ کی مانند نکلے چلے آتے ہیں۔ لگتا ہے، مَیں سپیرا بن جاؤں گا، گلیوں میں پھروں گا اور تماش بین لڑکوں کا ہجوم میرا تعاقب کرے گا۔ یقین مانیے،میری تیرہ بختی میرے لیے ایک لطف و لذت کی سرمایہ دار ہے اور مَیں اُن لوگوں پر ہنستا ہوں، جو اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں۔ دیکھیے، کس طرح سامانِ مسرت بہم پہنچاتا ہوں۔
انگریزی زبان میں اقبال کے اسلوب کو بہتر طور پر جاننے کے لیے سابقہ صفحات میں دیے گئے اُن اقتباسات کو دیکھا جا سکتا ہے، جس میں پروفیسر آرنلڈ کی اہلیہ اور ان کی بیٹی نینسی آرنلڈ کے نام خطوں میں اقبال نے حفظ مراتب اور علمی سطح کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے مخاطب سے کلام کیا ہے۔ ذیل میں مسز سٹرے ٹن کے نام خط سے ایک اقتباس دیا جا رہا ہے، جس سے انگریزی زبان میں اظہارِ جذبات پر اقبال کی گرفت کا اندازہ ہوتا ہے:
It is impossible to forget him, so great is the intensity of the impressions which he has left upon our minds. It is no exaggeration to say that it was his personality alone which turned our attention to the American people and their noble and disinterested character. We in India do not make many distinctions; he was a Canadian but to us he was American. I believe it is through Dr. Stratton's influence that some people here are thinking of joining American Universities, and I am one of them.
[ترجمہ] انھوں نے ہمارے ذہنوں پر اتنے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں کہ انھیں بھولنا ممکن نہیں ہے۔ بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صرف ان کی شخصیت تھی، جس نے ہمیں امریکی عوام اور ان کے بلند اور بے لوث کردار کی طرف متوجہ کیا۔ ہندوستان میں ہم لوگ [امریکا اور کینیڈا میں] زیادہ امتیاز نہیں کرتے؛ وہ کینیڈا کے باشندے تھے، مگر ہمارے لیے امریکی تھے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ ڈاکٹر سٹرے ٹن ہی کے زیرِ اثر یہاں کچھ لوگ امریکی یونی ورسٹیوں میں داخلے کا ارادہ کرنے لگے ہیں اور مَیں بھی انھی میں سے ہوں۔
خواتین کے نام اقبال کے اکثر اردو خطوط مختصر ہیں۔ سردار بیگم کے نام ان کا خط مفصل ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ایک وصیت نامہ ہے،جس میں زبان و بیان کی وہ خوبیاں تلاش کرنا مشکل ہے، جسے اسلوب کا نام دیا جاتا ہے، البتہ مدعا نگاری میں یہ بہت اہم ہے۔ ان خطوط میں بالخصوص راس مسعود کی رحلت پر لیڈی مسعود کے نام لکھا جانے والا خط اور اپنی بہن کریم بی بی کے نام مراسلہ قابلِ ذکر ہیں۔ کریم بی بی کے نام خط میں اقبال نے اپنی زندگی کے مقاصد کے بارے میں چند جملوں میں نہایت بلیغ اشارے دیے ہیں۔
اگرچہ خواتین کے نام ان خطوں سے اقبال کے اسلوب کی انفرادیت کا علم نہیں ہوتا، تاہم ان اقتباسات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جرمن زبان پر اقبال کو وہ قدرت حاصل نہیں تھی، جس کے بعد عبارت میں زبان و بیان کی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں، البتہ انگریزی اور اردو میں لکھے گئے ان کے خطوط ان زبانوں پر ان کی مہارتِ تامہ اور اظہارِ جذبات پر ان کی قدرت کا پتا دیتے ہیں۔
ز

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Khalid Nadeem

Read More Articles by Dr Khalid Nadeem: 14 Articles with 16654 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2018 Views: 820

Comments

آپ کی رائے