حضرت شیخین رضی اللہ عنہماکی اہل بیت اطہارسے محبت

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

حقیقی محبت کایہ تقاضابھی ہے اوردنیاکادستوربھی کہ جس سے محبت کی جائے تواس سے متعلقہ تمام چیزوں سے بھی محبت کی جائے، جس سے وہ محبت کرے اس سے بھی محبت کی جائے اورجس سے وہ نفرت کرے اس نفرت کی جائے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنی محبت کرتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہ صرف نبی اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کیاکرتے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق اورنسبت رکھنے والی تمام چیزوں سے بھی محبت کرتے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اہلبیت اطہارکاجوتعلق اورنسبت ہے وہ کون مسلمان نہیں جانتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بعداہلبیت اطہارسے محبت کرناہی عین ایمان ہے۔قرآن پاک اوراحادیث مبارکہ میں اہلبیت عظام کی فضیلت اورعظمت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلبیت عظام سے مودت کرنے کافرمائے اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اہلبیت اطہارسے محبت کرنے کادرس دیایہی وجہ ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہراداکوعشق میں ڈوب کراپنانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہل بیت اطہارسے بھی محبت کرتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق قرآن پاک کی سورۃ فتح کی آخری آیت دے رہی ہے۔ اس میں آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اورجوان کے ساتھ ہیں کافروں پرسخت ہیں اورآپس میں شیروشکرہیں۔اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے والوں کے اوصاف بیان کیے ہیں۔اس آیت مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھیوں کے جواوصاف بیان کیے گئے ہیں وہ تمام اوصاف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اوراہل بیت عظام دونوں میں پائے جاتے ہیں۔اس آیت مبارکہ میں بیان کیے گئے اوصاف میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک وصف ایسابھی بیان کیاہے جویہ ثابت کرتاہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اوراہل بیت اطہارمیں کوئی اختلاف نہیں تھا، ان میں کسی بات پرعدم اتفاق نہیں تھا، وہ ایک دوسرے سے خفانہیں تھے ۔ وہ وصف یہ ہے کہ آپس میں شیروشکرتھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جمعین اوراہل بیت اطہارآپس میں شیروشکرہی تھے۔یک جان دوقالب تھے۔یہ وصف کسی اورنے نہیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے ۔یوں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اوراہل بیت عظام کے باہمی تعلق، مودت اورمحبت کااعلان کیا ہے ۔اس بات کی مزیدتصدیق ذیل میں لکھے گئے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور اہل بیت اطہارکے باہمی تعلق کے چندواقعات سے ہوجائے گی۔
کتاب تاریخ کربلاکے صفحہ 72پرہے کہ خلیفہ اول حضرت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ اہل بیت اطہارسے اپنی محبت کااظہاران الفاظ میں کرتے ہیں
’’ خداکی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے مجھ کواپنے اقرباء سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقرباء محبوب ترہیں‘‘

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاایک اورفرمان ہے کہ
’’یعنی محافظت کرو(حضرت ) سیدنامحمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے اہل بیت میں ‘‘
یعنی عزت وحرمت محمدی اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت کی تعظیم وتوقیرکی جائے۔کتاب رسائل محرم کے صفحہ نمبردوسواٹھارہ پربھی خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کامندرجہ بالافرمان لکھا ہے اورمزیدلکھا ہے کہ جب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے جناب فاطمۃ الزہرانے باغ فدک وغیرہ کامطالبہ کیا تو مسند نشین خلافت جناب صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں اپنے طرزعمل کی وضاحت فرماتے ہوئے اہل بیت کے متعلق اپنے پاکیزہ جذبات کی یوں ترجمانی فرمائی۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیٹی !خداکی قسم !میں اپنے عزیزوں اوررشتہ داروں سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزیزوں اوررشتہ داروں کوزیادہ محبوب رکھتاہوں اورمجھ کو(حضرت )عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پیاری (حضرت) فاطمہ رضی اللہ عنہ ہے۔ جس روزتمہارے والدحضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتقال فرمایاتھااس روزمیں نے بھی یہ آرزوکی تھی کہ مجھ کوبھی خداموت دے دے اورمیں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد زندہ نہ رہوں مگرکاش ایسانہ ہوسکا۔فاطمہ!کیاتم یہ خیال رکھتی ہوکہ میں تم سے واقف نہیں ہوں ۔تمہارے فضل وشرف سے آگاہ نہیں ہوں اورتمہارے حق سے بے خبرہوں؟ایسانہیں، میں سب کچھ جانتاہوں بایں ہمہ میں نے تم کوحضورانورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ سے صرف اس بناپرمحروم کیاہے کہ میں نے تمہارے والد حضوررسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’ہمارے مال کاکوئی وارث نہیں ہوتا،جوکچھ ہم (اپنے بعد) چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ پیکر صدق وصفاحضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ ذات نبوی کے تعلق کی وجہ سے دونوں شہزادوں کے ساتھ بڑی محبت اورشفقت فرماتے تھے۔حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ اورحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ عصرکی نمازپڑھ کرمسجدنبوی سے نکلے ۔راستے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھاکراپنے کندھے پربٹھالیااورفرمانے لگے ۔قسم ہے!یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے ۔علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے۔

کتاب رسائل محرم کے صفحہ دوسوانیس پرلکھا ہے کہ حضرت فاروق اعظم خلافت کے جاہ وجلال اورحشمت وعظمت کے باوجوداہل بیت کے ساتھ بہت محبت آمیزسلوک فرماتے تھے اورہمیشہ ان کی عزت وعظمت کاخاص خیال رکھتے تھے ، چنانچہ جب بیت المال سے کبارصحابہ کے وظائف مقررکئے توحسنین رضی اللہ عنہمااکابرصحابہ کی صف میں نہ آتے تھے مگرمحض نبیرہ رسول کی حیثیت سے ان کابھی پانچ پانچ ہزارماہانہ وظیفہ مقررفرمایا۔ایک مرتبہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ منبر نبوی پرخطبہ ارشادفرمارہے تھے اہل فضل وکمال سے مسجدنبوی معمورتھی ،اسی دوران میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اورآپ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا!عمر!میرے باپ (رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے منبرسے اترآؤاوراپنے باپ کے منبرپربیٹھو۔مسجدکے درودیوارسناٹے میں آگئے خلیفۃ المسلمین نے آپ رضی اللہ عنہ کے یہ کلمات کمال خندہ پیشانی سے سنے اوررسول محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پرعمل کرتے ہوئے خطبہ چھوڑکرانتہائی شفقت سے اٹھاکراپنے پاس منبرپربٹھالیااورفرمایا اے نبیرہ پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے باپ کاتوکوئی منبرہی نہ تھا۔مجھو کوجویہ جلیل القدرمنصب ملا ہے یہ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ یعنی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوتیوں کی برکت سے ملاہے ۔خطبہ تمام کرنے کے بعدحضرت امام رضی اللہ عنہ کواپنے ساتھ گھرلیتے گئے۔ایک مرتبہ شہزادہ کونین سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دردولت پرتشریف لے گئے ۔اتفاق سے اس وقت آپ رضی اللہ عنہ امیرشام سے کسی خاص معاملہ پرتبادلہ خیالات فرمارہے تھے۔دروازہ پرحضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کھڑے تھے آپ رضی اللہ عنہ بھی انہی کے پاس کھڑے ہوگئے اورتھوڑی دیربعدواپس تشریف لے گئے ۔اس کے بعدجب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ۔امیرالمومنین نے پوچھا حسین رضی اللہ عنہ تم وعدہ کے مطابق آئے کیوں نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاامیرالمومنین میں حاضرہواتھامگرآپ اس وقت تنہائی میں امیرشام سے محو گفتگو تھے اندرآنامناسب نہ سمجھااورآپ کے صاحبزادہ عبداللہ کے ساتھ تھوڑی دیرکھڑارہااورپھرانہیں کے ساتھ واپس لوٹ آیا۔حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ جیسی عزیزالقدرہستی اورعبد اللہ کاکیامقابلہ ہوسکتاہے، اندرتشریف لے آتے ، آپ ان سے زیادہ حق دارہیں خداکی قسم !جوکچھ ہماری عزت ہے وہ خدا کے بعدآپ ہی حضرات کی دی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کی بدولت ہمارے سروں پربال اگائے۔آپ کے طفیل راہ راست پائی اورآپ کی برکت سے اس بلندمقام کوپہنچے ۔حضرت آپ کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ۔آپ جب تشریف لایاکریں بغیراجازت آجایاکریں۔امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پربے حدمہربان تھے اوراپنے فرزندارجمندحضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ محبت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔ایک دفعہ حضرت عمررضی اللہ عنہ مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے ،حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تشریف لائے اورفرمایا اے امیرالمومنین !ہماراحق جواللہ نے مقررفرمایاہے ہمیں عطاکرو!آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بالبرکۃ والکرامۃ اورایک ہزاردرہم نذرکئے۔ ان کے جانے کے بعدحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کوبھی ایک ہزاردرہم دئے۔ان کے بعدآپ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ تشریف لائے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کوپانچ سودرہم دئے ۔حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ خصوصی امتیازدیکھاتوعرض کی۔اباجان! یہ کیاانصاف ہے ۔میں بہت پہلے اسلام لایا۔ہجرت کی شرافت بھی حاصل کرچکاہوں اورکئی اسلامی معرکوں میں شامل ہوچکاہوں اورحسنین کریمین رضی اللہ عنہما اس وقت بچے تھے اورمدینہ کی گلیوں میں کھیلاکرتے تھے۔مگرآپ رضی اللہ عنہ ان دونوں بچوں رضوان اللہ علیہم اجمعین کومجھ پرترجیح دیتے ہیں۔انہیں ایک ایک ہزارکی گراں قدررقم اورمجھے صرف پانچ سودرہم ۔فاروق اعظم نے فرمایااے جان پدر!مجھے تمہارے اس سوال سے بہت روحانی اذیت ہوئی۔بیٹا! پہلے وہ مقام اورفضیلت توحاصل کروجوان شہزادوں کوحاصل ہے پھرہزاردرہم کامطالبہ کرناجاؤ! پہلے ان کے ناناجیسانانالاؤ، ان کی نانی جیسی نانی لاؤ،ان کے باپ جیساباپ لاؤ،ان کی ،ماں جیسی ماں لاؤ،ان کے چچاجیساچچالاؤ، ان کی پھوپھی جیسی پھوپھی لاؤ،ان کے ماموں جیساماموں لاؤ،ان کی خالہ جیسی خالہ لاؤ۔اے عبداللہ! خدا کی قسم میں جانتاہوں تم ہرگزنہ لاسکوگے۔ان کے ناناجان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ان کی والدہ حضرت فاطمہ سیدہ النساء العالمین ہیں ، ان کے باپ علی مرتضیٰ ہیں ،ان کی نانی ام المو،منین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاہیں ، ان کے ماموں رسول خداکے صاحبزادے ہیں ۔ان کی خالائیں سرورعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیاں ہیں ۔ان کے چچاحضرت جعفرطیاررضی اللہ عنہ ہیں اوران کی پھوپھی حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہاہیں۔پھرتم کس منہ سے ان کی برابری کادعویٰ کرسکتے ہو۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت شیخین رضی اللہ عنہمااہل بیت اطہارسے کتنی محبت کرتے تھے۔اپنی اولادپربھی ترجیح دیتے تھے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اوراہل بیت عظام آپس میں متحدومتفق تھے۔ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، اہل بیت اطہاراوراولیائے کاملین سے محبت دنیاکے دستورکے تحت نہیں اللہ تعالیٰ اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان مبارک پرعمل کرتے ہوئے کرتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 154615 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2018 Views: 1141

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ