قادیانی اوراسلامی جمہوریہ پاکستان

(Dr Rukhsana Asad, )

تحریرعدنان فداسعیدی مظفرگڑھ
پاکستان اﷲ کی ایک عظیم نعمت ہے مگرمعرض وجود سے لے کرابتک مختلف مسائل کا سامنا ہے اورفتنہ قادیانیت توظاہرقاتل ہے اس سے پاکستان کو بچانا بہت ضروری تھا قادیانوں کی شرارتیں بڑھنے لگیں تو سب علماء ایک بینچ پراکٹھے ہوئے کیا شیعہ،کیاسنی،بریلوی واہلحدیث سب اپنے آقا کی حرمت پر مرمٹنے کوتیارتھے اس فتنے کو کچلنے کیلئے علامہ سیداحمدسعیدکاظمی ؒنے جمعیت علمائے اسلام کے نام سے ایک جماعت بنائی جہاں اس جماعت کا مقصدآپ ﷺ کی ناموس کی حفاظت تھاوہیں دین متین کی خدمت بھی اولین ترجیحات میں تھی اس پلیٹ فارم سے قادیانیت کے خلاف آواز بلند کی گئی پھرخون صدیقی نے جوش مارااورشاہ احمدنورانینے جمعیت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پہنچ کراس معاملے پرآوازبلندکی اس سے تمام مکاتب فکرکے لوگوں کو اس فتنے کے متعلق آگاہی ملی۔کئی علماء کرام مشائخ دین جن میں سیدجماعت علی شاہ،خواجہ قمرالدین سیالوی،علامہ عبدلستارسیالوی،مولانا عبدالغفورہزاروی،مفتی محمود،پیرکرم شاہ،سرداراحمدقادری،فیض الحسن شاہ ودیگرنے اس فتنے کی سرگوہی کرنے کیلئے سرتوڑکوششیں کیں 30جون 1974کوشاہ احمدنورانی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردلوانے کیلئے بل پیش کردیاقادیانی رہنماسے کافی مناظرے کے بعدبالاخرعلمائے اسلام کا پلیٹ فارم اورذوالفقارعلی بھٹوکے دورحکومت کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قراردے دیاجمعیت علمائے پاکستان اورنظام مصطفےٰ کاپلیٹ فارم اس کارہائے خیرمیں اپنا اہم کرداراداکرتارہاآئین پاکستان کے مطابق قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجدنہیں کہہ سکتے ،آذان نہیں دے سکتے ،اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے ،اپنے مذہب کواسلام نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی اپنے مذہب کی دعوت دے سکتے ہیں ۔قادیانیوں کے متعلق قائداعظم محمدعلی جناح سے پوچھا گیا توقائداعظم نے کہا ان کے متعلق میری وہی رائے ہے جو علماء کرام کی ہے آپ بھی انہیں اسلا م اورپاکستان کیلئے زہرقاتل سمجھتے تھے اسی وجہ سے قادیانیوں نے آپ کا جنازہ پڑھنے سے انکارکردیاآپ کی حکومت کو کافرقراردیا تھا(بحوالہ اسلام سفیر387)جولوگ پاکستان کے آئین کے خلاف ہیں وہ بھلا کیسے اس مملکت کی بھلائی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں وہ جتنا بھی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوجائیں وہ اسلام کے دشمن رہیں گے شایدیہ سوال اٹھے کہ پاکستان نے اقلیتوں کو حقوق دیئے ہیں انکو بھی دینے میں کیا حرج ہے؟توعرض یہ ہے جب وہ خودکو اقلیت ہی نہیں تصورکرتے توانہیں اقلیت کے حقوق کیسے ملیں وہ مرتدہیں اورمرزاقادیانی کو ماننے والے ہیں ان کیلئے حقوق نہیں بلکہ مزیدپابندیاں ہونی چاہییں تاکہ ان کے فتنے کوروکا جاسکے تاکہ مزیدامت مسلمہ پریشان نہ ہوں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Rukhsana Asad

Read More Articles by Dr Rukhsana Asad: 5 Articles with 1940 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Sep, 2018 Views: 338

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ