محبت کے نام پر گمراہی — قرآنِ مجید کی روشنی میں غیر شرعی تعلقات کا فکری اور عملی جائزہ

آج کے معاشرے میں لفظ “محبت” کو ایسے استعمال کیا جانے لگا ہے کہ اس کی اصل حقیقت اور اسلامی حدود مبہم اور مسخ ہو چکی ہیں۔ یہ تحریر محبت کے خلاف نہیں بلکہ محبت کے نام پر ہونے والی گمراہی، غیر شرعی تعلقات اور فکری انتشار کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل فکری اور اخلاقی بحران کا شکار ہو رہی ہے۔

مالک سرفراز حسین اعوان

محبت کے نام پر گمراہی — قرآنِ مجید کی روشنی میں غیر شرعی تعلقات کا فکری اور عملی جائزہ
By: Journalist Malik Sarfraz Hussain — Investigative Column
آج کے معاشرے میں لفظ “محبت” کو ایسے استعمال کیا جانے لگا ہے کہ اس کی اصل حقیقت اور اسلامی حدود مبہم اور مسخ ہو چکی ہیں۔ یہ تحریر محبت کے خلاف نہیں بلکہ محبت کے نام پر ہونے والی گمراہی، غیر شرعی تعلقات اور فکری انتشار کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل فکری اور اخلاقی بحران کا شکار ہو رہی ہے۔
اسلام میں تعلق کی بنیاد — شریعت کی روشنی
اسلام میں مرد اور عورت کے تعلق کے لیے صرف ایک ہی جائز راستہ ہے: نکاح۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر حکم دیا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ
(زِنا کے قریب بھی مت جاؤ)
(سورۃ الاسراء: 32)
یہ حکم صرف زِنا کو روکنے کی حد تک نہیں بلکہ اس تک پہنچنے والے ہر راستے کو روکنے کا بھی حکم ہے — چاہے وہ نظر کی گردش ہو، دل کی کشش ہو، یا جسمانی تعلق ہو۔ لہٰذا لڑکی اور لڑکے کے درمیان کوئی بھی ایسا تعلق جو نکاح یا شرعی رشتے پر مبنی نہ ہو، قرآن کی نظر میں زِنا کی طرف جانے والا راستہ ہے — چاہے اس کو “محبت” یا “پسند” جیسا خوبصورت نام ہی کیوں نہ دیا جائے۔
قرآن کی روشنی میں نظر اور پسند
اسلام میں محبت یا پسند کی بنیاد نظر یا آواز نہیں بلکہ عقل، تقویٰ، فکر، اور کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والے مردوں سے حکم کیا:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ
(ایمان والے مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں)
(سورۃ النور: 30)
اور ایمان والی عورتوں سے بھی:
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ
(اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھیں)
(سورۃ النور: 31)
اگر پسند یا محبت کی بنیاد نظر یا آواز ہوتی تو قرآن میں نظر نیچی رکھنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ اس سے واضح ہے کہ شہوت کی نظر سے دیکھنا اسلام میں گناہ ہے، نہ کہ پسند کی کوئی شرعی یا مثبت بنیاد۔
پسند کا حقیقی اسلامی مفہوم
اسلام میں کسی کو پسند کرنا صرف جمال یا کشش کی بنیاد پر نہیں بلکہ درج ذیل معیاروں کے تحت ہوتا ہے:
عقل و فہم — انسان سوچے کہ کیا یہ رشتہ اللہ کے احکام کے مطابق ہے؟
تقویٰ — وہ شخص دین، عمل، اور شریعت کی پابندی میں کتنے مضبوط ہے؟
کردار اور اخلاق — کیا وہ شخص اچھے اخلاق کا حامل ہے؟
نکاح کا ارادہ — اگر تعلق نکاح کی طرف لے جا سکتا ہے تو ہی اسے جائز سمجھا جاتا ہے۔
قرآن اسلامی جنگ میں مردوں اور عورتوں کی عزت، کردار اور تقویٰ کو اہم ترین مقام دیتا ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے)
(سورۃ الحجرات: 13)
لہٰذا اسلام میں پسند کی شادی کا مطلب صرف جمال یا حسنِ ظاہری کی بنیاد پر فیصلہ کرنا نہیں، بلکہ عقل، عمل، اور دین داری کا گہرا جائزہ لینا ہے۔
شہوت یا خواہش کو محبت کہنا: قرآن کا تناظر
آج بہت سے لوگ شہوت یا جسمانی کشش کو محبت کا نام دیتے ہیں، اور اسے پسند، محبت یا تعلق کہہ کر اپنے نفس کے لیے جائز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن نے انسان کو بار بار خواہشِ نفس کی پیروی سے روکا ہے:
وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، ورنہ یہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی)
(سورۃ ص: 26)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ صرف شہوت کی بنیاد پر فیصلے کرنا نہ تو عقل ہے، نہ دین، اور نہ ہی محبت۔
ایک فکری بحران — نوجوانوں کی مغالطہ بازی
آج نوجوان نسل فطری ہے، پاکیزہ جذبوں سے بھری، مگر بے ہدف اور غیر شرعی تعلقات کے سبب فکری انتشار اور اخلاقی بحران کا شکار ہو رہی ہے۔
ایک انتہائی خطرناک صورت یہ ہے کہ کچھ لوگ تھجد کی نماز میں ایک دوسرے کے لیے اللہ سے مدد مانگتے ہیں تاکہ وہ اپنے تعلق کو برقرار رکھ سکیں، خواہ وہ تعلق شرعی نہ ہو، خواہ وہ حدودِ الٰہی کی خلاف ورزی ہو۔
یہ عمل نہ صرف اللہ کے احکام کے خلاف ہے بلکہ یہ اللہ سے گمراہانہ دعا مانگنے کے مترادف ہے — وہ مدد جس کا مقصد گناہ میں اضافہ ہو۔
یہ دراصل ایک فکری اور اخلاقی بیماری ہے جس میں گناہ کو محبت کے خیال سے پوشیدہ کر دیا جاتا ہے، اور نوجوان دل میں یہ خیال بیٹھ جاتا ہے کہ “محبت کے لیے ہر حد جائز ہے”۔ یہ سوچ مکمل طور پر اسلام کے خلاف اور قرآن کی تعلیم کے منافی ہے۔
معاشرتی نقصان
غیر شرعی تعلقات کو محبت کا نام دینا صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ سماجی بیماری بن چکا ہے جس کے منفی اثرات درج ذیل ہیں:
شرم و حیا میں کمی
خاندانی نظام کی کمزوری
ذہنی اور جذباتی انتشار
نوجوان نسل میں فکری گمراہی
گناہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کا معاشرے میں تسلسل
جب گناہ کو خوبصورت نام دے دیا جائے، تو وہ نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں محبت اور تعلق کا حتمی فیصلہ
قرآنِ مجید کی تعلیم بالکل واضح ہے:
پسند نظر یا آواز سے نہیں، عقل اور تقویٰ سے ہوتی ہے
غیر شرعی تعلق محبت نہیں بلکہ زِنا کا راستہ ہے
شہوت کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ قرآن میں درست نہیں
محبت کو گناہ کے ساتھ جوڑنا دینی اور فکری گمراہی ہے
اسلام میں محبت وہی قابلِ قبول ہے جو اللہ اور اس کے احکام کے اندر ہو — چاہے وہ نکاح کے بعد ہو، یا احترام اور عقلی جائزے کے ساتھ ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی تعلق ہو، اسے محبت کا نام دینا قرآن کے منافی ہے، خواہ وہ لفظی لحاظ سے کتنا ہی نرم یا خوبصورت کیوں نہ لگے۔
 
sarfraz Hussain
About the Author: sarfraz Hussain Read More Articles by sarfraz Hussain: 4 Articles with 1952 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.