شبِ معراج: قرآن و حدیث میں اصل حقیقت اور 27 رجب کا موقف
(sarfraz Hussain, Muscat)
| یہ تحریر خالصتاً دینی امانت، علمی دیانت اور حقائق کی وضاحت کے لیے قلم بند کی گئی ہے۔ اس کا مقصد نہ کسی کی دل آزاری ہے اور نہ کسی کے عقیدے پر حملہ، بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ شبِ معراج کی متعین تاریخ کے بارے میں دین ہمیں کیا بتاتا ہے اور کیا نہیں بتاتا۔ |
|
|
مالک سرفراز حسین اعوان |
|
شبِ معراج اسلام کے اہم ترین اور مسلمہ واقعوں میں سے ہے۔ اس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ قرآنِ مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ایک رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا معاملہ بیان فرمایا، جس کے بعد عروجِ الیٰ تک بھی سفر ہوا۔ لیکن قرآنِ مجید میں نہ کسی دن کی تاریخ ہے، نہ کسی مہینے کا ذکر ہے، اور نہ کسی سال کا تعین کیا گیا ہے۔ فقط یہ بیان ہے کہ یہ واقعہ ایک شب میں پیش آیا۔ قرآنِ مجید میں واقعۂ معراج کے متعلق درج ذیل آیات موجود ہیں: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (سورۃ الاسراء: 1) پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو ایک رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ (سورۃ النجم: 13–18) اور بے شک انہوں نے اسے ایک اور مرتبہ دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، جس کے قریب جنتِ مأویٰ ہے۔ جب سدرہ پر وہ چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا، نہ نظر بہکی اور نہ حد سے بڑھی، یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ان آیات میں اصل واقعۂ معراج بیان ہوا، مگر کہیں بھی دن، تاریخ یا مہینے کے بارے میں کوئی تعیین موجود نہیں ہے۔ اسی طرح احادیثِ نبویہ میں واقعۂ معراج کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ ان احادیث میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سفر، براق کے ذریعے سفر، آسمانوں میں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات، سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا، نمازوں کا فرض ہونا سب کچھ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، مگر کسی بھی حدیث میں “27 رجب” لکھا ہوا نہیں ملتا۔ چند اہم احادیث درج ذیل ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ صَلَاةً… (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰة؛ صحیح مسلم) پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی گئیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے ان کی تعداد کم ہو کر پانچ رہ گئیں۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے: أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ… (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق؛ صحیح مسلم) مجھے براق کے ساتھ لایا گیا، جو ایک سفید جانور تھا، اس کے ذریعے یہ سفر ہوا۔ صحیح مسلم میں بھی وارد ہے: ثُمَّ عُرِجَ بِيَ إِلَى السَّمَاءِ (صحیح مسلم) پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جہاں حضور ﷺ نے آسمانوں کی سیر فرمائی۔ ان تمام احادیث میں واقعۂ معراج موجود ہے، لیکن کہیں بھی کسی دن، تاریخ، مہینے یا رجب ستائیسویں کا لفظ نہیں آتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن و احادیث میں تاریخ نہیں ہے تو 27 رجب کی روایت کہاں سے آئی؟ تحقیقی مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ 27 رجب کا تذکرہ مدتِ صحابہؓ، تابعین یا تبعِ تابعین میں نہیں ملتا۔ سب سے قدیم کتبِ سیرت و تاریخ میں بھی یہ تاریخ اصل رسول ﷺ سے منقول نہیں ہے بلکہ بعد کے علماء اور تاریخ نگاروں نے مختصر روایات یا عوامی روایت کی بنا پر اسے بطور رائے شامل کیا۔ مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات 151 ھ) نے اپنے مسند سیرت میں شبِ معراج کی مختلف روایات نقل کیں، جن میں مختلف مہینوں کا ذکر آیا، مگر صحیح سند کے ساتھ 27 رجب کا کوئی قطعی بیان نہیں۔ بعد میں محمد بن عمر الواقدی (وفات 207 ھ) نے بھی اپنے مجموعات میں بعض غیر معتبر روایات کو نقل کیا، جس میں رجب کا تذکرہ آیا، لیکن وہ معتبر حدیث کے درجے پر نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ و حدیث کے محققین جیسے امام نووی، حافظ ابن حجر عسقلانی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور دیگر نے واضح کیا کہ کوئی متعین تاریخ صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔ یعنی 27 رجب کی تخصیص صحیح حدیث یا قرآن میں موجود نہیں بلکہ یہ بعد میں روایت کی شکل میں رائج ہوئی۔ کچھ علما نے اس تاریخ کو ایک مشہور روایت مانا ہے، جس کا ذکر کچھ تاریخ دانوں نے اپنی کتب میں کیا، مگر یہ ایک تاریخی روایت ہے، نہ کہ ثابت شدہ دینی دلیل۔ دینِ اسلام میں کسی دن یا رات کی خصوصی فضیلت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ قرآن یا سنتِ صحیحہ سے ثابت ہو۔ جب نہ قرآن کسی تاریخ کی نشاندہی کرے اور نہ حدیث، تو کسی خاص دن کو یقینی اور حتمی قرار دینا علمی دیانت کے مطابق نہیں۔ جبکہ واقعۂ معراج کی حقیقت خود قرآن و حدیث سے ثابت ہے، تاریخ یا مہینہ اس کی حقیقت میں شامل نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم واقعۂ معراج کے اسباق کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، نمازوں کی عظمت کو سمجھیں، ملازمت، عبادت، تقویٰ اور روحانیت میں اس کی تعلیمات کو اپنائیں، مگر کسی ایسی تاریخ کو دین کا لازمی حصہ نہ بنائیں جس پر قرآن و حدیث کی واضح دلیل موجود نہ ہو۔ یہی تحقیق، یہی اعتدال، اور یہی علمی روش ہے جسے اہلِ علم نے امت کے سامنے رکھا ہے۔ تحریر: مالک سرفراز حسین اعوان |
|