کچھ بات پیشوں کی

(Kashit Butt, )

پیشہ کوئی بھی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ جو شخص محنت کر کے اپنی ضروریات پوری کرتا ہے وہ لائقِ تحسین ہے اور جو چور راستوں سے مال جمع کرے یا اپنی ضروریات پوری کرے وہ اپنا ظاہر جتنا بھی سنوار کے رکھے اس کا باطن بے ترتیب اور الجھا ہوا ہی رہتا ہے۔ باطنی سکون کا راستہ قناعت کے ساتھ جڑا ہے جو سب کو میسر نہیں ہوتی۔ لیکن کام کی نوعیت اور طریقہ کار سے ہٹ کر کچھ پیشے ایسے بھی ہیں کہ جن کا ذکر بعض مواقع پہ کچھ خصلتوں کے اظہار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی استعمال کے دوران یقینا یہ اظہار استعاراتی یا علامتی طور ہی شروع ہوا ہو گا کہ جیسا کہ اب بھی ہو رہا ہے لیکن بعد کے لوگوں نے پیشہ کو ہی ہدفِ تنقید جان لیا۔ جیسا کہ کسی کو نائی کہنا دراصل حجام کے پیشے پہ تنقید نہیں ہے بلکہ اس خصوصیت کا اظہار ہے کہ جو حجام کے ہاں عموماً دیکھنے کو ملتی ہے۔ روزانہ بے شمار لوگ اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔ اسے خدمت کا موقع دیتے ہیں اور ہزاروں باتیں کرتے ہیں۔ اب ایک شخص سارا دن طرح طرح کے لوگوں سے ملتا ہے تو اس کے پاس اپنی ذات سے جڑی باتیں کتنی ہوں گی جو وہ کرے گا۔ بولنے کو منہ میں کچھ تو ہونا چاہیے ورنہ آنے والا دوبارہ کیسے ایسے میزبان کے پاس آئے گا جو منہ میں زبان نہ رکھتا ہو۔ سو میزبان کے پاس ایک ہی حل بچتا ہے کہ ایک سے کی ہوئی بات دوسرے سے چھیڑ دی جائے اور یوں چل سو چل…… یہ اس کی ضرورت ہے کہ اس نے اپنا کام چلانا ہے۔ آپ اسے ضرورتِ پیشہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ جو کہنا ہے اس میں صداقت کتنی ہے یا ہے بھی کہ نہیں کیونکہ وہ نہ تو مؤرخ ہے، نہ خبر نویس اور عہدِ جدید کے مطابق نہ ہی وزیرِ اطلاعات و نشریات۔ اب اگر کسی اور شخص میں ایسی خصلت پائی جائے تو اسے ’’نائی‘‘ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ کیونکہ یہ ایک لفظ اس کا مکمل تعارف کروانے میں کامیاب ٹھہرتا ہے۔

اسی طرح فقیر کا لفظ عموماً ایسے شخص کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے جو مانگ کر اپنا گزارا کرتا ہے۔ لوگ منگتوں کو دھتکارنے سے قبل رتی برابر بھی تفکر نہیں کرتے لیکن مانگنے کی تاریخ کھنگالنے کی کوشش کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ جو آج ایک پیشے کی صورت اختیار کر چکا ہے کسی زمانے میں بالکل منفرد نوعیت کا ایک عمل تھا۔ بدھ مت کی تاریخ میں مانگنا یکسر مختلف صورت میں نظر آتا ہے۔ بدھا خود لوگوں کے دروازے پہ جایا کرتے تھے۔ لوگ انھیں کھانا دیتے تھے اور وہ لوگوں کو اپدیش۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ بدھا جب نروان پانے کے بعد اپنے والد کو ملنے ان کی ریاست میں گئے تو پوری ریاست اپنے شہزادے کے استقبال کی تیاریوں میں جتی ہوئی تھی۔ جشن کا سماں بندھا تھا لیکن بدھا ریاست میں ایک فقیر کی صورت داخل ہوئے اور ہر گھر کے دروازے پہ دستک دے کے جھولی پھیلائی۔ہر دروازے پہ بدھا کا استقبال آنسوؤں سے ہوا کیونکہ شہزادہ برسوں بعد ریاست میں آیا تھا اور وہ بھی ہاتھ پھیلا کر…… خیر بدھا کا یہ فلسفہ پیشہ ور گداگروں سے مختلف ہے۔ اس کے لیے شہزادگی چھوڑ کر فقیر ہونا پڑتا ہے۔ وقت گزرا تو مانگنا ایک پیشہ بن گیا۔ اب باقاعدہ ٹھیکوں پہ یہ کام ہوتا ہے۔ کچھ ہاتھ پھیلاتے ہیں اور کچھ ہاتھ پھیلانے والوں کی پشت پہ ہوتے ہیں۔ اب کوئی آپ سے موبائل میسج پہ بیس روپے کا ایزی لوڈ مانگے یا کسی اور ذریعے سے لاکھوں مانگے۔ اسے مانگنے والا ہی کہا جائے گا۔ ہمارے ہاں تو وسیع پیمانے پہ مانگنے کی روایت موجود ہے۔ ہمارا حال تو اس منصف کی طرح کا ہے جس سے بادشاہ نے مشورہ چاہا کہ نئی آبادیوں کی تعمیر کے لیے پیسہ ضرورت ہے تو کیا کیا جائے۔ منصف کو معلوم تھا کہ دربار میں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے اپنے محلات کے تہہ خانے ناجائز مال سے بھر رکھے ہیں لیکن منصف نے بجائے کہ یہ مشورہ دیتا کہ لوٹا مال واپس نکلواؤ، یہ فرما دیا کہ عوام پہ محصولات کی شرح بڑھا دو۔ ایک مشورے کے ساتھ دوسرا مفت کے مصداق یہ بھی فرما دیا کہ عوام بڑی امیر ہے اس سے پیسہ مانگا بھی جا سکتا ہے کیونکہ نئی آبادیاں بھی تو عوام کے کام آنی ہیں جملہ حقوق بھلے ریاست کے رہیں۔ اور اگر کوئی شخص اس عمل پہ تنقید کرے گا تو عدالت غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے حاضر رہے گی۔ بادشاہ کو یہ تجویز بہت پسند آئی سو شد و مد کے ساتھ بھیک مانگنے کا عمل شروع ہو گیا۔ غداری کے مقدمے والی دھمکی نے ایسا اثر دکھایا کہ بیشتر بولنے والے ایسے خاموش ہوئے کہ جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔

مولوی ایک بڑا معتبر لفظ ہے۔ جو اگلے وقتوں میں علم کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ مسلمانوں کی تربیت میں مولوی کا کردار بڑا اہم رہا۔ ابتدائی دور میں یہ کام پیشہ کے عنوان سے آزاد تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ایک پیشہ کی صورت اختیار کر گیا۔ کچھ لوگوں نے تو اسے آبائی پیشہ کے مقام پہ پہنچا دیا۔ باپ کا انتقال ہوا تو مسجد بیٹے نے سنبھال لی۔ بیٹے کے بعد اس کے بیٹے نے اور یوں سلسلہ چلا جہاں تک چل پایا۔ جب مولوی کا پیشہ باقاعدہ ایک منظم صورت اختیار کر گیا تو یہاں سے لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے ہونے لگے۔ گویا جو کام خدا کا تھا وہ بھی انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ابتدائی طور تو ان کی قیام گاہیں مساجد و مدارس تھے لیکن بعدازاں یہی مساجد و مدارس فتوی سازی کے کارخانے بن گئے۔ اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ تمام لوگ بھی مولوی کہلانے لگے جو دوسروں کے کفر و ایمان کو ماپنے میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس کی تازہ مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ جہاں ایک شخص کو اس لیے مشرک قرار دیا گیا کیونکہ اس نے ایک دربار پہ جابجا سجدے کیے تھے اور ایک شخص کو مضبوط معاشی پسِ منظر رکھنے کے باوجود صرف اس لیے ایک معاشی ادارے کی مشاورتی مجلس میں قبول نہ کیا گیا کہ اس کا عقیدہ ریاستی قانون کے مطابق کفر پہ قائم ہے۔ انتظامی امور میں ایسے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے جو انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں نہ کہ ان کا عقیدہ۔ عقیدہ انتظامی امور بگاڑ تو سکتا ہے سنبھال نہیں سکتا۔ ماہِ محرم چل رہا ہے۔ آج کل پھر کفر و شرک کے فتوے بانٹے جا رہے ہیں۔ دور نہیں وہ دن جب ریاست آئینی طور شیعہ کو بھی کافر قرار دے گی۔
ہر ایک شخص کا ایمان تولنے والو
یہ اختیار خدا کا ہے آدمی کا نہیں

ایک پیشہ موچی کا بھی ہے۔ یہ خدمت کا کام ہے اور خدمت کا صلہ توخادم کو خوب ملتا ہے۔ اس پیشہ کی خوبی ہے کہ اتنے اچھے سے سیاہ رنگ کو چمکاتے ہیں کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھتا ہے۔ خدمت میں اپنی قمیص کا دامن بھی استعمال کرنے سے دریغ نہ کرتے۔ یہ جھکے ہوئے رہتے ہیں۔ دوسرے کی خوشنودی ان کا دین ایمان ہوتا ہے۔ دوسرے کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے اس کی انھیں پرواہ نہیں ہوتی۔ آپ انھیں سادہ لوح بھی کہہ سکتے ہیں جو اپنا استحصال خود کروا رہے ہوتے ہیں۔ آج کل ان کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ اور لطف کی بات ہے کہ ان کے اندر ان پیشوں کی خصوصیات بھی شامل ہو گئی ہیں جن کا ذکر اوپر کیا ہے۔
ژژژ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kashit Butt

Read More Articles by Kashit Butt: 25 Articles with 10605 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2018 Views: 503

Comments

آپ کی رائے