"دشت ظلمات اور ہاجرہ بے اماں " ( دوسری قسط) ☆☆

(Mona Shehzad, Calgary)

میں نے یک بارگی ڈائری کو بند کیا اور مجھے لگا جیسے میرا ماضی میری آنکھوں کے آگے ایک فلیش بیک کی طرح چل پڑا ہو، جب نانا جان کی وفات کی خبر ہمیں ملی تو ابو کی تقرری ڈنمارک میں تھی۔میرا سارا بچپن اور لڑکپن مختلف ممالک میں گزرا تھا، ابو کی فارن آفس کی جاب کے باعث ہم نے تقریبا تمام دنیا دیکھ لی تھی۔

میں اپنی تعلیماتی مصروفیات کا بہانہ کرکے بہت عرصے سے پاکستان نہیں گئی تھی ۔مگر اب ہائی اسکول میرا ختم ہوچکا تھا۔اس دفعہ امی نے میرے سارے بہانے اور اعتراضات رد کر کے مجھے ساتھ پاکستان لے جانے کا فیصلہ کیا ۔ابو نے بھی میرے احتجاج کے باوجود فیصلہ سنا دیا کہ اب ہمیں پاکستان میں ہی مستقل بنیاد پر رہنا ہے اور مجھے مزید تعلیم پاکستان ہی سے حاصل کرنی ہے۔۔مجھے اپنے والدین کہ اس نامعقول فیصلے پر شدید اعتراض تھا۔میں یورپ میں رہ کر بہترین تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔مگر میری شنوائی نہ ہوئی۔جب جہاز لاہور ایرپورٹ پر لینڈ ہوا تو میری کوفت عروج پر تھی۔کسٹم سے فارغ ہوکر باہر نکلے تو استقبال میں کھڑے شخص کو دیکھ کر یک بارگی میری کوفت ، دلچسپی میں بدل گئی ۔ یہ میری" سجاول علی خان" سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، میں اپنی تعلیم میں اور دوستوں میں ایسی مگن تھی کہ امی کے رشتہ داروں سے کبھی ملاقات یا چیٹنگ کا خیال تک نہیں آتا تھا۔امی مختلف وقتوں میں اپنے بھائیوں کا زکر کرتیں مگر مجھے ان کے زکر سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں ہوئی تھی۔آج پہلی بار ایر پورٹ پر کھڑے سجاول علی خان کو دیکھ کر میرے دل کی دھڑکنیں بے اختیار ہی بے ترتیب ہونے لگی تھیں۔میں نے دل ہی دل میں خود کو کوسا کہ میں پہلے پاکستان کیوں نہیں آئی ۔سجاول ایک دراز قامت اور وجیہہ شخصیت کا مالک تھا۔ میں نے بڑے بڑے وجیہہ مرد یورپ کے قیام کے دوران دیکھے تھے ، مگر اس کو دیکھ کر ایسے لگتا تھا جیسے کوئی یونانی دیوتا انسانی شکل اختیار کرکے زمین پر آگیا ہوں۔ اس کو دیکھ کر بے اختیار میرے ذہن میں کہیں پڑھا ہوا جملہ گونجا:
"وہ آیا اور اس نے فتح کرلیا۔"
وہ بڑی خوشدلی سے امی سے گلے ملا، مجھے اندازہ ہوا کہ امی اکثر اسی کی تعریف میں رطب السان رہتی تھیں ۔وہ سرخ گلابوں کا ایک بوکے لایا تھا ،جو اس نے مجھے دیا اور مسکرا کر بولا:
Welcome to Pakistan, my dear cousin.
میں نے کسی شخص کی اتنی دلکش مسکراہٹ آج تک نہیں دیکھی تھی ۔اس کی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کو اچانک چمکا دیا تھا،اس کے لب ،آنکھیں، رخسار ہر نقش مسکراہٹ کی تصویر بن گیا تھا، سب سے خوبصورت اس کے گالوں کے ڈمپل تھے۔ مجھے ایسے لگا جیسے میرا دل میرے جسم کے پنجرے سے نکل کر اس جادوگر کی مٹھی میں قید ہوگیا ہو۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ شاید پاکستان واپس آنا درحقیقت میری زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ تھا۔ گاڑی میں سفر کے دوران وہ ہمیں لاہور کی سڑکوں اور اہم مقامات کے نام بتاتا رہا۔گاڑی جب ڈیفنس میں بنی شاندار کوٹھی میں داخل ہوئی تو میں نے سکھ کا سانس لیا ۔زندگی پاکستان میں اتنی بری بھی نہیں تھی جتنی میں نے تصور کی ہوئی تھی۔۔ کوٹھی کے گرد پھیلے وسیع وعریض باغ نے مجھے بڑا متاثر کیا۔اتنا بڑا باغ اور گھر باہر کے ممالک میں ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اندر سے بھی کوٹھی بہت ہی خوبصورت اور وسیع وعریض تھی۔کوٹھی میں موجود فرنیچر،آرائشی اشیا،فانوس اور نوکروں کی فوج ، رہنے والوں کی امارت کا پیغام دے رہی تھی۔ میں نے بے اختیار ہی سجاول سے پوچھا:
یہاں کتنے لوگ رہتے ہیں؟
وہ مسکرایا اور بولا:
"ویسے تو ممی، پاپا اور میں رہتے ہیں، مگر اب تم آگئی ہو تو تم اور پھپھو بھی یہیں ہمارے ساتھ ہی رہینگے ۔"
میرا دل کیا کہ اس کو کہو کہ میں تو ہمیشہ تمھارے ساتھ رہنا چاہونگی ۔ مگر اپنے اس بے باک خیال پر اچانک مجھے خود ہی شرم آگئی ۔ شام کو ہماری ملاقات منجھلے ماموں اور ممانی جان سے ہوئی ،ماموں جان ملتان سے اپنا کوئی سیاسی دورہ کرکے لوٹے تھے۔ممانی بھی ان کی کمپین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں ۔ دونوں بہن بھائی کچھ دیر مرحوم ابا کو یاد کرکے آنسو بہاتے رہے۔طے یہ پایا کہ اگلے روز سجاول ہمیں ہمارے آبائی گاؤں لے کر جائے گا۔
اگلے روز میں نے اپنی تیاری پر وقت لگایا، میں نے سرخ اور سیاہ رنگ کا جوڑا پہنا، مجھے پتا تھا کہ یہ رنگ مجھ پر انتہائی پبھتا ہے۔ میں نے انتہائی نفیس میک اپ کیا، ہلکی سی جیولری پہنی، میں سجاول کو اپنے حسن کے تیروں سےگھائل کر کے اسے اپنا بنانا چاہتی تھی۔
۔میں ارادتا امی کے آنے سے پہلے ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ سجاول اپنے فون پر کسی فیضی نامی شخص سے بات کررہا تھا۔ میں نے ارادتا اپنی چوڑیاں کھنکائیں مگر سجاول تو گپ شپ میں مصروف تھا۔ میں نے کن اکھیوں سے سجاول کا جائزہ لیا۔ سفید کرتا شلوار ، تلے والی جوتی ، ہاتھ میں راڈو کی گھڑی باندھے وہ واقعی غضب کا وجیہہ لگ رہا تھا۔ اس کے ملبوس سے پرفیوم کی مسحور کن خوشبو آرہی تھی۔میری ساری تیاری کہ آگے اس کی تیاری ہی مجھے مات دے رہی تھی۔ امی کے آنے پر اس نے فون بند کیا اور گاڑی سڑک پر ڈال دی۔ میں نے جان کر اس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کہا:
یہ پاکستان میں مرد بھی عورتوں جیسی تلے والی جوتیاں پہنتے ہیں؟
سجاول کی گھنی مونچھوں کے نیچے لب یک دم مسکرائے:
مائی ڈیر کزن یہ abroad رہ کر بھی تم اتنی اچھی اردو کیسے بول لیتی ہو؟
اس بات کا جواب امی نے میری جگہ پر دیا:
"بیٹا سجاول! ہم نے بانو کا رشتہ اپنی زبان،مذہب اور ثقافت سے جوڑے رکھا ہے۔"
میں نے امی کی بات کاٹی اور بولی:
اپنی زنانہ جوتی کی وضاحت کیجئے ۔
سجاول ہنس کر بولا:
"بھی یہ زنانہ نہیں سو فیصد مردانہ جوتا ہے اور یہ مجھے شلوار قمیض یا کرتہ شلوار کے ساتھ پہننا بہت پبھتا ہے۔ یہ ملک سجاول علی خان کا اپنا اسٹائل ہے۔"
میرا دل کیا کہ اس ظالم کو بتاوں کہ تجھ پر تو ہر شے ہی اچھی لگتی ہے اور مجھ سے پوچھو کہ یہ تلے والی جوتی درحقیقت تم پر کتنی جچی تھی مگر اس بات کا اظہار میں اسے کیسے کرتی ۔لہذا خیال دل میں ہی رہا۔
جب ہم "مریداں والی " پہنچے ، تو شام کا جھٹپٹا سا تھا، نانا جان کی نیلی حویلی کچھ ہیبت ناک سی لگ رہی تھی۔ حویلی کے باہر مسلح گارڈز موجود تھے، بڑے بڑے السیشین کتے باغ میں کھلے پھر رہے تھے ۔میرے پوچھنے پر سجاول نے بتایا کہ یہ سب سیکیورٹی کے انتظامات ہیں ۔
میں نے پہلی بار اپنے بڑے ماموں اور ان کے تینوں بیٹوں کو دیکھا۔ مجھے لگا کہ وجاہت کا ٹھیکہ تو جیسے میرے نانکوں نے اٹھایا ہوا تھا ۔میرے ماموں اور ان کے بیٹے سب بہت وجیہہ و شکیل تھے، مگر سجاول کے قد اور وجاہت کے آگے کچھ کچھ دبے دبے سے لگ رہے تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ سجاول سب سے زیادہ طویل قامت تھا ، میں ابھی سجاول کا موازنہ اپنے دوسرےکزنز کے ساتھ کرنے میں مصروف تھی کہ دروازہ کھلا اور وہیں پہلی بار میں نے ہاجرہ کو دیکھا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے سنڈریلا اپنا Ball چھوڑ کر بھٹکتی ہوئی ادھر مریداں والی میں آگئی ہے ۔مجھے یاد ہے اس روز ہاجرہ نے سفید غرارہ سوٹ پہنا ہوا تھا، اس کی لمبی چوٹی اس کے دوپٹے کے پلو کے نیچے سے نظر آرہی تھی ۔میں ہاجرہ کا بے پناہ حسن دیکھ کر ایک دم خوفزدہ ہوگئی ۔میری نظر بے اختیار ہی سجاول کی طرف اٹھی، میری دھڑکن تھم سی گئی، شہزادے کی آنکھیں شہزادی کو دیکھ کر خواب بن رہی تھیں ۔اس کی پرشوق نظریں ہاجرہ کے مکھ کو چوم رہی تھیں ۔شہزادے کے لب،آنکھیں، گال ہر عضو مسکرا رہا تھا۔اس کے گالوں کے ڈمپل اور گہرے ہوگئے تھے۔ میں نے یک دم اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کیا۔ میرے اندر سے کوئی چیخا:
بانو! اپنا پیار اتنی آسانی سے مت ہار ۔
مجھے زندگی میں پہلی بار ایسے لگا کہ اگر میں سجاول کو ہار گئی تو سب کچھ ہار جاونگی۔
کیا بانو کا قیافہ درست تھا کہ شہزادہ درحقیقت شہزادی کے عشق میں پاگل تھا، اس راز پر سے پردہ تو اگلی اقساط میں ہی اٹھ سکے گا ۔
(باقی آئندہ )☆☆☆

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175010 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
22 Sep, 2018 Views: 377

Comments

آپ کی رائے