میں فرات ہوں

(Rabia Fatima, )

میں فرات ہوں.... جب سے جاری ہوا ہوں انسانوں کے کئیں روپ دیکھے۔۔۔ حسین سے حسین دن سفاک سے سفاک رات کا نظارہ کرچکا ہوں لیکن 61ھ محرم الحرام کے وہ دس دن نہ کبھی اس سے پہلے دیکھے تھے نہ ہی اس کے بعد کبھی دیکھے۔۔۔میں فرات ہوں۔۔ میں نے دس محرم الحرام کو خاندان رسالت کے چراغوں کو ایک ایک کر کے بجھتے ہوئے دیکھا ہے۔۔ ان کے مقدس جسموں پر لگتے ہوئے تیروں کو دیکھا ہے۔۔ میں نے ان تلواروں کو بھی دیکھا جو ٹوٹ تو گئیں مگر یزیدی لشکر کے آگے نہ جھکی۔۔۔میں نے ان پاکباز جسموں کو زخموں میں چور دیکھا ہے میں نے دیکھا ہے شہزادوں کی قیمتی جانوں کو عشق میں قربان ہوتے ہوئے۔۔۔ میں نے رسول کے گھرانے کے نادر و نایاب موتیوں کو میدان کرب و بلا میں نیزوں پر عشق کا درس دیتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔ تلواروں کے سائے میں عشق کا وہ سبق پڑھایا کہ رہتی دنیا تک جب بھی جہاں بھی عشق کا نام لیا جائے گا نام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ضرور لیا جائے گا۔۔۔۔میں فرات ہوں ۔۔۔۔۔میں نے پیاسے ہونٹوں سے الله اكبر کی صدا کو بلند ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔۔۔ میں نے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سر اقدس کو سجدے میں کٹتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔۔میں نے حضرت عباس کے بازوؤں کو کٹتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔ میرا عشق کہتا تھا کہ لشکر یزید کو چیرتا ہوا نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی پا بوسی کا شرف حاصل کروں لیکن میں منتظر حکم تھا کہ کب حکم ملے اور میں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو سیراب کرسکوں ۔۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی آواز پر لبیک کہہ سکوں۔۔۔لیکن وہ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تھے صبر کی انتہاؤں سے واقف عشق کی منازل سے آشنا۔۔۔ ہر حال میں اللہ کی پاکی بیان کرنے والے اسکا شکر کرنے والے تھے۔۔۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نور نظر اور حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے لخت جگر نے عشق میں جان کی بازی لگا دی تھی ۔۔۔جان کی بازی لگ چکی تھی ۔۔۔ آخری خون کا قطرہ گر چکا تھا۔۔۔ آخری سجدۂ عشق ادا کیا جا چکا تھا۔۔۔آخری عشق کی نماز ادا کی جا چکی تھی۔۔۔ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میدان کربلا میں عشق کا نصاب اپنے خون سے لکھ چکے تھے۔۔۔۔بتا چکے تھے کہ جتنا عشق شدید ہوگا امتحان اتنا ہی سخت ہوگا۔۔۔۔۔
وہ عشق کے دریا سے سیراب۔۔۔ میں ان کے عشق کا پیاسا۔۔
آج بھی کرب و بلا کی سر زمین سے مؤدبانہ گزرتا ہوں اور اس جگہ کو چومتا ہوں جہاں حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے قدم میرے کناروں سے لگے تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے آخری سجدہ کیا تھا۔۔۔ اس جگہ کو سلام محبت پیش کرتا ہوں جہاں حضرت قاسم نے جان شہادت نوش فرما کر۔۔ جہاں علی اکبر نے بہادری کے جوہر دکھا کر۔۔ ننھے علی اصغر نے کم سنی میں شہادت کا رتبہ پاکر ۔۔۔ دین اسلام کے پرچم کو سر نگو نہ ہونے دیا۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabia Fatima

Read More Articles by Rabia Fatima: 48 Articles with 28012 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2018 Views: 657

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ