"دشت ظلمات اور ہاجرہ بے اماں "( پانچویں قسط )۔

(Mona Shehzad, Calgary)

جب مجھے ہوش آیا تو میں صوفے پر دراز تھی،فیضان پریشانی سے میری ہتھلیاں سہلاتا میرا نام پکار رہا تھا، مجھے ہوش میں دیکھ کر وہ زرا پرسکون ہوا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں مر گئی ہوں۔ میں لرزتی ہوئی اٹھ بیٹھی، فیضان نے میری پشت پر کشن لگائے، میرا گلہ خشک تھا، میں نے بولنے کی کوشش کی مگر میرے حلق سے آواز برآمد نہیں ہوئی ۔فیضان بھاگ کر پانی لایا ، میں نے ایسے پانی پیا جیسے میں صدیوں سے پیاسی تھی ۔ میں نے شکوہ کناں نظروں سے فیضان کی طرف دیکھا ۔اس نے مجھ سے آنکھیں چرا لیں۔ میں لرزتے ہوئے بولی:
"فیضی! یہ ملک سجاول علی خان کا اصل چہرہ ہے؟
تم سب کچھ جانتے ہوئے ہاجرہ کو اس اندھے کنویں میں کیسے دھکیل سکتے ہو؟"
فیضان نے دیوار پر زور سے مکہ مارا اور لاچارگی سے بولا :
"بانو میں ہاجرہ کو سب کچھ بتا چکا ہوں ۔مگر نجانے وہ کس مٹی کی بنی ہے اس پر کسی بھی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ سجاول علی خان شہزادہ نہیں ہے بلکہ ظالم جادوگر ہے۔"
میں بے اختیار سسک پڑی اور بولی :
"فیضی! یہ بے راہ روی کب سے چل رہی ہے؟"
فیضان اٹھ کر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کھوئے کھوئے لہجے میں بولا:
'بانو ! چچا جان نے جو بیٹے کو وراثت میں دیا ہے وہ "سود" کے ساتھ ان کو لٹا رہا ہے۔ جب چاچو لاہور آئے اور سیاست میں انھوں نے قدم رکھا، تو نہ جانے کیوں حلال، حرام کی تمیز بھلا بیٹھے۔وہ طاقت اور اختیار کے نشے میں چور اپنی نہ صرف کمائی کو کمیشن سے ناپاک کرتے گئے، بلکہ ان کی ہوس کا درندہ بھی آزاد ہوگیا۔بہت سے اچھے گھرانوں کی لڑکیوں نے اپنی عصمت کھوئیں کیونکہ چچا جان نے اگر کہیں کوئی نازنین دیکھ لیتے تو جب تک وہ ان کے بستر کی زینت نہ بنتی اس کی اور اس کے پیاروں کی زندگی پر اجل کا سایہ منڈلاتا رہتا۔۔چچا جان کسی کو لالچ کی مار مارتے، تو کسی کو خوف کے سائے تلے حاصل کرتے اگر کوئی بااثر گھرانے کی لڑکی ہوتی تو اس کی عصمت پر شب خون مار کر لوٹ لیتے۔ کئی شریف گھرانوں کی لڑکیوں نے خودکشی کرکے اپنے آپ کو ان کی ہوس سے محفوظ کرلیا۔وہ ایسے جابر اور ظالم حکمران تھے ،جس کے آگے زبان کھولنے والے کا انجام صرف عبرت ناک موت ہوتا تھا۔ سجاول ایک اچھے انسان سے کس طرح "شکاری "بنا ، مجھے پتا ہی نہیں چلا ، بس وہ گناہ کی کھانی میں گرتا گیا اور میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھٹ گیا۔ مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا دیدہ دلیر ہوجائے گا کہ ساری بے حیائی اور بے غیرتی کا سیلاب وہ اپنے گھر تک بھی لے آئے گا۔شاید میرے ذہن کے نیہاں خانے میں ابھی بھی یہ طفلانہ امید تھی کہ وہ سنبھل جائے گا۔ میں ہر نماز کے بعد سجاول کی سیدھے راستے پر آنے کی دعائیں مانگتا ہوں، مگر مجھے لگتا ہے اللہ تعالی نے ابھی "فیکون" نہیں کہا۔شاید میری عبادات ابھی خام ہیں، شاید میرے عشق کا ابھی "ع" بھی مکمل نہیں ہوا۔"
فیضان علی خان کی پشت میری طرف تھی، مگر اس کی بھرائی ہوئی آواز اس کی روح پر گزرتی اذیت کی نشاندہی کررہی تھی۔
وہ دل گرفتہ سا بولا:
"بانو! میں نے تو محبت کے پرندے کو آزاد کردیا ہے، مگر پتا نہیں کیوں فصیل جاں خالی سی ہوگئی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ میں سانس ضرور لیتا ہوں مگر زندہ نہیں ہوں ۔میں بہت تھک گیا ہوں بانو۔ میں ہاجرہ کا دکھ نہیں دیکھ پاونگا۔ "
مجھے اس کی سانسوں کے زیر وبم سے پتا چل رہا تھا کہ وہ بانکا، سجیلا نوجوان رو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اپنی محبت کے ناکام فسانے کے نہیں تھے، بلکہ وہ تو" اپنی محبت " کے گھائل ہونے کے خیال سے خوفزدہ تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ اس کہانی کا اصل شہزادہ تو فیضان علی خان تھا، جس نے اپنے آپ کو ایک عام شخص کے بھیس میں چھپایا ہوا تھا اور جس کو میں شہزادہ ( سجاول علی خان )سمجھی تھی وہ تو درحقیقت ایک ظالم جادوگر تھا۔ شہزادی ہاجرہ کے لئے میری آنکھوں میں بھی طغیانی آگئی ۔میں اب بھول بھلیوں کے اس دوراہے پر کھڑی تھی، جس میں مجھے قطعا اندازہ نہیں تھا کہ کس راستے پر چل کر میں شہزادی کو جادوگر کی قید سے آزاد کروا سکتی تھی۔
میں ہولے سے اٹھ کر فیضی کے پاس گئی اور اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا اور مدہم لہجے میں بولی :
"فیضی! چلو کوئی ایسا سوانگ رچاتے ہیں کہ ہماری شہزادی اس ظالم جادوگر کی قید سے آزاد ہوجائے۔"
فیضی میری طرف مڑا، میری اور اس کی نگاہ ملی ، پہلی بار مجھے لگا جیسے کائنات ساکن ہوگئی ہو ،صرف میں اور فیضی اس" لمحے" کی حقیقت تھے۔ میری محبت کا پرندہ فیضان علی خان کی منڈیر پر بیٹھ چکا تھا۔ میرے دل کی دھڑکن کی آواز مجھے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ فیضی بھی شاید مجھ سے نظریں اٹھانا بھول گیا تھا ۔ ہم نجانے کب تک ایک دوسرے میں ڈوبے رہتے ،اگر شیف ناشتے کا پوچھنے نہ آتا۔ میں اور فیضی اچانک حقیقت کی دنیا میں واپس آگئے ۔فیضان بے اختیار سنبھل کر مجھ سے دور ہوکر صوفے پر بیٹھ گیا۔ مجھ سے بھی وہاں رکا نہیں گیا ،میں اپنے کمرے میں آگئی ۔
اگلے ہفتے جب میں "مریداں والی " گئی تو اب کی دفعہ میں سیدھی ہاجرہ کے گھر اتری ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میں فیضان علی خان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی، مجھے پتا تھا کہ وہ واپس گھر آیا ہوا ہے۔ ہاجرہ باغ میں پودے لگوا رہی تھی ۔مجھے دیکھ کر وہ والہانہ طور پر مجھ سے لپٹ گئی۔ میں بھی اس کو دیکھ کر شاد ہوگئی ۔ڈوبتے سورج میں ہاجرہ دھانی پوشاک پہنے ایک خوبصورت مالن لگ رہی تھی۔میں باغ کے پھولوں اور ہاجرہ کے بیچ فیصلہ کرنے سے قاصر تھی کہ دونوں میں سے زیادہ حسین، نرمل اور معصوم کون تھا؟۔میں اس گومگو میں گرفتار تھی کہ اچانک فیضان علی خان بھی باغ میں داخل ہوا۔ براون کرتے شلوار میں ملبوس اپنے آپ سے ہمیشہ کی طرح بے پرواہ، بکھرے ہوئے بالوں والا وہ مجھے تو بہت ہی اچھا لگا۔ میں اپنے آپ سے خوفزدہ تھی ،میری زات کا طلسم کدہ میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ فیضان کی آنکھیں مجھ سے ملیں تو بے اختیار ہی اس کی نیلی آنکھیں جگمگا اٹھیں ۔میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ۔میں نے گمان کیا شاید وہ ہاجرہ کو دیکھ رہا ہے مگر وہ سیدھا میری طرف آیا اور بولا:
"بانو! آنے کی اطلاع نہیں دی ورنہ لاہور سے ہی اکٹھے سفر کرتے، میں سارا سفر بور ہوتا رہا۔"
اس کی فسوں کار آنکھیں میرے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل کر رہی تھیں ۔میں نظریں چرا کر بولی:
اچانک ہی پروگرام بنا اس لئے خیال نہیں رہا۔"
میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ سینے پر ہاتھ باندھے، میرے بہت قریب کھڑا تھا۔اس کے مونچھوں تلے لب مسکرا رہے تھے، اس کی آنکھوں میں ایک اشتیاق سا تھا۔ اس کا سایہ مجھ پر پڑھ رہا تھا ۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ زمان و مکاں ساکن ہوگئے ہوں ۔"لامحدود" کا عنصر آج بس اس لمحے پر "محدود" ہوگیا ہو۔ اچانک ہاجرہ معنی خیز انداز میں کھانسی اور ہم دونوں لمحے کی قید سے آزاد ہوگئے۔
ہم دونوں اس نئی حقیقت کے آشکار ہونے پر حیران و پریشان تھے ۔ہم جان چکے تھے کہ درحقیقت محبت کا دیوتا ہم پر مہربان ہوچکا تھا۔شاید اس آگاہی سے روشناس ہوتے ہی فیضان بھی ششدر سا تھا وہ اچانک ایک ضروری کام کا بہانہ کر کے بڑے بڑے ڈگ لیتا ،چھوٹے ماموں جان کی حویلی سے نکل گیا۔ میں بھی اس نئی واردات دل سے حیران پریشان ہاجرہ کے ساتھ حویلی کی طرف چل پڑی۔
یہ عشق نہیں ہے آسان اتنا تو میں جان چکی تھی ۔اب کیا ہم ایک دوسرے سے حال دل کہہ بھی پائینگے؟
(باقی آئندہ )☆☆
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175726 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
25 Sep, 2018 Views: 463

Comments

آپ کی رائے