حصول منزل کا راستہ قرآن ھے

(Babar Alyas, Chichawatni)
قرآن پاک اللہ پاک کی طرف سے انسان کی رہنمائی کے لیے نازل کی گئ مکمل کتاب ھے جو سرور کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طفیل اللہ کی طرف سے نازل کی گئ ھے اس کتاب کا موضوع بھی انسان ہی ھے اور انسانی فلاح کے بہترین اصول ترتیب دئیے گۓ ہیں لہذا اگر اس کتاب کے بے مثال, لازوال, انمول اصولوں کے مطابق انسان چلتا ھے تو وہ کامیاب ؤ کامران ھے ورنہ دنیا ؤ أخرت کی رسوائی مقدر بن جاتی ہے.....

اللہ تعالی کا ارشاد ھے کہ
فَان اٰمنو ابمثل ما امنتھم بہ فقد اھتدو
امت مسلمہ میں سے کسی بھی انسان کو اپنی منزلِ ایمان کی فکر ہوگی تو اُس کے لیے منزل کے حصول کا ایک ذریعہ ہی نظر آتا ہے وہ ہے قرآن جس میں کائنات کے خالق کائنات نے تمام قانون و نظریات جو کہ انسان کے ایمان کو کمزور اور طاقت ور کر سکتے ہیں۔ تما م کا ذکر فرما دیا ہے اب یہ مسلمان پر ہے کہ وہ کیسے منزل ایمان تک جا سکتا ہے۔ آج میں جس آیت قرآنی کے بارے میں لکھنے کی جسارت کر رہاہوں وہ سورۃ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت ہے سورۃ بقرہ کے شروع سے لے کر اس آیت تک ایمان کی حقیقت کو کہیں مفصل اور کہیں مجمل میں بیان کیا گیا ہے۔ مگرا للہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک ایسا اجمال جو تمام قسم کی تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے۔ بیان فرما دیا ہے۔ کیونکہ (امنتم) کے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ میں اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی حکم بھی جاری فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و معتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اختیار فرمایا ہے جو اعتقاد اس سے سرمو مختلف ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مقبول نہیں (قرآن میں ایک اور جگہ سورۃ انفال میں بھی ایسا ایک حکم آیا ہے کہ اللہ اور اُس رسول کی اطاعت کر و اگرایمان دار ہو)۔ سورۃ بقرہ کی آیت کے مطابق اگر منزل ایمانکی لذت سے روشناس ہونا چاہتے ہیں تو اس کی توضح یہ ہے کہ جتنی چیزوں پر یہ حضرات ایمان لائے ان میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو اور جس طرح اخلاص کے ساتھ ایمان لائے اس میں فرق نہ آئے کہ وہ نفاق میں داخل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ذات و صفات ، فرشتے اور انبیاء و رُسل ، آسمانی کتابیں اور ان کی تعلیمات کے مطابق جو ایمان و اعتقاد رسول ﷺ نے اختیار کیا وہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہے۔ اس کے خلاف اس میں کوئی تادیل کرنا یا کوئی دوسرے معانی مراد لینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مردود ہے۔ فرشتوں اور انبیاء و رُسل کے لیے جو مقام آپ ﷺ کے قول و عمل سے واضح ہو اا اس سے ان کو گھٹانا یا بڑھانا ایمان کے منافی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ (مفتی اعظم پاکستان) معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ اس توضیح سے ان تمام باطل قوتوں کے ایمان کا خلل واضح ہو گیا جو ایمان کے دعویدار ہیں مگر حقیقت ایمان اور اصل منزل ایمان سے بے بہرہ ہیں کیونکہ زبانی دعویٰ ایمان کا توبت پرست مشرکین بھی کرتے ہیں۔ اور یہود و نصاریٰ بھی اور ہر زمانے میں زندیق و ملحد بھی ۔ مگر چونکہ ان کا ایمان اللہ پر اور رسولوں پر اور فرشتوں پر اور یوم قیامت وغیرہ پر اس طرح کا نہیں تھا جیسا رسول ﷺ کا ہے اس لیے وہ اللہ کے نزدیک مردود و نامقبول ہوا۔ مشرکین میں سے توبعض نے تو فرشتوں کے وجود کا ہی انکار اور بعض نے تو خدا کی بیٹیاں بنا دیا ۔ دونوں کی تردید قرآن کی آیت مبارکہ (بمثل ماامنتم بہ ) سے ہوگی ۔ یہود و نصاریٰ کے بعض گروہوں نے اپنے پیغمبروں کی مخالفت اور نافرمانی کی یہاں تک کہ بعض کو قتل بھی کر دیا اور بعض گروہوں نے ان کی عزت و عظمت کو اتنا بڑھایا کہ خدا، یا خدا کا بیٹا یا خدا کا مثل بنا دیا ۔ یہ دونوں قسم کی افراط و تفریط ضلالت و گمراہی قرار دی گئی۔ مگر یہاں مولانا صاحب مفتی اعظم پاکستان کی قبر کو اللہ نور سے منور فرمائے وہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ شریعت اسلام میں رسول ﷺ کی عظمت و محبت فرض ہے اس کے بغیر ایمان ہی نہیں ہوتا ۔ اور میںیہاں یہ کہنا غلط نہیں سمجھتا کہ آج اس عظمت و محبت اور ایمان کی مٹھاس اور منزل ایمان کی ان تشریحات سے امت محمدیﷺ کے اکثر افراد نکل چکے ہیں، جس کی وجہ سے زوال مسلمانوں کا مقدر بن چکا ہے تو میری اپنے ہم وطن مسلمان بھائیوں اور امتِ مسلمہ سے اپیل ہے کہ اگرایمان کی لذت پانا چاہتے ہو تو اپنے دل میں اپنی زندگی میں ایمان لاؤ اس طرح جس طرح قرآن کی اس آیت مبارکہ میں بیان فرمایا گیا ہے جس طرح اللہ کے نبی ﷺ اور اُ ن سے علم حاصل کرنے والی جماعت صحابہ کرامؓ کی ایمان لائی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو نبی کریم ﷺ کی عظمت و محبت اور ایمانی کیفیت ایسی مطلوب ہے جس طرح صحابہ کرامؓ کے دل میں سرور کائنات ﷺ کی تھی اور جس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات اس جماعت سے راضی ہوئی اور اُن کو اُن کے اس ایمان کی وجہ سے حقیقت ایمان اور منزل ایمان کے راستے آسان فرما کر ابدی زندگی میں جنت کی خوش خبری دے دی تو اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو صحابہ کرامؓ کی طرح نبی کریم ﷺ کی عظمت و محبت ، اطاعت ، فرمانبرداری اور ایمان کی مٹھاس نصیب فرمائے (آمین)۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90587 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
26 Sep, 2018 Views: 610

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ