"دشت ظلمات اور ہاجرہ بے اماں "۔( چھٹی قسط)۔

(Mona Shehzad, Calgary)

میں نے اپنی دھڑکن سنبھالتے ہوئے ہاجرہ سے کہا:
"ہاجو! مجھے بھوک لگی ہے۔"
ہاجرہ مسکرائی اور بولی :
"چلو مجھے بھی بھوک لگی ہے ،آج میں بھی راج کماری شہرزاد بانو کے ساتھ کھانا تناول کرونگی۔"
میں ٹھٹک کر بولی :
" ہاجو میرا مذاق اڑا رہی ہو؟ "
اس نے پیار سے میرا رِخ ڈائننگ ٹیبل کے پیچھے لگے ،آئینے کی طرف کردیا اور بولی :
"یہ بھنورا سیاہ آنکھیں، یہ سپید رنگت ، یہ سیاہ لمبی ذلفیں کسی راج کماری کی ہی ہوسکتی ہیں ۔"
میں نے زندگی میں پہلی بار اپنے آپ کو کسی اور کی نظر سے دیکھا اور
مجھے بے اختیار ہی شرم سی آگئی ۔
کھانے سے فارغ ہوکر میں یاجرہ کے ساتھ اس کے کمرے میں چلی آئی۔ اس کا کمرہ بھی واقعی کسی شہزادی کے شایان شان ہی تھا۔ پورا کمرہ beige اور lavender کی کلر سکیم میں سجا ہوا تھا ۔ کمرے میں پڑے فرنیچر میں بھی گولڈن اور lavender کی کلر سکیم تھی۔ دبیز قالین میں میرے پیر دھنس رہے تھے، کمرے کے ایک کونے میں ایک دروازہ دیکھ کر مجھے اشتیاق ہوا لہذا میں نےاس کو بے تابی سے کھولا ،دروازہ کھلتے ہی مجھے بہت ہی خواشگوار حیرت کا سامنا ہوا وہ درحقیقت ایک محض دروازہ نہیں تھا بلکہ ایک گمشدہ جنت کی دریافت تھا۔ میں نے یورپ میں قیام کے دوران بڑے بڑے خوبصورت botanical gardens میں سیر کی تھی مگر میری نظر کے سامنے آنے والا ہاجو کا باغ تو ایک عجب ہی منظر پیش کررہا تھا ، باغ میں خوشبودار پھولوں کی مہک پھیلی ہوئئ تھی ،رنگ و بو کا ایسا امتزاج میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔باغ کے ایک کونے میں چھوٹا سا pond تھا ،جس میں کنول کے پھول کھلے ہوئے تھے pond میں ایک بطخوں کا جوڑا خر مستیوں میں مصروف تھا۔ غور کرنے پر احساس ہوا کہ pond میں رنگ برنگی koi fish بھی موجود تھیں۔۔وہاں پر پڑا منقش جھولا اور اس پر بیٹھنے کا انتظام بتا رہا تھا کہ شاید ہاجرہ کا زیادہ وقت اسی گوشہ عافیت میں گزرتا تھا۔ جھولے کے پاس ایک درمیانے سائز کا فاونٹین چل رہا تھا جس سے پانی چلنے کی مدھر آواز آرہی تھی ۔جھولے کے اوپر ایک پرگولا بنا ہوا تھا اور اس کے اوپر سنگ مرمر کا کام تھا اور اس کی چھت پر عشق پیچاں،، بوگن ویلا کی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں ۔جھولے کے گدے پر بے شمار پھول گرئے ہوئے تھے ۔ میں سحر زدہ سی ہاجرہ کے ساتھ جھولے پر بیٹھ گئی۔ میں نے ہاجرہ کے پاکیزہ، خوبصورت چہرے کو دیکھا۔ وہ واقعی پرستان کی کوئی پری ہی تھی ،جو راستہ بھٹک کر اس بے رحم دنیا میں آگئی تھی ۔ میں نے ہاجرہ سے بے اختیار پوچھا:
ہاجرہ ! تم سجاول علی خان سے کتنا پیار کرتی ہو؟
وہ چاند کو دیکھ کر کھوئی کھوئی بولی:
"بانو !میرے سینے میں دل نہیں سجاول دھڑکتا ہے۔
میری سانسوں کی مالا میں سجاول کا نام جپا جاتا ہے۔
میری رگوں میں خون نہیں سجاول دوڑتا ہے۔"
میرا دل اس کی پوجا دیکھ کر ڈوب سا گیا۔ شہزادی ہاجرہ عشق کی خاردار وادی میں ننگے پاوں دوڑ رہی تھی، بہت جلد اس دشت ظلمات میں چلتے چلتے شہزادی پتھر کی ہونے والی تھی ۔ میں چاہتی تھی کہ میں ہاجرہ کو چیخ چیخ کر بتاو کہ سجاول علی خان ایک جادوگر ہے ،وہ شہزادی کا جسم اور اس کی روح دونوں کو پامال کر دے گا۔ مجھے اچانک ایک لکھاری منزہ شہزاد کا لکھا ہوا ایک مکالمہ یاد آگیا۔جس کا نام اس لکھاری نے "پیار کی کہانی" رکھا تھا۔وہ مکالمہ میں نے بے اختیار ہی زیرلب دہرایا۔
شہزادی دیکھ!
شہزادے کے جسم میں ہیں پیوست انگنت سوئیاں۔۔۔۔
ان کو چنتے ،چنتے ہوجائنگی تیری نازک انگلیاں فگار،
بالوں میں آجائیں گے چاندی کے تار،
چاند چہرے پر چها جائینگی سلوٹوں کی چادر،
روشن آنکھوں کے دیوں کی لو پڑھ جائیگی مدہم،
گر جو لگ گئی آخر میں تیری آنکھ ۔۔۔
تو لے جائیگی ظالم جادوگرنی تیرا پیار۔۔۔
شہزادی مدہم سے مسکرائی اور کہنے لگی:
اے طبیب! جو بچ جائے کسی بھی صورت
میرا دلدار !
تو منظور ہے مجھے ہر اک ہار۔ ۔ ۔
یہ رنگ روپ ،یہ جوانی ،یہ عمر کے سال۔۔۔۔
سب ہیں میرے شہزادے پر قربان،
اور جو لے گئی شہزادے کو میرے----- ظالم جادوگرنی اپنے ساتھ ،
تب بھی مجھے ہے منظور اپنی یہ ہار،
اگر رہے میرا شہزادہ سلامت ،شاد و آباد ،
تو سودا نہیں یہ بیکار۔
ہاجرہ بے اختیار میرے لبوں سے مکالمہ سن کر مسکرائی اور بولی:
"تو تم بھی وہی سمجھانا چاہتی ہو ،جو فیضان مجھے سمجھاتا ہے۔"
میں حق دق سی ہاجرہ کو دیکھنے لگی ،وہ اداسی سے مسکرائی اور بولی:
"زمین اپنے مدار پر گھومنا بند کرسکتی ہے،یہ سورج طلوع ہونا بھول سکتا ہے ،مگر ہاجرہ ، سجاول علی خان کو چھوڑ نہیں سکتی ۔"
میں بے اختیار ہی چلائئ:
کیوں ہاجو کیوں؟
ہاجرہ دھیرے سے جھولے سے اٹھی اور بولی:
"اس لئے بانو کیونکہ میں سجاول علی خان کی منکوحہ ہوں۔"
شاید زلزلہ بھی آتا تو مجھے اتنا جھٹکا نہیں لگتا،جتنا ہاجرہ کایہ انکشاف سن کر مجھے لگا۔میرا سر گھوم رہا تھا ۔ہاجرہ کمرے میں واپس جاچکی تھی۔ میں مجسمے کی طرح ساکت جھولے پر بیٹھی تھی ۔ظالم جادوگر دانت نکوسے میرا مذاق اڑا رہا تھا۔ باد صبا میرے کانوں میں سرگوشیاں کرکے مجھ سے پوچھ رہی تھیں ۔
"بانو تو اب شہزادی کو کیسے آزاد کروائے گی ؟ شہزادی تو سونے کے پنجرے میں بند ہے۔
(باقی آئندہ )¤¤¤
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178251 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
26 Sep, 2018 Views: 488

Comments

آپ کی رائے