حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سادگی اور حیا کے میدان میں نمونہ

(ظفر اللہ خان, Chanabnagar chaniot)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ کا شرم و حیا کا نمونہ ۔ آج اس معاشرہ سے شرم و حیاء کا معیار گرتا جا رہا ہے ۔ ان حالات میں اپنے بزرگوں کو یاد کرکے اور انکے نمونے کو پیش کر کے ہم لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرسکتے ہیں ۔

امت مسلمہ میں جس شخص کو آنحضرت ﷺ نے سب سے بڑھ کر حیا دار قرار دیا ہے اس کا تذکرہ بھی یہاں کرنا ضروری بنتا ہے ۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میری امت میں ابو بکر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں ، میری امت میں سے عمر دین کے بارے میں بڑے سخت ہیں ، عثمان سب سے بڑھ کر حیا دار ہیں اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو حلال و حرام کا علم سب سے زیادہ ہے۔
(مسند احمدحدیث نمبر 11884)

ابو جمیع سالم سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : حسن نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے شدت حیا کا تذکرہ کیا اور کہا : وہ گھر میں ہوتے اور دروازہ بند ہوتا ، تب بھی اپنے اوپر پانی ڈالنے کے لیے کپڑا نہیں اتارتے تھے اور حیا ء کی وجہ سے وہ اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرپاتے تھے ۔
(مسند احمد حدیث نمبر 12251)

سید ہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ران سے کپڑ ا ہٹا کر بیٹھے ہوئے تھے ، اسی اثنا میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ، آپ نے انہیں اجازت دے دی ، جبکہ آپ اسی طرح رہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی ، آپ اسی طرح ہی رہے ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ نے اپنی ران پر کپڑا ڈال لیا ۔ جب یہ سارے لوگ چلے گئے تو میں نے آپ ﷺ سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! جب ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ اسی حالت پر بیٹھے رہے ، لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو آپ نے (ران پر )کپڑا ڈال لیا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : عائشہ : میں اس آدمی سے حیا کیوں نہ کروں کہ اللہ کی قسم فرشتے بھی جس سے حیا کرتے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ظفر اللہ خان

Read More Articles by ظفر اللہ خان: 4 Articles with 1566 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2018 Views: 338

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ